Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

578 - 627
(٣٨٢)وان حصر الامام عن القرا ة فقدم غیر ہ اجزاہم عند ابی حنفیة وقالا لا یجزیہم)  ١ لانہ یندروجودہ فاشبہ الجنابة  ٢    ولہ ان الاستخلاف بعلة العجز وہو ہنا الزم   ٣   والعجز عن القراء ة 

ناقض وضو ہے۔
ترجمہ: (٣٨٢)اگر امام قرأت سے رک گیا جسکی وجہ سے دوسرے کو آگے بڑھایا تو امام ابو حنیفہ  کے نزدیک لوگوں کو یہ کافی ہے ، اور صاحبین نے فرمایا کہ لوگوں کو یہ کافی نہیں ہے ۔ 
تشریح : امام کو قرآن یاد تھا لیکن نماز میں کھڑا ہواتو بہت کوشش کے باوجود اب ایک آیت بھی نہیں پڑھ سکا ، اگر ایک لمبی آیت یا تین چھوٹی آیت پڑھ لیتا تو نماز ہو جاتی اسلئے اب خلیفہ بنانے کی ضرورت نہیں ، لیکن اتنا بھی نہ پڑھ سکا تو اب خلیفہ بنانا جائز ہو گا  
و جہ :  اسکی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کا واقعہ بار بار پیش آتا ہے اسلئے یہ حدث کے درجے میں ہو گیا اور حدث ہو گیا ہو تو خلیفہ بنانا جائز ہے اسی طرح قرأت سے رک گیا تو خلیفہ بنانا جائز ہے ۔ 
ترجمہ:   ١   اسلئے کہ قرأت سے رکنے کا وجود نادر ہے اسلئے وہ جنابت کی طرح ہو گیا ۔ 
تشریح :  صاحبین  فرماتے ہیں کہ پہلے قرأت یاد ہو نماز میں کھڑے ہو نے کے بعد اچانک کوئی بھی آیت یاد نہ آئے اور  ایک آیت پڑھنے سے بھی عاجز ہو جائے ایسا بہت کم ہو تا ہے اور اوپر گزر چکا کہ جو حدث نادر ہو تا ہے اس میں بنا ء کر نے کی بھی گنجائش نہیںاور خلیفہ بنانا بھی صحیح نہیں جس طرح احتلام ہو جائے جسکو جنابت کہتے ہیں ، تو نماز ٹوٹ جاتی ہے اس میںخلیفہ بنانا جائز نہیں  اسی طرح قرأت سے رکنا بھی نادر ہے اسلئے اس میں بھی خلیفہ بنانا جائز نہیں ہے ۔ 
ترجمہ: ٢  حضرت امام ابو حنیفہ  کی دلیل یہ ہے کہ خلیفہ بنانا عاجز ہو نے کی وجہ سے ہے اور یہاں تو  خلیفہ بنانے کی زیادہ ہی ضرورت ہے ۔
تشریح :  امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ حدث ہو نے کی صورت میں خلیفہ بنانا اسلئے  جائز ہے کہ اب وہ نماز پڑھانے سے عاجز ہے ۔ اور  یہی علت یہاں بھی ہے کہ ایک آیت بھی نہ پڑھ سکا اسلئے خلیفہ بنانے کی یہاں زیادہ ضرورت ہے ۔  اس صورت میں خلیفہ بنانے کی زیادہ ضرورت اسلئے ہے کہ حدث کی صورت میں ایسا ہو سکتا ہے کہ پانی مسجد ہی میں ہو اسلئے کسی کو خلیفہ نہ بنائے اور جلدی سے وضوکر کے واپس آئے اور امام بن جائے ، اسلئے وہاں خلیفہ بنانے کی اتنی ضرورت نہیں ۔ اور قرأت سے رک جانے کی صورت میں تو خلیفہ بنائے کوئی اور صورت نہیں ہے ا سلئے قرأت سے رکنے کی صورت میں خلیفہ بنانا زیادہ ضروری ہے ۔ھو ھنا الزم : کا یہی مطلب ہے ۔
ترجمہ: ٣  اور قرأت سے عاجز ہو نا نادر نہیں ہے اسلئے جنابت کے ساتھ اسکو نہ ملایا جائے ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter