١ و ھو یقول ان الغایة لا تدخل تحت المغیا، کاللیل فی باب الصوم۔
اشرع فی الساق ثم قال ھکذا رأیت رسول اللہ ۖ یتوضأ وقال قال رسول اللہ ۖ انتم الغر المحجلون یوم القیامة من اسباغ الوضوء ممن استطاع منکم فلیطل غرتہ وتحجیلہ(١لف)(مسلم شریف ، باب استحباب اطالة الغرة والتحجیل فی الوضوء ،ص، ١٢٦ نمبر ٢٤٦ ) اس حدیث میں حضرت ابو ہریرہ نے بازو اور پنڈلی کو وضوء میں دھویا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آیت میں مرافق اور کعبین دھونے میں داخل ہیں۔ یہ حدیث آیت کی تفسیر ہے ... (٢)عن جابر بن عبد اللہ قال کان رسول اللہ ۖ اذا توضأ ادار الماء علی مرفقیہ (دار قطنی ، باب وضوء رسول اللہ ۖ، ج اول ، ص ٨٦، نمبر ٢٦٨ سنن للبیہقی ، باب ادخال المرفقین فی الوضوئ،ج اول ، ص ٩٣، نمبر ٢٥٦) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کہنیاں دھونے میں داخل ہیں .... (٣) اثر میں اسکی مکمل صراحت ہے کہ کہنیاں اور ٹخنے دھونے میں داخل ہیں ۔اثر یہ ہے۔ قلت لعطاء : ۔فاغسلوا وجوھکم وایدیکمالی المرافق ۔فیما یغسل ؟قال : نعم ، لا شک فی ذالک ۔(مصنف عبد الرزاق ، جلد اول ، باب غسل الذراعین ،ص٥ نمبر ١) اس اثر میں ہے کہ بلا شبہ مرفقین دھونے میں داخل ہیں ۔(٤) انگلی سے لیکر مونڈھے تک کو ہاتھ کہتے ہیں اس لئے اگر کہنیوں کی قید نہ لگاتے تو مونڈھے تک دھونا فرض ہوتا اس لئے کہنیوں تک دھونے کے لئے کہا تو کہنیوں سے آگے ساقط ہو گیا۔ اور قاعدہ یہ ہے کہ جو عضو آگے کو ساقط کرنے کے لئے آئے وہ اس حکم میں داخل ہوتا ہے۔ اس لئے کہنی دھونے کے حکم میں داخل رہے گی۔ اس طرح رجل (پاؤں) ران تک کو کہتے ہیں ۔ ٹخنہ تک کی قید لگا کر ٹخنہ سے اوپر کو ساقط کیا۔ لیکن خود ٹخنہ دھونے کے حکم میں داخل رہے گا ۔
اصول: جنس ایک ہو تو غایت مغیا میں داخل ہوتا ہے ۔٢۔ جنس دو ہوں تو غایت مغیاء میں داخل نہیں ہوتا ۔جیسے روزے میں رات داخل نہیں ۔
ترجمہ : ١ امام زفر فرماتے ہیں کہ غایت مغیا ء میں داخل نہیں ہوتی ،جیسے روزے کے باب میں رات داخل نہیں ہوتی ۔
تشریح : امام زفر فرماتے ہیں کہ کہنیاں اور ٹخنے دھونے میں داخل نہیں ہیں ۔یعنی اگر کہنیوں اور ٹخنوں تک دھویا اور خود کہنیوں اور ٹخنوں کو نہیں دھویا تو وضوء ہو جائیگا۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ ثم اتموا الصیام الی اللیل ، آیت ١٨٧ سورة البقرة ٢ : روزے کو رات تک پورا کرو لیکن خود رات روزے میں داخل نہیں ہے ۔ اسی طرح الی المرافق اور الی الکعبین میں۔ الی کے مابعد مرافق اور کعبین دھونے میں داخل نہیں ہونگے۔
لغت : غایة:جہاں تک کرنے کے لئے کہا اسکی انتہاء کو غایت کہتے ہیں ،جیسے روزہ رات تک رکھنے کے لئے کہا تو رات غایت ہوئی ،اور اس سے پہلے جو دن ہے اسکو مغیا،کہتے ہیں ۔انگلی سے لیکر کہنی تک مغیا ہوگا اور خود مرفق (کہنی)غایت ہے ۔اسی طرح