١ لان الترتیب فی افعال الصلوٰة لیس بشرط ٢ ولان الانتقال مع الطہارة شرط وقدوجد ٣ وعن ابی یوسف انہ یلزمہ اعادة الرکوع لان القومة فرض عندہ
ہے ، اس سجدے سے سر اٹھایا اور سجدہ تلاوت کر لیا ، تو چونکہ نماز کے سجدے سے سر اٹھا کر اس سجدے کو پورا کر لیا ہے اسکے بعد تلاوت کا سجدہ کیا ہے اسلئے نماز کے سجدے کو دوبارہ کر نے کی ضرورت نہیں ہے ، کیونکہ طہارت کے ساتھ سجدے سے منتقل ہو گیا تو وہ سجدہ ادا ہو گیا اسکو دوبارہ ادا کر نا لازم نہیں ہے ، البتہ نماز کے سجدوں کے درمیان ترتیب باقی رکھنے کے لئے دوبارہ سجدہ کر لے تو بہتر ہے ۔۔ نماز کے افعال کے درمیان ترتیب شرط نہیںہے اسکی کھلی مثال یہ ہے کہ مسبوق امام کے ساتھ ملتا ہے تو پہلے آخیر کی رکعت پڑھتا ہے اور شروع کی رکعت امام سے فارغ ہو نے کے بعد پڑھتا ہے، جس سے معلوم ہوا کہ نماز کے افعال کے درمیان ترتیب شرط نہیں ہے ۔
اصول : طہارت کے ساتھ کسی رکن سے منتقل ہو گیا تو وہ رکن ادا ہو گیا ۔
ترجمہ : ١ اسلئے کہ نماز کے افعال میںترتیب شرط نہیں ہے ۔ تفصیل ابھی ایک سطر اوپر گزر گئی ۔
ترجمہ : ٢ اور اسلئے کہ طہارت کے ساتھ رکن سے منتقل ہو نا شرط ہے ، اور وہ پایا گیا ۔
تشریح : کوئی رکن مثلا رکوع ادا کرہا ہو اور طہارت کے ساتھ اس سے منتقل ہو گیا اور دوسرے رکن کی طرف چلا گیا ، اور اس رکن کے اندر حدث نہیںکیا تو وہ رکن ادا ہو گیا ، اوپر کے مسئلے میںرکوع سے منتقل ہو گیا ہے اورسجدے سے منتقل ہو گیا ہے اسلئے وہ دونوں ادا ہوگئے ۔
ترجمہ : ٣ اور امام ابو یوسف سے روایت ہے کہ رکوع کا لوٹانا اسکو لازم ہو گا ، اسلئے کہ قومہ انکے نزدیک فرض ہے ۔
تشریح : حضرت امام ابو یوسف کی ایک روایت ہے کہ نمازی رکوع میں جھکے جھکے تلاوت کے سجدے میں چلا گیا تو وہ رکوع ادا نہیں ہوا اسکو دوبارہ ادا کر نا چاہئے ، اسکی وجہ یہ ہے کہ رکوع کے بعد کھڑا ہو نا جسکو قومہ کہتے ہیں انکے نزدیک فرض ہے ، اور اس فرض کو ادا نہیں کیا کیونکہ جھکے جھکے وہ سجدے میں چلا گیا تھا ، اسلئے رکوع ادا نہیں ہوا اس لئے اس رکوع کو دوبارہ ادا کر نا چاہئے ۔ انکے نزدیک قومہ فرض ہے اسکی تفصیل باب صفة الصلوة ،مسئلہ نمبر ٢٨١ میںگزر چکا ہے ، انکے یہاں قومہ فرض ہو نے کی دلیل یہ حدیث ہے ۔ عن ابی مسعود الانصاری قال قال رسول اللہ ۖ لا تجزیٔ صلوة لا یقیم الرجل فیھا صلبہ فی الرکوع و فی السجود (ترمذی شریف، باب ماجاء فی من لا یقیم صلبہ فی الرکوع ولاالسجود ص ٦١ نمبر ٢٦٥ ابو داؤد شریف ،باب صلوة من لا یقیم صلبہ فی الرکوع والسجود ص ١٣١ نمبر ٨٥٥ بخاری شریف ، باب امر النبی ۖ الذی لا یتم رکوعہ بالاعادة ص ١٠٩ نمبر ٧٩٣) ان احادیث سے امام ابو یوسف کے نزدیک تعدیل الارکان کوفرض قرار دیتے ہیں ۔کیونکہ اس کے بغیر نماز کافی نہیں