Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

577 - 627
  ١     لانہ یندروجود ہٰذہ العوارض فلم یکن فی معنی ماورد بہ النص(٣٨١) وکذلک اذا قہقہ)  ١  لانہ بمنزلة الکلام وہو قاطع

 دار قطنی ، باب فی الوضوء من الخارج من البدن کالرعاف  الخ ،ج اول ، ص ١٦٠ نمبر ٥٥٥) اس حدیث  میں قی ، نکسیر کا پھوٹنا ، مذی جیسے روز مرہ اور بار بار ہو نے والے حدثوں سے بنا کر نے کے لئے کہا ہے ، اسکا مطلب یہ نکلا کہ جو حدث کبھی کھبار ہو تے ہیں مثلا  جنون ، احتلام ، بیہوشی  ان میںشروع سے ہی پڑھے ۔ (٢) اس اثر میںہے۔ عن ابراھیم فی صاحب القیء و الرعاف و القبلة : ینصرف فیتوضأ فان  لم یتکلم  بنی علی ما بقی و ان تکلم استأنف و کان یقول فی صاحب الغائط و البول : ینصرف فیتوضأ و یستقبل الصلوة ۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، ٤٤٨، فی الذی یقیء أو یرعف فی الصلوة ، ج ثانی ، ص ١٢ ، نمبر ٥٩١٠) اس اثر میں ہے کہ پیشاب اور پا خانہ جیسے حدث جو کبھی کبھار ہو تے ہیںان میںشروع سے نماز پڑھے 
 ترجمہ : ١  اسلئے کہ ان عوارض یعنی حدثوں کا وجود کبھی کبھار ہو تا ہے اسلئے اس درجے میں نہیں ہوا جس کے بارے میںحدیث وارد ہوئی ۔
تشریح : اوپر حدیث میں جن حدثوں کے بارے میںیہ وارد ہوئی کہ پہلی رکعتوں پر بنا کر سکتا ہے وہ بار بار ہو نے والے حدث تھے اور جنون احتلام اور بیہوشی کبھی کبھار ہو نے والے حدث ہیں اسلئے  یہ حدث حدیث کے مفہوم میں نہیں آتے اسلئے ان میں بنا ء کی گنجائش نہیں ہو گی ۔  
ترجمہ: (٣٨١) ایسے ہی اگر قہقہ لگا یا تو ] تو شروع سے نماز پڑھے گا [ 
  ترجمہ :  ١  اسلئے کہ یہ بات کر نے کے درجے میں ہے اور بات کر نا نماز کو توڑتا ہے ۔
تشریح : کسی نے نماز میں قہقہ لگا یا جسکی وجہ سے وضو ٹوٹ گیا تو وضو کر نے کے بعد پہلی نماز پر بنا ء نہیں کر سکتا ۔ 
وجہ : (١) اسکی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان حدثوںمیں بنا ء کر سکتا ہے جو خود بخود ہو ئے ہوںاور قہقہ تو جان کر کیا ہے اسلئے اس میںبنا ء نہیں کر سکتا ۔(٢) دوسری وجہ یہ ہے کہ قہقہ ایسا ہے کہ اس نے بات کی اور بات کر نے سے نماز بالکل ختم ہو جاتی ہے اسی طرح قہقہ لگانے سے بھی نماز بالکل ختم ہو جائے گی اسلئے پہلی نماز پر بنا ء نہیں کر سکتا ۔   حدیث  کا ٹکڑا یہ گزرا ۔وھو فی ذلک لا یتکلم ۔ (ابن ماجہ شریف ،، نمبر ١٢٢١  دار قطنی ، نمبر ٥٥٥)  اس حدیث میںہے کہ بات نہ کی ہو تب بنا کر سکتا ہے اور قہقہ بات کے درجے میں ہے اسلئے بنا نہیں کر سکتا ۔
  لغت :  جن : جنون ہو نا ۔  اغمی  : بے ہوشی طاری ہونا۔ یندر : کبھی کبھار ہو تا ہو ۔ قہقہ : زورزور سے ہنسنا ۔  
نوٹ: سویا اور احتلام ہوا کی قید اس لئے لگائی کہ تھوڑا سویا اور احتلام ہوا تو شروع سے پڑھے  گا اور اگر بہت سویا تو خود سونا بھی 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter