١ لانہ یمکنہ الاتمام بالاستدامة (٣٩٦) ولو تذکر وہو راکع او ساجد ان علیہ سجدة فانحطّ من رکوعہ لہا اورفع رأسہ من سجودہ فسجدہا یعیدالرکوع والسجود) ١ وہذا بیان الاولیٰ لتقع الافعال مرتبة بالقدر الممکن وان لم یعد اجزاہ )
میں ہے کہ حضور ۖ نے وہاں سے قرأت شروع کی جہاں سے حضرت ابو بکر نے چھوڑا تھا ، اسلئے اسی رکن پر استدامت کرے جس رکن میںامام کو حدث پیش آیا ہے ۔ (٣) یہ اثر بھی گزرا کہ اسی آیت سے شروع کرے جہاں حدث پیش آیا ہے ۔ اثر یہ ہے۔ عن سلمان قال : اذا أحدث أحدکم فی الصلوة فلینصرف غیر داع لصنعہ فلیتوضأ ثم لیعد فی آیتہ التی کان یقرأ ۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، ٤٤٨، فی الذی یقیء أو یرعف فی الصلوة ، ج ثانی ، ص ١٢ ، نمبر ٥٩٠٢) اس اثر میں ہے کہ اس آیت سے دوبارہ شروع کرے جسکو وہ پڑھتا تھا ۔
ترجمہ : ١ اسلئے کہ اس رکوع کو دوام کے ساتھ پورا کر نا ممکن ہے ۔
تشریح : یہ دلیل عقلی ہے ، کہ مثلا رکوع پر دوام کیا جا سکتا ہے ، اور امام نے رکوع میں خلیفہ بنایا تو رکوع ہی سے رکن شروع کیا جا سکتا ہے اسلئے رکوع ہی سے شروع کرے اور اسی پر استدامت کرے ۔
ترجمہ :(٣٩٦) رکوع میں کسی کو یاد آیا، یا سجدہ میں یاد آیا کہ اس پر کوئی اور سجدہ ہے ، پس رکوع ہی سے وہ سجدے کے لئے جھک گیا ، یا سجدے سے سر اٹھایا اور اس سجدے کو کر لیا تو رکوع اور سجدے کو لوٹائے گا ۔
ترجمہ : ١ یہ افضل کا بیان ہے تاکہ ممکن مقدار تک افعال مرتب واقع ہو جائے ۔ اور اگر رکوع سجدے کو نہ لوٹائے تب بھی کافی ہو جائے گا ۔
تشریح : امام ابو حنیفہ کے نزدیک یہ مسئلہ اس قاعدے پر ہے کہ طہارت کے ساتھ کسی رکن کو ادا کر کے اس سے منتقل ہو گیا تو وہ رکن ادا ہو گیا ، اب دوبارہ اس رکن کو ادا کر نے کی ضرورت نہیں ہے ۔ البتہ ارکان کے درمیان ترتیب باقی رکھنے کے لئے دوبارہ اس رکن کو ادا کر لے تو بہتر ہے ۔ اب مسئلے کی تشریح یہ ہے کہ ایک آدمی رکوع میں تھا کہ اسکو یاد آگیا کہ اس نے سجدہ تلاوت کیا تھا اسکا سجدہ باقی تھا ، اب رکوع سے کھڑا نہیں ہوا اور رکوع میں جھکا ہوا تھا کہ اس سے سر نہیں اٹھایا بلکہ جھکے ہوئے سے ہی نیچے سجدے میں چلا گیا اور تلاوت کا سجدہ ادا کر لیا ، تو اس رکوع کو دوبارہ ادا کر نا لازم نہیں ہے ۔
وجہ : کیونکہ طہارت کے ساتھ اس رکوع سے منتقل ہو چکا تھا اسلئے وہ رکوع ادا ہو گیا ، اسلئے اس کو دوبارہ ادا کر نا لازم نہیں ہے ، پہلا رکوع ہی کافی ہے ۔ البتہ دوبارہ رکوع ادا کرے اور جو نماز پڑھ رہا تھا اس رکوع کے بعد اسکا سجدہ ادا کرے تو بہتر ہے ، تاکہ رکوع کے بعد ترتیب کے ساتھ سجدہ ادا ہو جائے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی نماز کے سجدے میں تھا کہ اسکو یاد آیا کہ مجھپرسجدہ تلاوت باقی