Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

595 - 627
١   لان اتمام الرکن بالانتقال ومع الحدث لایتحقق فلا بدمن الاعادة (٣٩٥)و لو کان اماماً فقدم غیرہ دام المقدم علی الرکوع ) 

ترجمہ :   ١  اسلئے کہ رکن منتقل ہو نے سے پورا ہو تا اور حدث کی وجہ سے یہ متحقق نہیں ہوا اسلئے اس رکن کو لوٹانا ضروری ہے ۔
تشریح :کسی کو رکوع ، یا جس سجدے میں حدث پیش آیا  تو وہ وضو کرے گا اور اس پر بناء کرے گا ، اور جس رکوع میں یا جس سجدے میںحدث پیش آیا تو وہ رکوع یا وہ سجدہ ادا نہیں ہو ا اسکو دوبارہ ادا کرے اور وہیں سے بناء کرے ۔
وجہ : (١) اسکی وجہ یہ ہے کہ کوئی رکن اس وقت پورا ہو تا ہے جب اس سے منتقل ہو جائے اور یہاں اس سے منتقل ہو نے کا موقع نہیں ملاکیونکہ اس میں حدث پیش آگیا ، اسلئے وہ رکن شمار نہیں کیا جائے گا اسکو دوبارہ ادا کرے ۔(٢) اس اثر  میں اسکا اشارہ ہے ۔ عن سلمان قال : اذا أحدث أحدکم فی الصلوة فلینصرف غیر داع لصنعہ فلیتوضأ ثم لیعد فی آیتہ التی کان یقرأ ۔  ( مصنف ابن ابی  شیبة ، ٤٤٨، فی الذی یقیء أو یرعف فی الصلوة ، ج ثانی ، ص ١٢ ، نمبر ٥٩٠٢) اس اثر میں ہے کہ اس آیت سے دوبارہ شروع کرے جسکو وہ پڑھتا تھا جس کے اشارے سے معلوم ہوا کہ وہ قیام شمار نہیںہوا جس میں اسکو حدث پیش آیا  اسلئے وہ آیت بھی دوبارہ پڑھے اور قیام بھی دوبارہ کرے ۔ اسی پر قیاس کر تے ہوئے وہ رکوع اور سجدہ بھی شما ر نہیں کیا جائے گا جس میں حدث پیش آیا ہے ۔
ترجمہ :(٣٩٥)  اگر امام ہے اور حدث ہو نے کے بعد دوسرے کو آگے بڑھایا تو آگے بڑھنے والا رکوع پر ہی دوام کرے ۔
تشریح :  امام کو مثلا رکوع میں حدث ہوا اور رکوع ہی میں کسی کو خلیفہ بنایا تو خلیفہ شروع سے رکوع نہ کرے بلکہ جھکے جھکے رکوع ہی میں جائے اور رکوع کی مقدار مثلا تین تسبیح کے برابررکوع میں رہے اور رکوع پورا کر کے آگے کے اعمال کرے ، اسی کو٫ استدامت علی الرکوع ، کہتے ہیں ۔ یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ امام کو جس رکن میں حدث ہوا ہے اسی رکن سے خلیفہ شروع کرے ۔ اس سے پہلے سے بھی شروع نہ کرے اور بعد سے بھی نہ کرے ۔  
وجہ :  (١) اس رکن سے پہلے سے شروع کر نے کی ضرورت اس لئے نہیں ہے کہ وہ رکن تو امام ہی ادا کر چکا ہے ۔ اورحدث والے رکن کے بعدسے اسلئے شروع نہ کرے کہ خود حدث والا رکن ابھی ادا نہیںہوا ہے ، اسلئے جس رکن میں حدث ہوا ہے اسی رکن پر استدامت کر کے اسی رکن سے شروع کرے ۔(٢) حدیث میںہے کہ حضور ۖ نے وہیں سے قرأت شروع کی جہاں سے حضرت ابو بکر  نے چھوڑا تھا ، حدیث کا ٹکڑا یہ ہے ۔ فذھب ابو بکر  یتأخر ، فأشار الیہ بیدہ مکانک فاستفتح النبی  ۖ من حیث انتھی ابو بکر من القرآن ۔ ( سنن بیھقی ، باب ما روی فی صلوة الاماموم قائما ،الخ ، ج ثالث ، ص ١١٥، نمبر ٥٠٧٨ مصنف ابن ابی شیبة ،٤٤٧،   فی الرجل قدم الرجل یبدأ بالقرأة أو یقرأ من حیث انتھی ، ج ثانی ، ص ١٢ ، نمبر ٥٨٩٥)اس حدیث 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter