Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

596 - 627
 ١   لانہ یمکنہ الاتمام بالاستدامة (٣٩٦) ولو تذکر وہو راکع او ساجد ان علیہ سجدة فانحطّ من رکوعہ لہا اورفع رأسہ من سجودہ فسجدہا یعیدالرکوع والسجود)   ١    وہذا بیان الاولیٰ لتقع الافعال مرتبة بالقدر الممکن   وان لم یعد اجزاہ )

میں ہے کہ حضور ۖ نے وہاں  سے قرأت شروع کی جہاں سے حضرت ابو بکر  نے چھوڑا تھا ، اسلئے اسی رکن پر استدامت کرے جس رکن میںامام کو حدث پیش آیا ہے ۔ (٣) یہ اثر بھی گزرا کہ اسی آیت سے شروع کرے جہاں حدث پیش آیا ہے ۔ اثر یہ ہے۔ عن سلمان قال : اذا أحدث أحدکم فی الصلوة فلینصرف غیر داع لصنعہ فلیتوضأ ثم لیعد فی آیتہ التی کان یقرأ ۔  ( مصنف ابن ابی  شیبة ، ٤٤٨، فی الذی یقیء أو یرعف فی الصلوة ، ج ثانی ، ص ١٢ ، نمبر ٥٩٠٢) اس اثر میں ہے کہ اس آیت سے دوبارہ شروع کرے جسکو وہ پڑھتا تھا ۔
ترجمہ :   ١   اسلئے کہ اس رکوع کو دوام کے ساتھ پورا کر نا ممکن ہے ۔ 
تشریح :  یہ دلیل عقلی ہے ، کہ مثلا رکوع پر دوام کیا جا سکتا ہے ، اور امام نے رکوع میں خلیفہ بنایا تو رکوع ہی سے رکن شروع کیا جا سکتا ہے اسلئے رکوع ہی سے شروع کرے اور اسی پر استدامت کرے ۔ 
ترجمہ :(٣٩٦)  رکوع میں کسی کو یاد آیا، یا سجدہ میں یاد آیا کہ اس پر کوئی اور سجدہ ہے ، پس رکوع ہی سے وہ سجدے کے لئے جھک گیا ، یا سجدے سے سر اٹھایا اور اس سجدے کو کر لیا تو رکوع اور سجدے کو لوٹائے گا ۔ 
 ترجمہ :  ١   یہ افضل کا بیان ہے تاکہ ممکن مقدار تک افعال مرتب واقع ہو جائے ۔  اور اگر رکوع سجدے کو نہ لوٹائے تب بھی کافی ہو جائے گا ۔
تشریح :  امام ابو حنیفہ  کے نزدیک یہ مسئلہ اس قاعدے پر ہے کہ طہارت کے ساتھ کسی رکن کو ادا کر کے اس سے منتقل ہو گیا تو وہ رکن ادا ہو گیا ، اب دوبارہ اس رکن کو ادا کر نے کی ضرورت نہیں ہے ۔ البتہ ارکان کے درمیان ترتیب باقی رکھنے کے لئے دوبارہ اس رکن کو ادا کر لے تو بہتر ہے ۔ اب مسئلے کی تشریح یہ ہے کہ ایک آدمی رکوع میں تھا کہ اسکو یاد آگیا کہ اس نے سجدہ تلاوت کیا تھا اسکا سجدہ باقی تھا ، اب رکوع سے کھڑا نہیں ہوا اور رکوع میں جھکا ہوا تھا کہ اس سے سر نہیں اٹھایا بلکہ جھکے ہوئے سے ہی نیچے سجدے میں چلا گیا اور تلاوت کا سجدہ ادا کر لیا ، تو اس رکوع کو دوبارہ ادا کر نا لازم نہیں ہے ۔ 
وجہ :  کیونکہ طہارت کے ساتھ اس رکوع سے منتقل ہو چکا تھا اسلئے وہ رکوع ادا ہو گیا ، اسلئے اس کو دوبارہ ادا کر نا لازم نہیں ہے ، پہلا رکوع ہی کافی ہے ۔ البتہ دوبارہ رکوع ادا کرے اور جو نماز پڑھ رہا تھا اس رکوع کے بعد اسکا سجدہ ادا کرے تو بہتر ہے ، تاکہ رکوع کے بعد ترتیب کے ساتھ سجدہ ادا ہو جائے ۔  دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی نماز کے سجدے میں تھا کہ اسکو یاد آیا کہ مجھپرسجدہ تلاوت باقی 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter