Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

572 - 627
٢ وقیل المنفرد یستقبل والامام والمقتدی یبنی صیانة لفضیلة الجماعة۔ (٣٧٦) والمنفرد ان شاء اتم فی منز.لہ وان شاء عاد الیٰ مکانہ (٣٧٧)والمقتدی یعود الیٰ مکانہ الا ان یکون امامہ قد فرغ 

تشریح : جسکو نماز کے درمیان میں حدث ہو گیا ہو وہ شروع سے نماز پڑھے تو افضل ہے ، تا کہ کسی امام کے اختلاف کا شبہ ہی نہ رہے ۔
وجہ :  (١) اور یوں بھی حدیث کا اشارہ ہے کہ شروع سے نماز پڑھے ، حدیث یہ ہے ۔عن علی بن طلق قال قال رسول اللہ ۖ اذا فساء احدکم فی الصلوة فلینصرف فلیتوضأ ولیعد الصلوة ۔ (ابو داؤد شریف ، باب اذا حدث فی الصلوة، ص ١٥١ نمبر ٢٠٥ ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز شروع سے پڑھنی چاہئے۔ (٢) اس اثرمیں بھی ہے کہ شروع سے نماز پڑھنا افضل ہے ۔ اثر یہ ہے ۔ عن ابن سیرین قال : أجمعوا علی أنہ اذا تکلم استأنف و أنا أحب أن یتکلم و یستأنف الصلوة۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ،٤٤٩، من کان یحب أن یستقبل ، ج ثانی ، ص ١٤ ، نمبر ٥٩١٧) اس اثر میں ہے کہ شروع سے نماز پڑھے تو اچھا ہے ۔  
ترجمہ: ٢  اور بعض حضرات نے فرمایا کہ منفرد شروع سے نماز پڑھے ، اور امام اور مقتدی پہلی نماز پر بنا کرے جماعت کی فضیلت کو بچانے کے لئے ۔
تشریح :   بعض حضرات نے یہ فرمایاہے ۔ کہ منفرد چونکہ تنہا نماز پڑھ رہا ہے جماعت کے ساتھ نہیں ہے اسلئے وہ شروع سے نماز پڑھے تو بہتر ہے ، اور امام ہے یا مقتدی ہے تو پہلی نماز پر بنا کرے تو بہتر ہے تاکہ جماعت باقی رہ جائے اور جماعت کی فضیلت باقی رہے ، کیونکہ شروع سے نماز پڑھے گا تو جماعت کی فضیلت ختم ہو جائے گی ۔ اسلئے بنا کرے تو بہتر ہے۔ 
ترجمہ: (٣٧٦) اور منفرد اگر چاہے تو اپنے گھر میں نماز پوری کرے، اور چاہے تو اپنے پہلے مکان کی طرف واپس لوٹے ۔
تشریح :  جو آدمی تنہا نماز پڑھ رہاہو تو حدث ہو نے کے بعد جب وضو کے لئے جائے گا اور دوبارہ نماز شروع کرے گا تو یہ ضروری نہیںہے کہ وہ پہلی جگہ پر آکر ہی نماز پڑھے بلکہ کسی دوسری جگہ پر بھی نماز پوری کر سکتا ہے ، بلکہ وضو کرنے کی جگہ سے جو زیادہ قریب ہو اس   جگہ نماز پڑھے کیونکہ وہ جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھ رہا تھا کہ واپس جماعت کی جگہ پر آنا پڑے۔
ترجمہ:( ٣٧٧) اور مقتدی اپنی جگہ پر واپس لوٹے ، مگر یہ کہ اسکا امام فارغ ہو چکا ہو ، یا امام اور مقتدی کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو ]تو وہاں نماز پڑھ سکتا ہے ۔ 
 تشریح :  مقتدی وضو کر نے گیا اس درمیان  جماعت ختم نہیں ہو ئی ہے تو مقتدی کو چاہئے کہ پہلی جگہ پر آکر نماز پوری کرے تاکہ جماعت میں دوبارہ شرکت ہو جائے ۔ اور اگر جماعت ختم ہو چکی ہے اور امام نماز سے فارغ ہو چکے ہیں تو اسکے لئے گنجائش ہے 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter