Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

566 - 627
(٣٧٢) ولوکان یصلی الامی وحدہ والقاری وحدہ جاز)   ١  وہو الصحیح لانہ لم یظہر منہما رغبة فی الجماعة  (٣٧٣) فان قرأ الامام فی الاوّلیین ثم قدّم فی الاخریین امیافسدت صلاتہم

جائے گی ، لیکن بولنے والے کی نماز نہیں ہو گی کیونکہ انکو قرأت پر قدرت ہے اسلئے معذور کے پیچھے صحیح کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔ ]٢[ مرض کی وجہ سے رکوع سجدے کے اشارہ کر نے والا امام ہے اور مقتدی کچھ اشارہ کر نے والا ہے اور کچھ اصلی رکوع اورسجدہ کر نے والا ہے ، تو اشارہ کر نے والا امام کی نماز ہو جائے گی اور اشارہ کر نے والا مقتدی کی نماز ہو جائے گی ، کیونکہ معذور نے معذور کی اقتداء کی ، لیکن رکوع سجدہ کر نے والے کی نماز نہیںہو گی ، کیونکہ اسکو معذور کی اقتداء نہیںکر نی چاہئے ۔ 
ترجمہ:   (٣٧٢)  اور ا گر امی نے الگ نماز پڑھی اور قاری نے الگ نماز پڑھی تو جائز ہے ، اور دونو کی نماز صحیح ہو گی ۔
ترجمہ:   ١   وہ صحیح ہے ، اسلئے کہ دونوں سے جماعت میں رغبت ظاہر نہیں ہو ئی  ۔
تشریح :  قاری امی کی اقتداء کرے تو قاری اور امی کی نماز فاسدہو گی ۔ لیکن اگر قاری امی کی اقتداء نہ کرے بلکہ دونوں علیحدہ علیحدہ نماز پڑھے تو دونوں کی نماز درست ہو گی  ، اور ایسا کر نا جائز ہے ۔ درست تو اسلئے ہے کہ قاری نے امی کی اقتداء نہیں کی ۔ اور ایسا کر نا جائز اسلئے ہے کہ زیادہ سے زیادہ یہ ہو گاکہ جماعت کر نے کی رغبت نہیں کی، جماعت کر تا اور قاری کو امام بناتا تو قرأت کے ساتھ دو نوں کی نماز  اعلی درجے پر مکمل ہو تی ، اور اس صورت میں امی کی نماز بغیر قرأت کے معذور کی نماز مکمل ہو ئی ۔ تاہم یہ بھی درست ہے ۔
ترجمہ:  (٣٧٣)  اگر امام نے پہلی دو رکعتوں میں قرأت کی ، اور دوسری دو رکعتوں میں کسی امی کو امام بنایا تو سب کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔
تشریح :  یہ مسئلہ اس اصول پر ہے کہ جن رکعتوںمیں قرأت کر نا لازم نہیںہے امام کو ان رکعتو ں میںبھی قرأت پر قدرت ہو نا ضروری ہے ، کیونکہ وہ رکعت بھی مستقل نماز ہے ۔ 
 اب مسئلے کی تشریح یہ ہے کہ مثلا عشاء کی چار رکعت فرض پڑھ رہے تھے  ، اور پہلی دو رکعتوں میں امام قاری تھا اسلئے پہلی دو رکعتوں میں قرأت کی پھراسکو حدث پیش آگیا جسکی وجہ سے وہ پیچھے چلا گیا اور کسی امی کو آگے بڑھا کر امام بنا دیا ، تو فرماتے ہیں کہ امام اور مقتدی سب کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔  
وجہ :  اسکی وجہ یہ ہے کہ ہر رکعت الگ الگ نماز ہے اسلئے پہلی دو رکعتوں میں ظاہری اور حقیقی طور پر قرأ ت کر نا فرض ہے اور دوسری دورکعتوں میں ظاہری طور پر قرأت کر نا مسنون ہے ، لیکن تقدیری قرأت اس میں بھی ضروری ہے ، یعنی قرأت پر کم سے کم قدرت ہو ، اور امی آدمی امام بنا تو اسکو قرأت پر قدرت ہی نہیںہے، اسلئے تقدیری قرأت بھی نہیں ہو سکتی ۔ اور یہ جس طرح اور لوگوں کا امام ہے 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter