Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

594 - 627
٥   بخلاف السلام لانہ مُنہٍ والکلام فی معناہ۔     ٦   وینتقض وضوء الامام لوجود القہقة فی حرمة الصلوة(٣٩٤) ومن احدث فی رکوعہ اوسجودہ توضأ وبنی  ولا یعتد بالتی احدث فیہا)

گی اسلئے اسکی نماز فاسد ہو گئی ۔ 
ترجمہ:  ٥  بخلاف سلام کے اسلئے کہ وہ نماز کو  پورا کر نے والا ہے ، اور کلام بھی سلام ہی کے معنی میں ہے ۔ 
تشریح :  یہ صاحبین کے استدلال کا جواب ہے ۔انہوں نے فرمایا تھا کہ جس طرح  امام تشہد کے بعد سلام کرے اور بات کرے تو مسبوق کی نماز فاسد نہیں ہو تی ، اسی طرح حدث اور قہقہہ لگائے گا تو فاسد نہیں ہو گی ۔ اسکا جواب یہ ہے کہ جان کر حدث کر نے میں اور سلام اور کلام کر نے میں فرق ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ تشہد کے بعد امام سلام کرے گا تو نماز سنت کے طریقے پر پوری ہو جائے گی ، خود امام کی نماز اس سے فاسد نہیں ہو گی ،سلام تو نماز کو پورا کر نے والا ہے ، اسلئے مسبوق کی نماز فاسد نہیں ہو گی ۔ منہ : کا ترجمہ ہے پورا کر نے والا ۔ اور تشہد کے بعد امام نے کلام اور بات کی جس سے اسکی نماز ختم ہو ئی تو کلام بھی ایک گونہ سلام کی طرح ہے ، کیونکہ سلام ٫ السلام علیکم ، میں قوم کو خطاب ہے ، اور بات میں بھی قوم کو خطاب ہے اسلئے کلام ایک گونہ سلام کے درجے میں ہے اسلئے تشہد کے بعد امام کے کلام کر نے سے مسبوق کی نماز فاسد نہیںہو گی ۔ اور جان کر حدث اور قہقہہ سلام کے درجے میں نہیں ہیں، ان میں تو بڑی بد تمیزی ہے اس لئے ان سے مسبوق کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔ 
ترجمہ : ٦  قہقہہ کی وجہ سے امام کا وضو ٹوٹ جائے گا قہقہہ حرمت نماز میں پائے جانے کی وجہ سے ۔
تشریح :  نماز اللہ کے حضور میں سجدہ ریز ہو نا ہے اسلئے اسکی حرمت ہے عزت اور احترام ہے ۔ایسی حرمت و عزت کے دوران قہقہہ جیسی بد تمیزی کرے گا تو امام کی نماز ٹوٹ جائے گی اور وضو بھی ٹوٹ جائے گے ۔ اسکے لئے حدیث یہ ہے  ۔عن عمران بن حصین قال : سمعت ُ رسول اللہ  ۖ یقول : من ضحک فی الصلوة قرقرة فلیعد الوضوء و الصلوة ۔ ( دار قطنی ، باب أحادیث القھقہة فی الصلوة و عللھا ، ج اول ، ص ١٧٢، نمبر٦٠٢) اس حدیث سے معلوم ہواکہ قہقہ مار کر ہنسے گا تو نماز بھی ٹوٹے گی اور وضو بھی ٹوٹ جائے گا۔  
اصول :  یہ مسائل اس اصول پر ہیں کہ کسی کے درمیان نماز میں حدث کر دے تو اسکی نماز فاسد ہو جائے گی ۔ اور تشہد کے بعد حدث واقع ہو تو نقص کے ساتھ نماز پو ری ہو جائے گی ۔    
 ترجمہ:(٣٩٤) کسی کو اسکے رکوع میں یا اسکے سجدے میں حدث ہوا تو وضو کرے گا اور بناء کرے گا ، اور وہ رکوع یا سجدہ شمار نہیں کیا جائے گا جس  میں حدث ہوا ۔ 
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter