(٣٨٢)وان حصر الامام عن القرا ة فقدم غیر ہ اجزاہم عند ابی حنفیة وقالا لا یجزیہم) ١ لانہ یندروجودہ فاشبہ الجنابة ٢ ولہ ان الاستخلاف بعلة العجز وہو ہنا الزم ٣ والعجز عن القراء ة
ناقض وضو ہے۔
ترجمہ: (٣٨٢)اگر امام قرأت سے رک گیا جسکی وجہ سے دوسرے کو آگے بڑھایا تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک لوگوں کو یہ کافی ہے ، اور صاحبین نے فرمایا کہ لوگوں کو یہ کافی نہیں ہے ۔
تشریح : امام کو قرآن یاد تھا لیکن نماز میں کھڑا ہواتو بہت کوشش کے باوجود اب ایک آیت بھی نہیں پڑھ سکا ، اگر ایک لمبی آیت یا تین چھوٹی آیت پڑھ لیتا تو نماز ہو جاتی اسلئے اب خلیفہ بنانے کی ضرورت نہیں ، لیکن اتنا بھی نہ پڑھ سکا تو اب خلیفہ بنانا جائز ہو گا
و جہ : اسکی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کا واقعہ بار بار پیش آتا ہے اسلئے یہ حدث کے درجے میں ہو گیا اور حدث ہو گیا ہو تو خلیفہ بنانا جائز ہے اسی طرح قرأت سے رک گیا تو خلیفہ بنانا جائز ہے ۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ قرأت سے رکنے کا وجود نادر ہے اسلئے وہ جنابت کی طرح ہو گیا ۔
تشریح : صاحبین فرماتے ہیں کہ پہلے قرأت یاد ہو نماز میں کھڑے ہو نے کے بعد اچانک کوئی بھی آیت یاد نہ آئے اور ایک آیت پڑھنے سے بھی عاجز ہو جائے ایسا بہت کم ہو تا ہے اور اوپر گزر چکا کہ جو حدث نادر ہو تا ہے اس میں بنا ء کر نے کی بھی گنجائش نہیںاور خلیفہ بنانا بھی صحیح نہیں جس طرح احتلام ہو جائے جسکو جنابت کہتے ہیں ، تو نماز ٹوٹ جاتی ہے اس میںخلیفہ بنانا جائز نہیں اسی طرح قرأت سے رکنا بھی نادر ہے اسلئے اس میں بھی خلیفہ بنانا جائز نہیں ہے ۔
ترجمہ: ٢ حضرت امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ خلیفہ بنانا عاجز ہو نے کی وجہ سے ہے اور یہاں تو خلیفہ بنانے کی زیادہ ہی ضرورت ہے ۔
تشریح : امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ حدث ہو نے کی صورت میں خلیفہ بنانا اسلئے جائز ہے کہ اب وہ نماز پڑھانے سے عاجز ہے ۔ اور یہی علت یہاں بھی ہے کہ ایک آیت بھی نہ پڑھ سکا اسلئے خلیفہ بنانے کی یہاں زیادہ ضرورت ہے ۔ اس صورت میں خلیفہ بنانے کی زیادہ ضرورت اسلئے ہے کہ حدث کی صورت میں ایسا ہو سکتا ہے کہ پانی مسجد ہی میں ہو اسلئے کسی کو خلیفہ نہ بنائے اور جلدی سے وضوکر کے واپس آئے اور امام بن جائے ، اسلئے وہاں خلیفہ بنانے کی اتنی ضرورت نہیں ۔ اور قرأت سے رک جانے کی صورت میں تو خلیفہ بنائے کوئی اور صورت نہیں ہے ا سلئے قرأت سے رکنے کی صورت میں خلیفہ بنانا زیادہ ضروری ہے ۔ھو ھنا الزم : کا یہی مطلب ہے ۔
ترجمہ: ٣ اور قرأت سے عاجز ہو نا نادر نہیں ہے اسلئے جنابت کے ساتھ اسکو نہ ملایا جائے ۔