Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

576 - 627
٤  ولو تقدم قدّامہ فالحد السترة وان لم تکن فمقدار الصفوف خلفہ  ٥   وان کان منفردا فموضع سجودہ من کل جانب (٣٨٠)وان جن اونام فاحتلم اواغمی علیہ استقبل )

اندر ہے  ۔اسی طرح دائیں جانب جہاں تک صف میںآدمی کھڑے ہیںوہاں تک مسجد کا حکم ہے ۔ اور بائیں جانب بھی جہا ں تک صف میںآدمی کھڑے ہیںوہاں تک مسجد کا حکم ہے ، یعنی اگر محدث صف سے آخیر تک چلا جائے تب بھی بنا ء کر سکتا ہے لیکن اگر صف سے باہر نکل جائے تو اب بنا ء نہیں کر سکتا ۔ 
وجہ : صحراء میں مسجد کی دیوار تو ہے نہیں اور صحراء بہت لمبا چوڑا ہے ، اسلئے صف کی مقدار کو ہی مسجد کا حکم دے دیا گیا ۔ 
ترجمہ:  ٤  اور اگر صف سے آگے کی جانب بڑھا تو تو حد سترہ ہے اور اگر سترہ موجود نہ ہو تو تو پیچھے جتنی صفیں ہیں اسکی مقدار ۔
تشریح :  محدث صف سے نکل کر آگے بڑھا تو آگے جو سترہ ہے وہاں تک مسجد کا حکم ہوگا  ۔ اور اگر سترہ نہیں ہے تو جتنی صفیں پیچھے ہیں اتنی ہی آگے تک مسجد کا حکم ہو گا ، مثلا پانچ صفیںپیچھے ہیں توپانچ صف آگے تک مسجد کا حکم ہو گا ، یعنی اگر آگے پانچ صف تک چلا گیا تب بھی پہلی رکعتوں پر بنا ء کر سکتا ہے ۔ اور اگر اس سے بھی آگے گیا تو اب بنا ء نہیں کر سکتا ۔
ترجمہ: ٥  اور اگر منفرد ہے تو ہر جانب سجدے کی جگہ تک مسجد کا حکم ہے ۔ 
تشریح :  منفرد کی کوئی صف نہیں ہے اسلئے پائوں رکھنے کی جگہ سے لیکر سجدے کی جگہ تک جو جگہ ہے ]جو تقریبا چار فٹ ، یا سوا میٹر ہو تا ہے [  وہ مسجد کے حکم میں ہو گی ، اور چاروں طرف اتنی اتنی ہی جگہ مسجد کے حکم ہوگی اسلئے اگر دائیں جانب یا بائیںجانب یا پیچھے سوا سوا میٹر یا چار چار فٹ سے زیادہ نکل گیا تو محدث اب پہلی نماز پر بنا ء نہیں کر سکتا ، اور اگر اس سے کم نکلا تو بنا ء کر سکتا ہے ۔ 
وجہ :  اسکی وجہ یہ ہے کہ یہاں کوئی صف توہے نہیں  اسلئے منفرد کی جو اپنی جگہ استعمال میںہے اتنی ہی جگہ مسجد کے حکم میںہو گی ۔ 
 ترجمہ: ( ٣٨٠) اور اگر جنون طاری ہوئی ، یا سویا اور احتلام ہو گیا ، یا اس پر بیہوشی طاری ہو گئی تو شروع سے نماز پڑھے گا ۔ 
تشریح :  جنون طاری ہو گئی ، یا احتلام ہو گیا ، یا بیہوشی طاری ہو گئی تو ایسی صورت میں نماز مکمل ٹوٹ گئی اب اس پر بنا نہیں کر سکتا بلکہ شروع  سے نماز پڑھے ۔ 
وجہ :  (١) اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ خود خلاف قیاس ہے ، اور حدیث کا رجحان یہ ہے کہ شروع سے نماز پڑھے لیکن اوپر کی حدیث کی وجہ سے بنا کر نے کی گنجائش دی اور اوپر کی حدیث کے اشارے سے پتہ چلتا ہے کہ جو حدث خود ہو جاتے ہیں اور بار بار ہو تے ہیں انہیںمیں یہ گنجائش ہے ، لیکن جو حدث کبھی کبھار ہو تے ہیں اس میں یہ گنجائش نہیں اس میں تو شروع سے ہی پڑھے ۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں ۔عن عائشة قالت قال رسول اللہ ۖ: من اصابہ قیء او رعاف او قلس او مذی فلینصرف فلیتوضأ ثم لیبن علی صلوتہ وھو فی ذلک لا یتکلم ۔ (ابن ماجہ شریف ، باب ماجاء فی البناء علی الصلوة ص ١٧١، نمبر ١٢٢١ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter