٤ والبلوی فیما یسبق دون ما یتعمدہ فلا یلحق بہ(٣٧٥) والاستیناف افضل )
١ تحرزاعن شبہة الخلاف
البتہ حضرت علی کا اثر یہ ہے ۔عن علی قال : اذا أم الرجل القوم فوجد فی بطنہ رزء اً أو رعافا ً أو قیئاً فلیضع ثوبہ علی أنفہ ، و لیأخذبید رجل من القوم فلیقدمہ ۔ (دار قطنی ، باب فی الوضوء من الخارج من البدن کالرعاف و القیء ، ج اول ، ص ١٦٢، نمبر ٥٦٦مصنف عبد الرزاق ، باب الامام یحدث فی صلوتہ ، ج ثانی ، ص ٣٥٣، نمبر ٣٦٧١) اس اثر میں ہے کہ کسی کی نکسیر پھوٹ گئی ہو تو ناک پر کپڑا رکھکر باہر جائے اور دوسرے کو امام بنائے ۔
امام بنانے کی دلیل یہ بھی ہے (١)امام ہے توظاہر ہے کہ اس کو اپنا خلیفہ بنانا پڑے گاتاکہ خلیفہ مقتدیوں کو نماز پڑھائے۔اور اصلی امام وضو کر کے نماز پر بنا کرے گا ۔(٢)خلیفہ بنانے کے لئے یہ حدیث ہے دخلت علی عائشة فقلت لھا الا تحدثینی عن مرض رسول اللہ ۖ ... وکان ابو بکر یصلی وھو قائم بصلوة النبی ۖ والناس یصلون بصلوة ابی بکر ۔ (مسلم شریف ، باب استخلاف الامام اذا عرض لہ عذر ص ١٧٧ نمبر ٤١٨ نمبر ٩٣٦ بخاری شریف ، باب انما جعل الامام لیؤتم بہ ص ٩٥ نمبر ٦٨٧ ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے موقع پر امام خلیفہ بنائے گا۔کیونکہ ابو بکر کی جگہ پر حضورۖ نے نماز پڑھائی۔
ترجمہ: ٤ اور عموم بلوی اس صورت میں ہے جب کہ حدث خودنکل جائے اس صورت میں نہیں ہے جب جان بوجھ کر حدث کرے ، اسلئے خود بخود حدث ہو نے کو جان بوجھ کر حدث ہو نے کے ساتھ نہ ملا یا جائے ۔
تشریح :یہ امام شافعی کو جواب ہے ، انہوں نے فرمایا تھا کہ خود بخود حدث نکل جانا ایساہے جیسے جان کر حدث کر نا ، اسکا جواب دیا جارہاہے کہ جان کر حدث کر نا کبھی کبھار ہو تا ہے اور اس میں اسکی شرارت ہے ، جان کر حدث کر نے میں مجبور نہیںہے ، اور خود بخود حدث ہوجانا عام طور پر ہو تا ہے ، اور اس میںآدمی مجبور بھی ہے ۔ اسلئے جان کر حدث ہو نے میں اور خود بخود حدث ہو نے میںفرق ہے اسلئے ایک کو دوسرے پر قیاس نہیںکیا جا سکتا ، اور دوسری بات یہ ہے کہ مجبوری کی شکل میں شریعت کی جانب سے آدمی کو بنا کر نے کی سہولت ملے گی ، اور شرارت کر کے حدث کر نے میں بنا کر نے کی سہولت نہیںملے گی ، بلکہ شروع سے نماز پڑھنی ہو گی ۔
لغت : سبق: خود بخود نکل جائے ، آگے بڑھ جائے ۔ بنی : کسی چیز پر بنا کر نا ۔ یستقبل : شروع سے کرے ۔ رعف : ناک سے خون بہنا ، نکسیر پھوٹنا ۔ امذی : مذی نکل جائے ۔مرد کے عضو تناسل سے خاص قسم کا پانی نکلتا ہے اسکومذی کہتے ہیں ۔ و لیبن : اور پہلی نماز پر بنا کرے۔ و البلوی : عموم بلوی اسکو کہتے ہیں کہ کوئی بات بار بار کر نے کی ضرورت پیش آجائے ، یا کسی کام کے کرنے میںمجبوری ہو ۔
ترجمہ: (٣٧٥)اور شروع سے نماز پڑھنا افضل ہے ۔
ترجمہ : ١ اختلاف کے شبہ سے بچنے کے لئے ۔