اولا یکون بینہما حائل)(٣٧٨) ومن ظن انہ احدث فخرج من المسجد ثم علم انہ لم یحدث استقبل الصلوٰة وان لم یکن خرج من المسجد یصلی مابقی )
کہ پہلی جگہ پر نہ آئے بلکہ وضو کر نے کی جگہ سے جو قریب ہو وہاں نماز پڑھے، کیونکہ جماعت تو ختم ہو چکی ہے اسلئے پہلی جگہ پر آنے کی کیا ضرورت ہے!، اور اگر جماعت ختم نہیں ہوئی ہے تو وہ پہلی جگہ پر آکر جماعت میںشریک ہو جائے ، یا جہاں سے اقتداء کر نا ممکن ہو وہاں نماز کی نیت باندھ کر جماعت میں شریک ہو جائے ، البتہ ایسی جگہ کھڑا نہ ہو جہاں سے اقتداء کر نا اور جماعت میں شریک ہو نا ممکن نہ ہو ، مثلا امام اور اس آدمی کے درمیان کوئی چیز حائل ہو جس سے جماعت میں شریک ہو نا نا ممکن ہو تو وہاں نیت نہ باندھے کیونکہ وہاں سے جماعت میں شریک نہیںہو سکے گا ۔ کیونکہ جماعت میںدوبارہ شریک ہو نا اچھا ہے تاکہ جماعت کا ثواب مل جائے ۔
لا یکون بینھما حائل : کی دلیل یہ اثر ہے ۔ حدثنا مالک عن الثقة عندہ أن الناس کانوا یدخلون حجر ازواج النبی ۖ بعد وفاة النبی ۖ فیصلون فیھا الجمعة قال : و کان المسجد یضیق علی اھلہ فیتوسعون بھا و حجر أزواج النبی ۖ لیست من المسجد و لکن أبوابھا شارعة فی المسجد ۔ ( سنن بیھقی ، باب المأموم یصلی خارج المسجد بصلوة الامام فی المسجد و لیس بینھما حائل ، ج ثالث ، ص ١٥٨، نمبر ٥٢٥٠) اس اثر میںہے کہ صحابہ ازواج مطہرات کے کمروں میں جمعہ کی نماز پڑھتے تھے اور ان کمروں کا دروازہ کھلا ہو تا تھا ، جس سے معلوم ہوا کہ حیلولت ہو تو اقتداء جائز نہیں ہے اور نہ ہو تو جائز ہے ۔
ترجمہ: (٣٧٨) کسی نے گمان کیا کہ حدث ہو گیا جسکی وجہ سے وہ مسجد سے نکل گیا ، پھر علم ہوا کہ حدث نہیں ہوا ہے تو شروع سے نماز پڑھے ، اور اگر مسجد سے نہیں نکلا تو جتنی رکعت باقی رہ گئی ہے وہ نماز پڑھے ۔
تشریح : یہ مسئلہ اس قاعدے پر ہے کہ نماز کی ا صلاح کی غرض سے قبلہ رخ سے پھر گیا تو نماز فاسد نہیں ہو گی دوسرا قاعدہ یہ ہے کہ مجلس ایک ہو تو نماز فاسد نہیں ہو گی ، اور مجلس بدل جائے تو نماز فاسد ہو جائے گی ۔ مسجد کو ایک مجلس مانا گیا ہے اسلئے مسجد کے اندر رہے تو ایک مجلس ہے اسلئے نماز فاسد نہیںہو گی اور مسجد سے باہر ہو گیا تو مجلس بدل گئی اسلئے نماز فاسد ہو گی ۔ اصلاح کا مطلب یہاں یہ ہے کہ حدث ہو گیا ہے اسلئے وضو کرکے دوبارہ پچھلی نماز پر بنا ء کر لوںگا ۔
چنانچہ مسئلے کی صورت یہ ہے کہ کسی کو گمان ہوا کہ حدث ہو گیا ہے لیکن حقیقت میں حدث نہیں ہوا تھا صرف گمان ہوا تھا کہ حدث ہو گیا ہے اور مسجد سے باہرنکل گیا اور قبلے سے رخ پھیر لیا تو نماز ٹوٹ گئی اب شروع سے نماز پڑھے ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ حقیقت میںحدث نہیں ہوا ہے صرف گمان ہے اور قبلے سے رخ پھیر چکا ہے ، اور مجلس بھی بدل چکی ہے کیونکہ مسجد سے باہر نکل چکا ہے اسلئے