Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

598 - 627
(٣٩٧) ومن امّ رجلاواحد افاحدث  وخرج من المسجد فالماموم امام نوی اولم ینو)   ١  لما فیہ من صیانة الصلوٰة وتعیین الاول لقطع المزاحمة ولا مزاحمة 

ہوگی۔(٢)عن ابی ھریرة عن النبی  ۖ دخل المسجد فدخل رجل فصلی ثم جاء فسلم علی النبی  ۖ فرد النبی  ۖ علیہ السلام فقال: ارجع فصل فانک لم تصل ....ثم ارکع حتی تطمئن راکعا ً ثم ارفع حتی تعتدل قائما ، ثم اسجد حتی تطمئن ساجدا ً ثم ارفع حتی تطمئن جالساً ، ثم اسجد حتی تطمئن ساجدا ، ثم افعل ذالک فی صلاتک کلھا ۔  (بخاری شریف ، باب امر النبی ۖ الذی لا یتم رکوعہ بالاعادة ص ١٠٩ نمبر ٧٩٣ترمذی شریف، باب ماجاء فی من لا یقیم صلبہ فی الرکوع ولاالسجود ص ٦١ نمبر ٢٦٥) ابو داود شریف میں اس حدیث کے آخر میں یہ بھی زیادہ ہے ۔ و قال فی آخرہ : اذا فعلت ھذا فقد تمت صلاتک ، و ما انتقصت َمن ھذا شیئاً فانما انتقصتہ من صلاتک ۔( ابو داؤد شریف ،باب صلوة من لا یقیم صلبہ فی الرکوع والسجود ص ١٣١ نمبر ٨٥٥ ) اس  حدیث  میں تعدیل ارکان نہ کر نے کی وجہ سے نماز لوٹانے کا حکم دیا ۔ اس حدیث سے حضرت  امام ابو یوسف  اورامام شافعی  ثابت کر تے ہیں کہ تعدیل ارکان فرض ہے ۔ کیونکہ تعدیل ارکان نہ کرنے کی وجہ سے حضورۖ نے نماز لوٹانے کا حکم دیا۔ 
ترجمہ: (٣٩٧) کسی نے ایک ہی مرد کی امامت کی پھر حدث ہو گیا اور مسجد سے نکل گیا تو مقتدی خود ہی امام بن جائیگا امام نے اسکو امام بنانے کی نیت کی ہو یا نہ کی ہو ۔
 تشریح: امام کا ایک ہی مرد مقتدی تھا اور امام کو حدث ہو گیا اور اس مرد کو امام بنائے بغیر مسجد سے نکل گیا تو یہ مقتدی خود ہی اپنا امام بن جائے گا۔ 
وجہ : (١) کسی کو با ضابطہ امام بنانے کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب کہ کئی آدمی مقتدی ہو تو ان میں سے ایک کو متعین کیا جائے ، لیکن اگر ایک ہی ہو تو اس وقت تعین کی ضرورت نہیں ہے خود ہی وہ امام اپنا متعین ہو جائے گا۔ (٢) اثر میں اسکا ثبوت ہے ۔عن الزھری أن معاویة صلی بالناس فرکع ، ثم طعن و ھو ساجد أو راکع ، فسلم ثم قال :أتموا صلوتکم فصلی کل رجل لنفسہ ، و لم یقدم احداً ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب الامام یحدث فی صلوتہ ، ج ثانی ،ص ٣٥٦، نمبر ٣٦٨٧ سنن بیھقی باب الامام یخرج و لا یستخلف ، ج ثالث ، ص ١٦٢ ، نمبر ٥٢٥٩) اس اثر میں ہے کہ حضرت معاویہ  نے کسی کو خلیفہ نہیںبنا یا بلکہ خود بخود ہر ایک اپنا اپنا امام بن گئے ۔
ترجمہ:  ١  اسلئے کہ اس میںاپنی نماز کو بچانا ہے ۔  اور ایک کو متعین کر نا مزاحمت کو منقطع کر نے کے لئے ہے اور ایک آدمی میں کوئی مزاحمت نہیں ہے ۔
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter