٢ و لنا: ان ھذہ الغایة لاسقاط ماورائھا، اذ لولاھا لأستوعبت الوظیفة الکل،و فی باب الصوم لمد الحکم الیھا، اذ الا سم یطلق علی الامساک ساعة۔ ٣ و الکعب ھو العظم الناتی، ھو الصحیح، و منہ الکاعب۔
پائوں کی انگلی سے لیکر کعب (ٹخنے ) تک مغیا ہے اور خود ٹخنہ غایت ہے ۔اب مسئلے کا حاصل یہ ہوگا کہ کہنی اور ٹخنہ جو غایت ہیں وہ دھونے میں داخل نہیں ہیں ۔
(نوٹ)حضرت امام زفر نے دلیل عقلی پیش کی ہے تاہم تلاش کے باوجوداسکے لئے مجھے کوئی حدیث یا اثر نہیں ملا ،واللہ اعلم ۔
ترجمہ : ٢ ہمارا جواب یہ ہے کہ یہ غایت مابعد کو ساقط کرنے کے لئے ہے اسلئے کہ یہ اسقاط نہ ہوتا تو دھونا کل ہاتھ اور پائوں کو گھیر لیتا ۔اور روزے کے باب میں حکم کو رات تک کھیچنے کے لئے ہے اسلئے کہ روزے کا نام ایک گھنٹہ رکنے پر بھی بولا جاتا ہے ۔
تشریح : یہاں سے امام زفر کی دلیل کا جواب ہے ۔فرماتے ہیں کہ انگلی سے لیکر مونڈھے تک کو ہاتھ کہتے ہیں ۔اسلئے اگر آیت میں الی المرافق کی قید نہ ہوتی تو انگلی سے مونڈھے تک دھونا پڑتا ۔اسلئے الی المرافق کہہ کرکہنی سے اوپر کا حصہ دھونے سے ساقط کر دیا ،البتہ خود کہنی دھونے میں شامل رہے گی ۔(اسکو غایت اسقاط ،کہتے ہیں ) اورروزے کا حال یہ ہے کہ ایک گھنٹے کے روزے کو بھی روزہ کہتے ہیں اسلئے اگر الی اللیل نہ کہتے تو دن بھر کا روزہ نہ ہوتا ۔صبح ہی روزہ ختم ہو جاتا ۔اسلئے الی اللیل کہا تو روزے کوصبح سے لیکر شام تک کھینچ دیا ۔اور شام ہوتے ہی روزہ ختم ہو گیا ۔رات روزے میںداخل ہی نہیں ہے ۔اسلئے یہاں الی اللیل روزے کو رات تک کھینچنے کے لئے ہے ۔اسلئے الی کے مابعد جو اللیل ہے وہ روزے میں داخل نہیں ہوگا ۔(اسکو غایت اثبات کہتے ہیں )
لغت :۔ما وراء : جو اسکے بعد ہو جیسے کہنی سے لیکر مونڈھے تک کی جگہ ۔استوعب : وعب سے مشتق ہے ۔سب کو گھیرلے ۔الوظیفة :روزانہ کا مقرر کام ۔یہاں مراد ہے وضو میں دھونا ۔الاسم : نام ۔یہاں مراد ہے روزہ ۔جو ایک گھنٹے پر بھی بولا جاتا ہے ۔امساک : رکنا ۔ساعة : ایک گھنٹہ ،ایک گھڑی ۔
ترجمہ : ٣ اور کعب :پیر میں ابھری ہوئی ہڈی کو کہتے ہیں ۔یہی صحیح ہے ۔اور اسی لفظ سے کاعب :(ابھری ہوئی پستان والی)آتا ہے ۔
تشریح : کعب کا ترجمہ ہے ابھرا ہواہونا ،یا پستان کا ابھرنا ۔آیت میں کعبین کا مطلب ہوگا ہر پیر میں دو ابھری ہوئی ہڈیاں جو ایڑی سے اوپر ہوتی ہیں ۔جسکو ٹخنہ ،کہتے ہیں یہی صحیح ہے ۔اسی سے آتا ہے کاعب : ابھر ی ہوئی پستان والی عورت ۔۔ا مام محمد سے ایک روایت منقول ہے کہ پائوں کے پنجے پر جو ایک ہڈی ابھری ہوئی ہے وہ کعب سے مراد ہے ۔لیکن یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ وہ ہڈی ایک ہی ہے اور آیت میں کعبین تثنیہ کا صیغہ ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ ہر پائوں میں دو ابھری ہوئی ہڈیاں ہونی چاہئے ۔اسلئے وہ مراد نہیں