٥ بخلاف السلام لانہ مُنہٍ والکلام فی معناہ۔ ٦ وینتقض وضوء الامام لوجود القہقة فی حرمة الصلوة(٣٩٤) ومن احدث فی رکوعہ اوسجودہ توضأ وبنی ولا یعتد بالتی احدث فیہا)
گی اسلئے اسکی نماز فاسد ہو گئی ۔
ترجمہ: ٥ بخلاف سلام کے اسلئے کہ وہ نماز کو پورا کر نے والا ہے ، اور کلام بھی سلام ہی کے معنی میں ہے ۔
تشریح : یہ صاحبین کے استدلال کا جواب ہے ۔انہوں نے فرمایا تھا کہ جس طرح امام تشہد کے بعد سلام کرے اور بات کرے تو مسبوق کی نماز فاسد نہیں ہو تی ، اسی طرح حدث اور قہقہہ لگائے گا تو فاسد نہیں ہو گی ۔ اسکا جواب یہ ہے کہ جان کر حدث کر نے میں اور سلام اور کلام کر نے میں فرق ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ تشہد کے بعد امام سلام کرے گا تو نماز سنت کے طریقے پر پوری ہو جائے گی ، خود امام کی نماز اس سے فاسد نہیں ہو گی ،سلام تو نماز کو پورا کر نے والا ہے ، اسلئے مسبوق کی نماز فاسد نہیں ہو گی ۔ منہ : کا ترجمہ ہے پورا کر نے والا ۔ اور تشہد کے بعد امام نے کلام اور بات کی جس سے اسکی نماز ختم ہو ئی تو کلام بھی ایک گونہ سلام کی طرح ہے ، کیونکہ سلام ٫ السلام علیکم ، میں قوم کو خطاب ہے ، اور بات میں بھی قوم کو خطاب ہے اسلئے کلام ایک گونہ سلام کے درجے میں ہے اسلئے تشہد کے بعد امام کے کلام کر نے سے مسبوق کی نماز فاسد نہیںہو گی ۔ اور جان کر حدث اور قہقہہ سلام کے درجے میں نہیں ہیں، ان میں تو بڑی بد تمیزی ہے اس لئے ان سے مسبوق کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔
ترجمہ : ٦ قہقہہ کی وجہ سے امام کا وضو ٹوٹ جائے گا قہقہہ حرمت نماز میں پائے جانے کی وجہ سے ۔
تشریح : نماز اللہ کے حضور میں سجدہ ریز ہو نا ہے اسلئے اسکی حرمت ہے عزت اور احترام ہے ۔ایسی حرمت و عزت کے دوران قہقہہ جیسی بد تمیزی کرے گا تو امام کی نماز ٹوٹ جائے گی اور وضو بھی ٹوٹ جائے گے ۔ اسکے لئے حدیث یہ ہے ۔عن عمران بن حصین قال : سمعت ُ رسول اللہ ۖ یقول : من ضحک فی الصلوة قرقرة فلیعد الوضوء و الصلوة ۔ ( دار قطنی ، باب أحادیث القھقہة فی الصلوة و عللھا ، ج اول ، ص ١٧٢، نمبر٦٠٢) اس حدیث سے معلوم ہواکہ قہقہ مار کر ہنسے گا تو نماز بھی ٹوٹے گی اور وضو بھی ٹوٹ جائے گا۔
اصول : یہ مسائل اس اصول پر ہیں کہ کسی کے درمیان نماز میں حدث کر دے تو اسکی نماز فاسد ہو جائے گی ۔ اور تشہد کے بعد حدث واقع ہو تو نقص کے ساتھ نماز پو ری ہو جائے گی ۔
ترجمہ:(٣٩٤) کسی کو اسکے رکوع میں یا اسکے سجدے میں حدث ہوا تو وضو کرے گا اور بناء کرے گا ، اور وہ رکوع یا سجدہ شمار نہیں کیا جائے گا جس میں حدث ہوا ۔