Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

573 - 627
اولا یکون بینہما حائل)(٣٧٨) ومن ظن انہ احدث فخرج من المسجد ثم علم انہ لم یحدث استقبل الصلوٰة وان لم یکن خرج من المسجد یصلی مابقی )

کہ  پہلی جگہ پر نہ آئے بلکہ وضو کر نے کی جگہ سے جو قریب ہو وہاں نماز پڑھے، کیونکہ جماعت تو ختم ہو چکی ہے اسلئے پہلی جگہ پر آنے کی کیا ضرورت ہے!، اور اگر جماعت ختم نہیں ہوئی ہے تو وہ پہلی جگہ پر آکر جماعت میںشریک ہو جائے ، یا جہاں سے اقتداء کر نا ممکن ہو وہاں نماز کی نیت باندھ کر جماعت میں شریک ہو جائے  ، البتہ ایسی جگہ کھڑا نہ ہو جہاں سے اقتداء کر نا اور جماعت میں شریک ہو نا ممکن نہ ہو ، مثلا امام اور اس آدمی کے درمیان کوئی چیز حائل ہو جس سے جماعت میں شریک ہو نا نا ممکن ہو تو وہاں نیت نہ باندھے کیونکہ وہاں سے جماعت میں شریک نہیںہو سکے گا ۔ کیونکہ جماعت میںدوبارہ شریک ہو نا اچھا ہے تاکہ جماعت کا ثواب مل جائے ۔
لا یکون بینھما حائل : کی دلیل یہ  اثر ہے ۔ حدثنا مالک عن الثقة عندہ أن الناس کانوا یدخلون حجر ازواج النبی  ۖ بعد وفاة النبی  ۖ فیصلون فیھا الجمعة قال : و کان المسجد یضیق علی اھلہ فیتوسعون بھا و حجر أزواج النبی  ۖ لیست من المسجد و لکن أبوابھا شارعة فی المسجد ۔ ( سنن بیھقی ، باب المأموم یصلی خارج المسجد بصلوة الامام فی المسجد و لیس بینھما حائل ، ج ثالث ، ص ١٥٨، نمبر ٥٢٥٠) اس اثر میںہے کہ صحابہ ازواج مطہرات کے کمروں میں جمعہ کی نماز پڑھتے تھے اور ان کمروں کا دروازہ کھلا ہو تا تھا ، جس سے معلوم ہوا کہ حیلولت ہو تو اقتداء جائز نہیں ہے اور نہ ہو تو جائز ہے ۔
ترجمہ: (٣٧٨) کسی نے گمان کیا کہ حدث ہو گیا جسکی وجہ سے وہ مسجد سے نکل گیا ، پھر علم ہوا کہ حدث نہیں ہوا ہے تو شروع سے نماز پڑھے ، اور اگر مسجد سے نہیں نکلا تو جتنی رکعت باقی رہ گئی ہے وہ نماز پڑھے ۔ 
تشریح : یہ مسئلہ اس قاعدے پر ہے کہ نماز کی ا صلاح کی غرض سے قبلہ رخ سے پھر گیا تو نماز فاسد نہیں ہو گی  دوسرا قاعدہ یہ ہے کہ مجلس ایک ہو تو نماز فاسد نہیں ہو گی ، اور مجلس بدل جائے تو نماز فاسد ہو جائے گی ۔ مسجد کو ایک مجلس مانا گیا ہے اسلئے مسجد کے اندر رہے تو ایک مجلس ہے اسلئے نماز فاسد نہیںہو گی اور مسجد سے باہر ہو گیا تو مجلس بدل گئی اسلئے نماز فاسد ہو گی ۔ اصلاح کا مطلب یہاں یہ ہے کہ حدث ہو گیا ہے اسلئے وضو کرکے دوبارہ پچھلی نماز پر بنا ء کر لوںگا ۔  
 چنانچہ مسئلے کی صورت یہ ہے کہ کسی کو گمان ہوا کہ حدث ہو گیا ہے لیکن حقیقت میں حدث نہیں ہوا تھا صرف گمان ہوا تھا کہ حدث ہو گیا ہے اور  مسجد سے باہرنکل گیا اور قبلے سے رخ پھیر لیا تو نماز ٹوٹ گئی اب شروع سے نماز پڑھے ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ حقیقت میںحدث نہیں ہوا ہے صرف گمان ہے اور قبلے سے رخ پھیر چکا ہے ، اور مجلس بھی بدل چکی ہے کیونکہ مسجد سے باہر نکل  چکا ہے اسلئے 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter