٤ ولو تقدم قدّامہ فالحد السترة وان لم تکن فمقدار الصفوف خلفہ ٥ وان کان منفردا فموضع سجودہ من کل جانب (٣٨٠)وان جن اونام فاحتلم اواغمی علیہ استقبل )
اندر ہے ۔اسی طرح دائیں جانب جہاں تک صف میںآدمی کھڑے ہیںوہاں تک مسجد کا حکم ہے ۔ اور بائیں جانب بھی جہا ں تک صف میںآدمی کھڑے ہیںوہاں تک مسجد کا حکم ہے ، یعنی اگر محدث صف سے آخیر تک چلا جائے تب بھی بنا ء کر سکتا ہے لیکن اگر صف سے باہر نکل جائے تو اب بنا ء نہیں کر سکتا ۔
وجہ : صحراء میں مسجد کی دیوار تو ہے نہیں اور صحراء بہت لمبا چوڑا ہے ، اسلئے صف کی مقدار کو ہی مسجد کا حکم دے دیا گیا ۔
ترجمہ: ٤ اور اگر صف سے آگے کی جانب بڑھا تو تو حد سترہ ہے اور اگر سترہ موجود نہ ہو تو تو پیچھے جتنی صفیں ہیں اسکی مقدار ۔
تشریح : محدث صف سے نکل کر آگے بڑھا تو آگے جو سترہ ہے وہاں تک مسجد کا حکم ہوگا ۔ اور اگر سترہ نہیں ہے تو جتنی صفیں پیچھے ہیں اتنی ہی آگے تک مسجد کا حکم ہو گا ، مثلا پانچ صفیںپیچھے ہیں توپانچ صف آگے تک مسجد کا حکم ہو گا ، یعنی اگر آگے پانچ صف تک چلا گیا تب بھی پہلی رکعتوں پر بنا ء کر سکتا ہے ۔ اور اگر اس سے بھی آگے گیا تو اب بنا ء نہیں کر سکتا ۔
ترجمہ: ٥ اور اگر منفرد ہے تو ہر جانب سجدے کی جگہ تک مسجد کا حکم ہے ۔
تشریح : منفرد کی کوئی صف نہیں ہے اسلئے پائوں رکھنے کی جگہ سے لیکر سجدے کی جگہ تک جو جگہ ہے ]جو تقریبا چار فٹ ، یا سوا میٹر ہو تا ہے [ وہ مسجد کے حکم میں ہو گی ، اور چاروں طرف اتنی اتنی ہی جگہ مسجد کے حکم ہوگی اسلئے اگر دائیں جانب یا بائیںجانب یا پیچھے سوا سوا میٹر یا چار چار فٹ سے زیادہ نکل گیا تو محدث اب پہلی نماز پر بنا ء نہیں کر سکتا ، اور اگر اس سے کم نکلا تو بنا ء کر سکتا ہے ۔
وجہ : اسکی وجہ یہ ہے کہ یہاں کوئی صف توہے نہیں اسلئے منفرد کی جو اپنی جگہ استعمال میںہے اتنی ہی جگہ مسجد کے حکم میںہو گی ۔
ترجمہ: ( ٣٨٠) اور اگر جنون طاری ہوئی ، یا سویا اور احتلام ہو گیا ، یا اس پر بیہوشی طاری ہو گئی تو شروع سے نماز پڑھے گا ۔
تشریح : جنون طاری ہو گئی ، یا احتلام ہو گیا ، یا بیہوشی طاری ہو گئی تو ایسی صورت میں نماز مکمل ٹوٹ گئی اب اس پر بنا نہیں کر سکتا بلکہ شروع سے نماز پڑھے ۔
وجہ : (١) اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ خود خلاف قیاس ہے ، اور حدیث کا رجحان یہ ہے کہ شروع سے نماز پڑھے لیکن اوپر کی حدیث کی وجہ سے بنا کر نے کی گنجائش دی اور اوپر کی حدیث کے اشارے سے پتہ چلتا ہے کہ جو حدث خود ہو جاتے ہیں اور بار بار ہو تے ہیں انہیںمیں یہ گنجائش ہے ، لیکن جو حدث کبھی کبھار ہو تے ہیں اس میں یہ گنجائش نہیں اس میں تو شروع سے ہی پڑھے ۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں ۔عن عائشة قالت قال رسول اللہ ۖ: من اصابہ قیء او رعاف او قلس او مذی فلینصرف فلیتوضأ ثم لیبن علی صلوتہ وھو فی ذلک لا یتکلم ۔ (ابن ماجہ شریف ، باب ماجاء فی البناء علی الصلوة ص ١٧١، نمبر ١٢٢١