Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

58 - 627
٢ و لنا: ان ھذہ الغایة لاسقاط ماورائھا، اذ لولاھا لأستوعبت الوظیفة الکل،و فی باب الصوم لمد الحکم الیھا، اذ الا سم یطلق علی الامساک ساعة۔ ٣  و الکعب ھو العظم الناتی، ھو الصحیح، و منہ الکاعب۔ 

پائوں کی انگلی سے لیکر کعب (ٹخنے ) تک مغیا ہے اور خود ٹخنہ غایت ہے ۔اب مسئلے کا حاصل یہ ہوگا کہ کہنی اور ٹخنہ جو غایت ہیں وہ دھونے میں داخل نہیں ہیں ۔  
(نوٹ)حضرت امام زفر  نے دلیل عقلی پیش کی ہے تاہم تلاش کے باوجوداسکے لئے  مجھے کوئی حدیث یا اثر نہیں ملا ،واللہ اعلم ۔
 ترجمہ :  ٢    ہمارا جواب یہ ہے کہ یہ غایت مابعد کو ساقط کرنے کے لئے ہے اسلئے کہ یہ اسقاط نہ ہوتا تو دھونا کل ہاتھ اور پائوں کو گھیر لیتا ۔اور روزے کے باب میں حکم کو رات  تک کھیچنے کے لئے ہے  اسلئے کہ روزے کا نام ایک گھنٹہ رکنے پر بھی بولا جاتا ہے ۔
تشریح :  یہاں سے امام زفر  کی دلیل کا جواب ہے ۔فرماتے ہیں کہ انگلی سے لیکر مونڈھے تک کو ہاتھ کہتے ہیں ۔اسلئے اگر آیت میں الی المرافق کی قید نہ ہوتی تو انگلی سے مونڈھے تک دھونا پڑتا ۔اسلئے الی المرافق کہہ کرکہنی سے اوپر کا حصہ دھونے سے ساقط کر دیا ،البتہ خود کہنی دھونے میں شامل رہے گی ۔(اسکو غایت اسقاط ،کہتے  ہیں ) اورروزے کا حال یہ ہے کہ ایک گھنٹے کے روزے کو بھی روزہ کہتے ہیں اسلئے اگر الی اللیل نہ کہتے تو دن بھر کا روزہ نہ ہوتا ۔صبح ہی روزہ ختم ہو جاتا ۔اسلئے الی اللیل کہا تو  روزے کوصبح سے لیکر  شام تک کھینچ دیا ۔اور شام ہوتے ہی روزہ ختم ہو گیا ۔رات روزے میںداخل ہی نہیں ہے ۔اسلئے یہاں الی اللیل روزے کو رات تک کھینچنے کے لئے ہے ۔اسلئے الی کے مابعد جو اللیل ہے وہ روزے میں داخل نہیں ہوگا ۔(اسکو غایت اثبات کہتے ہیں )
لغت :۔ما وراء : جو اسکے بعد ہو جیسے کہنی سے لیکر مونڈھے تک کی جگہ ۔استوعب : وعب سے مشتق ہے ۔سب کو گھیرلے ۔الوظیفة :روزانہ کا مقرر کام ۔یہاں مراد ہے وضو میں دھونا ۔الاسم : نام ۔یہاں مراد ہے روزہ ۔جو ایک گھنٹے پر بھی بولا جاتا ہے ۔امساک : رکنا ۔ساعة : ایک گھنٹہ ،ایک گھڑی ۔
 ترجمہ : ٣  اور کعب :پیر میں ابھری ہوئی ہڈی کو کہتے ہیں ۔یہی صحیح ہے ۔اور اسی لفظ  سے کاعب :(ابھری ہوئی پستان والی)آتا ہے ۔
تشریح :  کعب کا ترجمہ ہے ابھرا ہواہونا ،یا پستان کا ابھرنا ۔آیت میں کعبین کا مطلب ہوگا ہر پیر میں دو ابھری ہوئی ہڈیاں جو ایڑی سے اوپر ہوتی ہیں ۔جسکو ٹخنہ ،کہتے ہیں یہی صحیح ہے ۔اسی سے آتا ہے کاعب : ابھر ی ہوئی پستان والی عورت ۔۔ا مام محمد سے ایک روایت منقول ہے کہ پائوں کے پنجے پر جو ایک ہڈی ابھری ہوئی ہے وہ کعب سے مراد ہے ۔لیکن یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ وہ ہڈی ایک ہی ہے اور آیت میں کعبین تثنیہ کا صیغہ ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ ہر پائوں میں دو ابھری ہوئی ہڈیاں ہونی چاہئے ۔اسلئے وہ مراد نہیں 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter