٢ وہذا بخلاف مااذا ظن انہ افتتح علیٰ غیر وضوء فانصرف ثم علم انہ علیٰ وضوء حیث تفسد وان لم یخرج لان الانصراف علی سبیل الرفض الاتری انہ لوتحقق ما توہمہ یستقبلہ فہذا ہو الحرف ٣ ومکان الصفوف فی الصحراء لہ حکم المسجد
ترجمہ: ٢ یہ بخلاف اگر گمان کیا کہ نماز کو بغیر وضو کے شروع کی اور قبلہ سے پھر گیا پھر علم ہوا کہ وضو پر ہے تو نماز فاسد ہو جائے گی چاہے مسجد سے باہر نہ نکلا ہو ، اسلئے کہ یہ پھرنا نماز کو چھوڑنے کے لئے ہے ۔ کیا آپ نہیں دیکھتے ہیں کہ جو اس نے گمان کیا وہ متحقق ہو جاتا تو شروع سے نماز پڑھتا ، بس یہ اصل قاعدہ ہے ۔
تشریح : ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا کہ اسکو یہ گمان ہوا کہ اس نے بغیر وضو ہی کے نماز شروع کی تھی ، اور چہرہ قبلے سے پھیر دیا ، بعد میں معلوم ہوا کہ وضو تھا ، تو چاہے ابھی مسجد کے اندر ہو پھر بھی نماز فاسد ہو گئی اب بنا نہیںکر سکتا ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ اگر شروع ہی سے وضو نہ ہو تو شروع ہی سے نماز نہیں ہو گی ۔ اسلئے یہ آدمی جو قبلے سے پھرا ہے یہ وضو کر کے پہلی نماز پر بنا ء کر نے کے لئے قبلہ سے نہیں پھرا ہے جسکو نماز کی اصلاح کہتے ہیں ، بلکہ وضو کر کے شروع سے نماز پڑھنے کے لئے پھرا ہے جسکو رفض اور چھوڑنا کہتے ہیں۔ کیونکہ اسکا گمان تو یہ ہے کہ شروع سے وضو ہی نہیںہے اسلئے شروع سے نماز ہی نہیںہے ۔ اور قاعدہ یہ ہے کہ جو نماز کو چھوڑنے کے لئے قبلے سے پھرا ہو وہ بنا نہیں کر سکتا ، جس طرح سے حقیقت میں شروع سے وضو نہ ہو تو وہ بنا نہیں کر سکتا ۔ اسلئے وضو نہ ہو نے کے گمان سے قبلے سے پھرا ہو تو وہ بنا نہیں کر سکتا ۔
اصول : ]١[ گمان کو حقیقت کی صورت پر محمول کیا جائے گا ۔]٢[ نماز کو چھوڑنے کے لئے قبلہ سے پھرا ہو تو بنا نہیں کر سکتا ۔
لغت : فھذا ھو الحرف :اس جملے سے اوپر کے مسئلے اور اس مسئلے میں فرق بتانا چاہتے ہیں کہ نماز کے درمیان میںحدث کے گمان سے قبلے سے رخ پھیرا تو مسجد سے باہر نکلنے سے پہلے بنا کر سکتا ہے ۔ اسلئے کہ اس صورت میں وضو کر کے پہلی نماز پر بنا کر نے کی نیت سے قبلے سے رخ پھیرا ہے ۔اور شروع سے وضو نہیںہے تو قبلے سے رخ پھیرنے کی نیت یہ ہے کہ وضو کر کے شروع سے نماز پڑھوں گا ، دونوں صورتوں میں یہ فرق ہے ۔ اسی فرق کو ھذا ھو الحرف ، سے بیان فرما رہے ہیں ۔
ترجمہ: ٣ صحراء میںصفوں کی جگہ مسجد کا حکم ہے ۔
تشریح : یہاں سے یہ بتا رہے ہیں کہ مسجد میں نماز پڑھ رہا ہو تو مسجد سے باہر نکلے تو بنا ء نہیں کر سکتا ۔ لیکن اگر صحراء اور میدان میں نماز پڑھ رہا ہو تو محدث کس مقام تک جائے تو بنا ء نہیں کر سکتا ، اسکی تفصیل بیان کر رہے ہیں ۔ کہ صحراء میں جہاں تک صف ہے وہاں تک مسجد کا حکم ہے ، مثلا پیچھے پانچ صفیں کھڑی ہیں تو محدث پانچوں صفوں کو پار کر جائے گا تب وہ بنا ء نہیں کر سکتا ، کیونکہ پانچوں صفوں تک مسجد کا حکم ہے لیکن اگر ابھی صف کے اندر اندر تھا اور خیا ل آگیا کہ حدث نہیں ہوا ہے تو بنا ء کر سکتا ہے کیونکہ گویا کہ وہ مسجد کے