Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

59 - 627
(٤) قال ]القدوری[و المفروض فی مسح الرأس مقدار الناصیة :و ھو ربع الرأس، لماروی المغیرة بن شعبة  ان النبی  ۖ اتی سباطة قوم فبال، و توضأ، و مسح علی ناصیتہ، و خفیہ۔ )  ١  والکتاب مجمل فالتحق بیانا بہ 

ہو سکتی ۔
لغت  : ۔ کعوبا : پستان کا ابھرنا ۔ ناتی : ابھرا ہوا  ۔  
 ترجمہ :(٤) اور فرض سر کے مسح میں پیشانی کی مقدار ہے اور وہ چوتھائی سر ہے۔ کیونکہ مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ۖ قوم کے کوڑے پر تشریف لائے اور پیشاب کیا اور وضوء فرمایا اور پیشانی پر مسح فرمایا اور دونوں موزوں پر مسح فرمایا۔
 ترجمہ :  ١  آیت میں سر پر مسح کرنے کا ذکر ہے لیکن یہ تفصیل مذکور نہیں ہے کہ سر کے کتنے حصے پر مسح کرنا فرض ہے ۔چوتھائی سر ،یا پورا سر ،یا سر کا کچھ حصہ ؟ تو متن میں فرمایا کہ حدیث سے کم سے کم مقدار  کا جو پتہ چلتا ہے وہ پیشانی کی مقدار ہے جو سر کی چوتھائی حصے کے قریب قریب ہے ۔ 
وجہ:  مغیرہ بن شعبہ کی حدیث متن میں مذکور ہے جسکی عبارت مسلم شریف میں یہ ہے عن عروة بن المغیرة بن شعبة ،عن ابیہ قال : تخلف رسول اللہ  ۖ و تخلفت معہ،فلما قضی حاجتہ .....ومسح  بناصیتہ ،و علی العمامة ،و علی خفیہ ،(مسلم شریف ، باب المسح  علی الناصیة ،و العمامة ،ص ١٣٤ نمبر ٢٧٤ ٦٣٣ ،ابوداود شریف باب المسح علی الخفین ،ص ٢٢ نمبر ١٥٠ )  اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیشانی کے قریب جو بال ہے آپ ۖ  نے اس پر مسح فرما یا اور وہ چوتھائی سرکی مقدار ہے اسلئے چوتھائی سر پر مسح کرنا فرض ہو گا ۔... (٢)  اس کی تفسیر دوسری حدیث میں ہے  کہ آپ ۖ نے سر کے اگلے حصے پر مسح فرمایا جو چوتھائی سر ہوتا ہے ۔حدیث یہ ہے عن ابن المغیرة عن ابیہ : ان نبی اللہ  ۖ مسح علی الخفین ،و مقدم رأسہ ، و علی عمامتہ۔(مسلم شریف، باب المسح علی الناصیة والعمامة ص ١٣٤ نمبر ٢٧٤  ٦٣٤  ابوداؤد شریف، باب المسح علی العمامة ،ص ٢٢، نمبر ١٤٧) جب سر کے صرف اگلے حصے پر مسح کیا تو پتہ یہ چلا کہ پورے سر کا مسح کرنا فرض نہیں ہے، بلکہ مستحب ہے۔ کیونکہ پورے سر کا مسح فرض ہوتا تو صرف پیشانی کی مقدار یا اگلے حصے پر مسح کرنا کافی نہیں ہوتا۔اس لئے حنفیہ کے نزدیک چوتھائی سراور پیشانی کی مقدار پر مسح کرنا فرض ہے۔ اور پورے سر پر مسح کرنا سنت ہے۔
 (٢) آیت میں سر کا مسح کرنا فرض ہے لیکن کتنی مقدار فرض ہے آیت سے اس کا پتہ نہیں چلتا ہے ۔آیت اس بارے میں مجمل ہے۔اب حدیث نے اس کی تفسیر کی ہے کہ کم سے کم مقدار پیشانی کے برابر ہے۔ اس سے کم مقدار کا کسی حدیث سے پتہ نہیں چلتا ہے۔ اس لئے کم سے کم یہ مقدار فرض ہوگی(٣) ستر عورت چوتھائی کھل جائے تو نماز ٹوٹ جائے گی ۔ حج کے موقع پر احرام کی حالت 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter