١ لان اتمام الرکن بالانتقال ومع الحدث لایتحقق فلا بدمن الاعادة (٣٩٥)و لو کان اماماً فقدم غیرہ دام المقدم علی الرکوع )
ترجمہ : ١ اسلئے کہ رکن منتقل ہو نے سے پورا ہو تا اور حدث کی وجہ سے یہ متحقق نہیں ہوا اسلئے اس رکن کو لوٹانا ضروری ہے ۔
تشریح :کسی کو رکوع ، یا جس سجدے میں حدث پیش آیا تو وہ وضو کرے گا اور اس پر بناء کرے گا ، اور جس رکوع میں یا جس سجدے میںحدث پیش آیا تو وہ رکوع یا وہ سجدہ ادا نہیں ہو ا اسکو دوبارہ ادا کرے اور وہیں سے بناء کرے ۔
وجہ : (١) اسکی وجہ یہ ہے کہ کوئی رکن اس وقت پورا ہو تا ہے جب اس سے منتقل ہو جائے اور یہاں اس سے منتقل ہو نے کا موقع نہیں ملاکیونکہ اس میں حدث پیش آگیا ، اسلئے وہ رکن شمار نہیں کیا جائے گا اسکو دوبارہ ادا کرے ۔(٢) اس اثر میں اسکا اشارہ ہے ۔ عن سلمان قال : اذا أحدث أحدکم فی الصلوة فلینصرف غیر داع لصنعہ فلیتوضأ ثم لیعد فی آیتہ التی کان یقرأ ۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، ٤٤٨، فی الذی یقیء أو یرعف فی الصلوة ، ج ثانی ، ص ١٢ ، نمبر ٥٩٠٢) اس اثر میں ہے کہ اس آیت سے دوبارہ شروع کرے جسکو وہ پڑھتا تھا جس کے اشارے سے معلوم ہوا کہ وہ قیام شمار نہیںہوا جس میں اسکو حدث پیش آیا اسلئے وہ آیت بھی دوبارہ پڑھے اور قیام بھی دوبارہ کرے ۔ اسی پر قیاس کر تے ہوئے وہ رکوع اور سجدہ بھی شما ر نہیں کیا جائے گا جس میں حدث پیش آیا ہے ۔
ترجمہ :(٣٩٥) اگر امام ہے اور حدث ہو نے کے بعد دوسرے کو آگے بڑھایا تو آگے بڑھنے والا رکوع پر ہی دوام کرے ۔
تشریح : امام کو مثلا رکوع میں حدث ہوا اور رکوع ہی میں کسی کو خلیفہ بنایا تو خلیفہ شروع سے رکوع نہ کرے بلکہ جھکے جھکے رکوع ہی میں جائے اور رکوع کی مقدار مثلا تین تسبیح کے برابررکوع میں رہے اور رکوع پورا کر کے آگے کے اعمال کرے ، اسی کو٫ استدامت علی الرکوع ، کہتے ہیں ۔ یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ امام کو جس رکن میں حدث ہوا ہے اسی رکن سے خلیفہ شروع کرے ۔ اس سے پہلے سے بھی شروع نہ کرے اور بعد سے بھی نہ کرے ۔
وجہ : (١) اس رکن سے پہلے سے شروع کر نے کی ضرورت اس لئے نہیں ہے کہ وہ رکن تو امام ہی ادا کر چکا ہے ۔ اورحدث والے رکن کے بعدسے اسلئے شروع نہ کرے کہ خود حدث والا رکن ابھی ادا نہیںہوا ہے ، اسلئے جس رکن میں حدث ہوا ہے اسی رکن پر استدامت کر کے اسی رکن سے شروع کرے ۔(٢) حدیث میںہے کہ حضور ۖ نے وہیں سے قرأت شروع کی جہاں سے حضرت ابو بکر نے چھوڑا تھا ، حدیث کا ٹکڑا یہ ہے ۔ فذھب ابو بکر یتأخر ، فأشار الیہ بیدہ مکانک فاستفتح النبی ۖ من حیث انتھی ابو بکر من القرآن ۔ ( سنن بیھقی ، باب ما روی فی صلوة الاماموم قائما ،الخ ، ج ثالث ، ص ١١٥، نمبر ٥٠٧٨ مصنف ابن ابی شیبة ،٤٤٧، فی الرجل قدم الرجل یبدأ بالقرأة أو یقرأ من حیث انتھی ، ج ثانی ، ص ١٢ ، نمبر ٥٨٩٥)اس حدیث