(٣٧٢) ولوکان یصلی الامی وحدہ والقاری وحدہ جاز) ١ وہو الصحیح لانہ لم یظہر منہما رغبة فی الجماعة (٣٧٣) فان قرأ الامام فی الاوّلیین ثم قدّم فی الاخریین امیافسدت صلاتہم
جائے گی ، لیکن بولنے والے کی نماز نہیں ہو گی کیونکہ انکو قرأت پر قدرت ہے اسلئے معذور کے پیچھے صحیح کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔ ]٢[ مرض کی وجہ سے رکوع سجدے کے اشارہ کر نے والا امام ہے اور مقتدی کچھ اشارہ کر نے والا ہے اور کچھ اصلی رکوع اورسجدہ کر نے والا ہے ، تو اشارہ کر نے والا امام کی نماز ہو جائے گی اور اشارہ کر نے والا مقتدی کی نماز ہو جائے گی ، کیونکہ معذور نے معذور کی اقتداء کی ، لیکن رکوع سجدہ کر نے والے کی نماز نہیںہو گی ، کیونکہ اسکو معذور کی اقتداء نہیںکر نی چاہئے ۔
ترجمہ: (٣٧٢) اور ا گر امی نے الگ نماز پڑھی اور قاری نے الگ نماز پڑھی تو جائز ہے ، اور دونو کی نماز صحیح ہو گی ۔
ترجمہ: ١ وہ صحیح ہے ، اسلئے کہ دونوں سے جماعت میں رغبت ظاہر نہیں ہو ئی ۔
تشریح : قاری امی کی اقتداء کرے تو قاری اور امی کی نماز فاسدہو گی ۔ لیکن اگر قاری امی کی اقتداء نہ کرے بلکہ دونوں علیحدہ علیحدہ نماز پڑھے تو دونوں کی نماز درست ہو گی ، اور ایسا کر نا جائز ہے ۔ درست تو اسلئے ہے کہ قاری نے امی کی اقتداء نہیں کی ۔ اور ایسا کر نا جائز اسلئے ہے کہ زیادہ سے زیادہ یہ ہو گاکہ جماعت کر نے کی رغبت نہیں کی، جماعت کر تا اور قاری کو امام بناتا تو قرأت کے ساتھ دو نوں کی نماز اعلی درجے پر مکمل ہو تی ، اور اس صورت میں امی کی نماز بغیر قرأت کے معذور کی نماز مکمل ہو ئی ۔ تاہم یہ بھی درست ہے ۔
ترجمہ: (٣٧٣) اگر امام نے پہلی دو رکعتوں میں قرأت کی ، اور دوسری دو رکعتوں میں کسی امی کو امام بنایا تو سب کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔
تشریح : یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ جن رکعتوںمیں قرأت کر نا لازم نہیںہے امام کو ان رکعتو ں میںبھی قرأت پر قدرت ہو نا ضروری ہے ، کیونکہ وہ رکعت بھی مستقل نماز ہے ۔
اب مسئلے کی تشریح یہ ہے کہ مثلا عشاء کی چار رکعت فرض پڑھ رہے تھے ، اور پہلی دو رکعتوں میں امام قاری تھا اسلئے پہلی دو رکعتوں میں قرأت کی پھراسکو حدث پیش آگیا جسکی وجہ سے وہ پیچھے چلا گیا اور کسی امی کو آگے بڑھا کر امام بنا دیا ، تو فرماتے ہیں کہ امام اور مقتدی سب کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔
وجہ : اسکی وجہ یہ ہے کہ ہر رکعت الگ الگ نماز ہے اسلئے پہلی دو رکعتوں میں ظاہری اور حقیقی طور پر قرأ ت کر نا فرض ہے اور دوسری دورکعتوں میں ظاہری طور پر قرأت کر نا مسنون ہے ، لیکن تقدیری قرأت اس میں بھی ضروری ہے ، یعنی قرأت پر کم سے کم قدرت ہو ، اور امی آدمی امام بنا تو اسکو قرأت پر قدرت ہی نہیںہے، اسلئے تقدیری قرأت بھی نہیں ہو سکتی ۔ اور یہ جس طرح اور لوگوں کا امام ہے