٢ وقیل المنفرد یستقبل والامام والمقتدی یبنی صیانة لفضیلة الجماعة۔ (٣٧٦) والمنفرد ان شاء اتم فی منز.لہ وان شاء عاد الیٰ مکانہ (٣٧٧)والمقتدی یعود الیٰ مکانہ الا ان یکون امامہ قد فرغ
تشریح : جسکو نماز کے درمیان میں حدث ہو گیا ہو وہ شروع سے نماز پڑھے تو افضل ہے ، تا کہ کسی امام کے اختلاف کا شبہ ہی نہ رہے ۔
وجہ : (١) اور یوں بھی حدیث کا اشارہ ہے کہ شروع سے نماز پڑھے ، حدیث یہ ہے ۔عن علی بن طلق قال قال رسول اللہ ۖ اذا فساء احدکم فی الصلوة فلینصرف فلیتوضأ ولیعد الصلوة ۔ (ابو داؤد شریف ، باب اذا حدث فی الصلوة، ص ١٥١ نمبر ٢٠٥ ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز شروع سے پڑھنی چاہئے۔ (٢) اس اثرمیں بھی ہے کہ شروع سے نماز پڑھنا افضل ہے ۔ اثر یہ ہے ۔ عن ابن سیرین قال : أجمعوا علی أنہ اذا تکلم استأنف و أنا أحب أن یتکلم و یستأنف الصلوة۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ،٤٤٩، من کان یحب أن یستقبل ، ج ثانی ، ص ١٤ ، نمبر ٥٩١٧) اس اثر میں ہے کہ شروع سے نماز پڑھے تو اچھا ہے ۔
ترجمہ: ٢ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ منفرد شروع سے نماز پڑھے ، اور امام اور مقتدی پہلی نماز پر بنا کرے جماعت کی فضیلت کو بچانے کے لئے ۔
تشریح : بعض حضرات نے یہ فرمایاہے ۔ کہ منفرد چونکہ تنہا نماز پڑھ رہا ہے جماعت کے ساتھ نہیں ہے اسلئے وہ شروع سے نماز پڑھے تو بہتر ہے ، اور امام ہے یا مقتدی ہے تو پہلی نماز پر بنا کرے تو بہتر ہے تاکہ جماعت باقی رہ جائے اور جماعت کی فضیلت باقی رہے ، کیونکہ شروع سے نماز پڑھے گا تو جماعت کی فضیلت ختم ہو جائے گی ۔ اسلئے بنا کرے تو بہتر ہے۔
ترجمہ: (٣٧٦) اور منفرد اگر چاہے تو اپنے گھر میں نماز پوری کرے، اور چاہے تو اپنے پہلے مکان کی طرف واپس لوٹے ۔
تشریح : جو آدمی تنہا نماز پڑھ رہاہو تو حدث ہو نے کے بعد جب وضو کے لئے جائے گا اور دوبارہ نماز شروع کرے گا تو یہ ضروری نہیںہے کہ وہ پہلی جگہ پر آکر ہی نماز پڑھے بلکہ کسی دوسری جگہ پر بھی نماز پوری کر سکتا ہے ، بلکہ وضو کرنے کی جگہ سے جو زیادہ قریب ہو اس جگہ نماز پڑھے کیونکہ وہ جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھ رہا تھا کہ واپس جماعت کی جگہ پر آنا پڑے۔
ترجمہ:( ٣٧٧) اور مقتدی اپنی جگہ پر واپس لوٹے ، مگر یہ کہ اسکا امام فارغ ہو چکا ہو ، یا امام اور مقتدی کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو ]تو وہاں نماز پڑھ سکتا ہے ۔
تشریح : مقتدی وضو کر نے گیا اس درمیان جماعت ختم نہیں ہو ئی ہے تو مقتدی کو چاہئے کہ پہلی جگہ پر آکر نماز پوری کرے تاکہ جماعت میں دوبارہ شرکت ہو جائے ۔ اور اگر جماعت ختم ہو چکی ہے اور امام نماز سے فارغ ہو چکے ہیں تو اسکے لئے گنجائش ہے