Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

575 - 627
٢   وہذا بخلاف مااذا ظن انہ افتتح علیٰ غیر وضوء فانصرف ثم علم انہ علیٰ وضوء حیث تفسد وان  لم یخرج لان الانصراف علی سبیل الرفض الاتری انہ لوتحقق  ما توہمہ  یستقبلہ فہذا ہو الحرف  ٣   ومکان الصفوف فی الصحراء لہ حکم المسجد 

ترجمہ:  ٢  یہ بخلاف اگر گمان کیا کہ نماز کو بغیر وضو کے شروع کی اور قبلہ سے پھر گیا پھر علم ہوا کہ وضو پر ہے تو نماز فاسد ہو جائے گی چاہے مسجد سے باہر نہ نکلا ہو ، اسلئے کہ یہ  پھرنا نماز کو چھوڑنے کے لئے ہے ۔ کیا آپ نہیں دیکھتے ہیں کہ جو اس نے گمان کیا وہ متحقق ہو جاتا تو شروع سے نماز پڑھتا ، بس یہ اصل قاعدہ ہے ۔ 
تشریح : ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا کہ اسکو یہ گمان ہوا کہ اس نے بغیر وضو ہی کے نماز شروع کی تھی ، اور چہرہ قبلے سے پھیر دیا ، بعد میں معلوم ہوا کہ وضو تھا ، تو چاہے ابھی مسجد کے اندر ہو پھر بھی نماز فاسد ہو گئی اب بنا نہیںکر سکتا ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ اگر شروع  ہی سے وضو نہ ہو تو شروع ہی سے نماز نہیں ہو گی  ۔ اسلئے یہ آدمی جو قبلے سے پھرا ہے یہ  وضو کر کے  پہلی نماز پر بنا ء کر نے کے لئے قبلہ سے نہیں پھرا ہے  جسکو نماز کی اصلاح کہتے ہیں ، بلکہ وضو کر کے شروع سے نماز پڑھنے کے لئے پھرا ہے جسکو رفض اور چھوڑنا کہتے ہیں۔ کیونکہ اسکا گمان تو یہ ہے کہ شروع سے وضو ہی نہیںہے اسلئے شروع سے نماز ہی نہیںہے ۔  اور قاعدہ یہ ہے کہ جو نماز کو چھوڑنے کے لئے  قبلے سے پھرا ہو وہ بنا نہیں کر سکتا ، جس طرح سے حقیقت میں شروع سے وضو نہ ہو تو وہ  بنا نہیں کر سکتا ۔ اسلئے وضو نہ ہو نے کے گمان سے قبلے سے پھرا ہو تو وہ بنا نہیں کر سکتا ۔
 اصول :  ]١[ گمان کو حقیقت کی صورت پر محمول کیا جائے گا ۔]٢[ نماز کو چھوڑنے کے لئے قبلہ سے پھرا ہو تو بنا نہیں کر سکتا ۔  
لغت :   فھذا ھو الحرف :اس جملے سے اوپر کے مسئلے اور اس مسئلے میں فرق بتانا چاہتے ہیں کہ نماز کے درمیان میںحدث کے گمان سے قبلے سے رخ پھیرا تو مسجد سے باہر نکلنے سے پہلے بنا کر سکتا ہے ۔ اسلئے کہ اس صورت میں وضو کر کے پہلی نماز پر  بنا کر نے کی نیت سے قبلے  سے رخ پھیرا ہے ۔اور شروع سے وضو نہیںہے تو قبلے سے رخ پھیرنے کی نیت یہ ہے کہ وضو کر کے شروع سے نماز پڑھوں گا ، دونوں صورتوں میں یہ فرق ہے ۔ اسی فرق کو ھذا ھو الحرف ، سے بیان فرما رہے ہیں ۔
ترجمہ: ٣  صحراء میںصفوں کی جگہ مسجد کا حکم ہے ۔ 
تشریح : یہاں سے یہ بتا رہے ہیں کہ مسجد میں نماز پڑھ رہا ہو تو مسجد سے باہر نکلے تو بنا ء نہیں کر سکتا ۔ لیکن اگر صحراء اور میدان میں نماز پڑھ رہا ہو تو محدث کس مقام تک جائے تو بنا ء نہیں کر سکتا ، اسکی تفصیل بیان کر رہے ہیں ۔ کہ صحراء میں جہاں تک صف ہے وہاں تک مسجد کا حکم ہے ، مثلا پیچھے پانچ صفیں کھڑی ہیں تو محدث پانچوں صفوں کو پار کر جائے گا تب وہ بنا ء نہیں کر سکتا ، کیونکہ پانچوں صفوں تک مسجد کا حکم ہے لیکن اگر ابھی صف کے اندر اندر تھا اور خیا ل آگیا کہ  حدث نہیں ہوا ہے تو بنا ء کر سکتا ہے کیونکہ گویا کہ وہ مسجد کے 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter