Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

571 - 627
٤   والبلوی فیما یسبق دون ما یتعمدہ فلا یلحق بہ(٣٧٥)  والاستیناف افضل )
  ١   تحرزاعن شبہة الخلاف

البتہ حضرت علی   کا اثر یہ ہے ۔عن علی  قال : اذا أم الرجل القوم فوجد فی بطنہ رزء اً أو رعافا  ً أو قیئاً فلیضع ثوبہ علی أنفہ ، و لیأخذبید رجل من القوم فلیقدمہ ۔ (دار قطنی ، باب  فی الوضوء من الخارج  من البدن کالرعاف و القیء ، ج اول ، ص ١٦٢، نمبر ٥٦٦مصنف عبد الرزاق ، باب الامام یحدث فی صلوتہ ، ج ثانی ، ص ٣٥٣، نمبر ٣٦٧١) اس  اثر میں ہے کہ کسی کی نکسیر پھوٹ گئی ہو تو ناک پر کپڑا رکھکر باہر جائے اور دوسرے کو امام بنائے ۔  
 امام بنانے کی دلیل یہ بھی ہے (١)امام ہے توظاہر ہے کہ اس کو اپنا خلیفہ بنانا پڑے گاتاکہ خلیفہ مقتدیوں کو نماز پڑھائے۔اور اصلی امام وضو کر کے نماز پر بنا کرے گا ۔(٢)خلیفہ بنانے کے لئے یہ حدیث ہے  دخلت علی عائشة فقلت لھا الا تحدثینی عن مرض رسول اللہ ۖ ... وکان ابو بکر یصلی وھو قائم بصلوة النبی ۖ والناس یصلون بصلوة ابی بکر ۔ (مسلم شریف ، باب استخلاف الامام اذا عرض لہ عذر ص ١٧٧ نمبر ٤١٨ نمبر ٩٣٦ بخاری شریف ، باب انما جعل الامام لیؤتم بہ ص ٩٥ نمبر ٦٨٧ ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے موقع پر امام خلیفہ بنائے گا۔کیونکہ ابو بکر  کی جگہ پر حضورۖ نے نماز پڑھائی۔  
ترجمہ: ٤  اور عموم بلوی اس صورت میں ہے جب کہ حدث خودنکل جائے  اس صورت میں نہیں ہے جب جان بوجھ کر حدث کرے ، اسلئے خود بخود حدث ہو نے کو جان بوجھ کر حدث ہو نے کے ساتھ نہ ملا یا جائے ۔
تشریح :یہ امام شافعی  کو جواب ہے ، انہوں نے فرمایا تھا کہ خود بخود حدث نکل جانا ایساہے جیسے جان کر حدث کر نا ، اسکا جواب دیا جارہاہے کہ جان کر حدث کر نا کبھی کبھار ہو تا ہے اور اس میں اسکی شرارت ہے ، جان کر حدث کر نے میں مجبور نہیںہے ، اور خود بخود حدث ہوجانا عام طور پر ہو تا ہے ، اور اس میںآدمی مجبور بھی ہے ۔ اسلئے جان کر حدث ہو نے میں اور خود بخود حدث ہو نے میںفرق ہے اسلئے ایک کو دوسرے پر قیاس نہیںکیا جا سکتا ، اور دوسری بات یہ ہے کہ مجبوری کی شکل میں شریعت کی جانب سے آدمی کو بنا کر نے کی سہولت ملے گی ، اور شرارت کر کے حدث کر نے میں بنا کر نے کی سہولت نہیںملے گی ، بلکہ شروع سے نماز پڑھنی ہو گی ۔
لغت : سبق: خود بخود نکل جائے ، آگے بڑھ جائے ۔ بنی : کسی چیز پر بنا کر نا ۔ یستقبل : شروع سے کرے ۔ رعف : ناک سے خون بہنا ، نکسیر پھوٹنا ۔ امذی : مذی نکل جائے ۔مرد کے عضو تناسل سے خاص قسم کا پانی نکلتا ہے اسکومذی کہتے ہیں ۔ و لیبن : اور پہلی نماز پر بنا کرے۔ و البلوی : عموم بلوی اسکو کہتے ہیں کہ کوئی بات بار بار کر نے کی ضرورت پیش آجائے ، یا کسی کام کے کرنے میںمجبوری ہو ۔ 
ترجمہ: (٣٧٥)اور شروع سے نماز پڑھنا افضل ہے ۔ 
 ترجمہ :  ١  اختلاف  کے شبہ سے بچنے کے لئے ۔ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter