٢ ولنا قولہ علیہ السلام من قاء اورعف اوامذی فی صلاتہ فلینصرف ولیتوضا ولیبن علیٰ صلاتہ مالم یتکلم ٣ وقال علیہ السلام اذا صلی احدکم فقاء اورعف فلیضع یدہ علیٰ فمہ ولیقدم من لم یسبق بشیٔ
شروع سے نماز پڑھنی چاہئے ۔ چنانچہ امام شافعی کا مسلک ہے کہ نماز ٹوٹ گئی اور شروع سے نماز پڑھے ۔موسوعة میں عبارت یہ ہے ۔فان رعف الرجل الداخل فی صلوة الامام بعد ما یکبر مع الامام ، فخرج یسترعف فأحب الاقاویل الی فیہ انہ قاطع للصلوة و یسترعف ویتکلم ۔ ( موسوعة للشافعی باب الرجل یرعف یوم الجمعة ، ج ثالث ، ص ١١٦، نمبر ٢٢١٣) اس عبارت میں ہے کہ حدث ہو جائے یا نکسیر پھوٹ جائے تو نماز ٹوٹ جاے گی ۔اس لئے شروع سے نماز پڑھے ۔
وجہ : حدیث میں ہے کہ نماز شروع سے پڑھے ۔ حدیث یہ ہے (١)حدیث میں ہے عن علی بن طلق قال قال رسول اللہ ۖ اذا فساء احدکم فی الصلوة فلینصرف فلیتوضأ ولیعد الصلوة ۔ (ابو داؤد شریف ، باب اذا حدث فی الصلوة، ص ١٥١ نمبر ٢٠٥ ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز شروع سے پڑھنی چاہئے۔
ترجمہ: ٢ اور ہماری دلیل حضور علیہ السلام کا قول ہے کہ جس نے قی کی یا نکسیر پھوٹی ، یا نماز میں مذی نکل گئی تو وہ پھر جائے اور وضو کرے اور اپنی نماز پر بنا ء کرے جب تک کہ بات نہ کی ہو ۔
تشریح : صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے ۔عن عائشة قالت قال رسول اللہ ۖ: من اصابہ قیء او رعاف او قلس او مذی فلینصرف فلیتوضأ ثم لیبن علی صلوتہ وھو فی ذلک لا یتکلم ۔ (ابن ماجہ شریف ، باب ماجاء فی البناء علی الصلوة ص ١٧١، نمبر ١٢٢١ دار قطنی ، باب فی الوضوء من الخارج من البدن کالرعاف الخ ،ج اول ، ص ١٦٠ نمبر ٥٥٥) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب تک بات نہ کی ہو یا دوبارہ جان کر حدث نہ کیا ہو تو بنا کر سکتا ہے۔
ترجمہ: ٣ اور حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور قی ہو جائے یا نکسیر پھوٹ جائے تو اپنے ہاتھ کو منہ پر رکھے ، اور ایسے آدمی کو امام بنائے جسکی کوئی رکعت نہ چھوٹی ہو ۔
تشریح : اس حدیث میں ہے کہ کسی کی نکسیر پھوٹ جائے تو منہ پر ہاتھ یا کپڑا رکھ کر باہر جائے تاکہ خون مصلی پر نہ گرے اور ایسے آدمی کو امام بنانا بہتر ہے جسکی کوئی رکعت نہ گئی ہو ، اسلئے کہ جسکی کوئی رکعت گئی ہو گی وہ مقتدیوں کے ساتھ سلام نہیں پھیر سکے گا ، بلکہ امام کی نماز پوری کر نے کے بعد کسی دوسرے کوامام بنائے گا تاکہ وہ مقتدی کے ساتھ سلام پھیرے اور خود اپنی چھوٹی ہو ئی نماز پوری کرے گا ، تو چونکہ اس مسبوق کو دوبارہ امام بنانا پڑے گا ، اسلئے بہتر یہ ہے کہ ایسے آدمی کو امام بنائے جسکی رکعت چھوٹی نہ ہو ۔ اور اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ پچھلی نماز ٹوٹی نہیںبلکہ وہ ابھی باقی ہے اس پر بنا ہو سکتی ہے ۔ صاحب ھدایہ کی پیش کردہ حدیث تو نہ مل سکی