١ لانہ یندروجود ہٰذہ العوارض فلم یکن فی معنی ماورد بہ النص(٣٨١) وکذلک اذا قہقہ) ١ لانہ بمنزلة الکلام وہو قاطع
دار قطنی ، باب فی الوضوء من الخارج من البدن کالرعاف الخ ،ج اول ، ص ١٦٠ نمبر ٥٥٥) اس حدیث میں قی ، نکسیر کا پھوٹنا ، مذی جیسے روز مرہ اور بار بار ہو نے والے حدثوں سے بنا کر نے کے لئے کہا ہے ، اسکا مطلب یہ نکلا کہ جو حدث کبھی کھبار ہو تے ہیں مثلا جنون ، احتلام ، بیہوشی ان میںشروع سے ہی پڑھے ۔ (٢) اس اثر میںہے۔ عن ابراھیم فی صاحب القیء و الرعاف و القبلة : ینصرف فیتوضأ فان لم یتکلم بنی علی ما بقی و ان تکلم استأنف و کان یقول فی صاحب الغائط و البول : ینصرف فیتوضأ و یستقبل الصلوة ۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، ٤٤٨، فی الذی یقیء أو یرعف فی الصلوة ، ج ثانی ، ص ١٢ ، نمبر ٥٩١٠) اس اثر میں ہے کہ پیشاب اور پا خانہ جیسے حدث جو کبھی کبھار ہو تے ہیںان میںشروع سے نماز پڑھے
ترجمہ : ١ اسلئے کہ ان عوارض یعنی حدثوں کا وجود کبھی کبھار ہو تا ہے اسلئے اس درجے میں نہیں ہوا جس کے بارے میںحدیث وارد ہوئی ۔
تشریح : اوپر حدیث میں جن حدثوں کے بارے میںیہ وارد ہوئی کہ پہلی رکعتوں پر بنا کر سکتا ہے وہ بار بار ہو نے والے حدث تھے اور جنون احتلام اور بیہوشی کبھی کبھار ہو نے والے حدث ہیں اسلئے یہ حدث حدیث کے مفہوم میں نہیں آتے اسلئے ان میں بنا ء کی گنجائش نہیں ہو گی ۔
ترجمہ: (٣٨١) ایسے ہی اگر قہقہ لگا یا تو ] تو شروع سے نماز پڑھے گا [
ترجمہ : ١ اسلئے کہ یہ بات کر نے کے درجے میں ہے اور بات کر نا نماز کو توڑتا ہے ۔
تشریح : کسی نے نماز میں قہقہ لگا یا جسکی وجہ سے وضو ٹوٹ گیا تو وضو کر نے کے بعد پہلی نماز پر بنا ء نہیں کر سکتا ۔
وجہ : (١) اسکی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان حدثوںمیں بنا ء کر سکتا ہے جو خود بخود ہو ئے ہوںاور قہقہ تو جان کر کیا ہے اسلئے اس میںبنا ء نہیں کر سکتا ۔(٢) دوسری وجہ یہ ہے کہ قہقہ ایسا ہے کہ اس نے بات کی اور بات کر نے سے نماز بالکل ختم ہو جاتی ہے اسی طرح قہقہ لگانے سے بھی نماز بالکل ختم ہو جائے گی اسلئے پہلی نماز پر بنا ء نہیں کر سکتا ۔ حدیث کا ٹکڑا یہ گزرا ۔وھو فی ذلک لا یتکلم ۔ (ابن ماجہ شریف ،، نمبر ١٢٢١ دار قطنی ، نمبر ٥٥٥) اس حدیث میںہے کہ بات نہ کی ہو تب بنا کر سکتا ہے اور قہقہ بات کے درجے میں ہے اسلئے بنا نہیں کر سکتا ۔
لغت : جن : جنون ہو نا ۔ اغمی : بے ہوشی طاری ہونا۔ یندر : کبھی کبھار ہو تا ہو ۔ قہقہ : زورزور سے ہنسنا ۔
نوٹ: سویا اور احتلام ہوا کی قید اس لئے لگائی کہ تھوڑا سویا اور احتلام ہوا تو شروع سے پڑھے گا اور اگر بہت سویا تو خود سونا بھی