Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

567 - 627
 ١  وقال زفر لا تفسد لتأدی فرض القراء ة  ٢ ولنا ان کل رکعة صلوٰة فلا تخلی عن القراء ة اما تحقیقااوتقدیرا ولا تقدیر فی حق الامی لانعدام الاہلیة  ٣ وکذلک علی ہٰذا الوقدمہ فی التشہد،،   واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب.

اسی طرح جس امام کو حدث پیش آیا اسکا بھی امام ہے ، اور وہ قاری  ہے ، تو گویا کہ یہ امی قاری کا امام بن گیا ، اور پہلے گزر گیا کہ امی قاری کا امام بن جائے تو امام کی نماز فاسد ہو جائے گی اور جب امام کی نماز فاسد ہو گی تو تمام مقتدی کی بھی نماز فاسد ہو جائے گی ، اسلئے یہاں پرانا امام ، نیا امام اور تمام مقتدی  سب کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔ 
ترجمہ:   ١   امام زفر  نے فرمایا کہ نماز فاسد نہیں ہو گی اسلئے کہ قرأت کا فرض ادا ہو چکا ہے ۔ 
تشریح :  امام زفر  فرماتے ہیں کہ پہلی دو رکعتوں میں قرأت فرض ہے تو اسکو سابق امام نے ادا کر دیا ہے ، اب دوسری دو رکعتوں میں قرأت کر نے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ دوسری دو رکعتوں میں حنفیہ کے یہاں قرأت مسنون ہے اسلئے اب قرأت کی ضرورت نہیں ہے اسلئے امی آدمی کو امام بنایا تو چونکہ اب قرأت کی ضرورت نہیں ہے اسلئے بغیر قرأت کے بھی سب کی نماز ہو جائے گی  ۔
ترجمہ:  ٢   اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ہر رکعت الگ الگ نماز ہے اسلئے قرأت سے خالی نہیں ہو نی چاہئے ، یا تو حقیقة ً  قرأت ہو ، یا تقدیراً  قرأت ہو ، اور امی کے حق میں تقدیرا بھی قرأت نہیں ہے اسلئے کہ اس میںقرأت کر نے کی اہلیت ہی نہیں ہے۔ 
تشریح :  یہ نماز فاسد ہو نے کی دلیل عقلی ہے ۔ کہ ہر رکعت مستقل نماز ہے اسلئے یا تو تحقیقی طور پر قرأت ہو نی چاہئے ، جیسا کہ پہلی دو رکعتوں میں حقیقی طور پر قرأت کر تے ہیں جو فر ض ہے اور دوسری دو رکعتوں میں حقیقی طور پر قرأت کر نا سنت ہے ، لیکن پہلی دو رکعتوں کی قرأت دوسری دو رکعتوں کے لئے بھی ہے اسلئے گویا کہ تقدیرا ً وہاں بھی قرأت ہے ۔ اور امی میں قرأت کی اہلیت ہی نہیں ہے اسلئے تقدیرا ً بھی قرأت نہیں ہو ئی اسلئے نماز فاسد ہو جائے گی ۔
ترجمہ : ٣   اور ایسے ہی اس قاعدے پر یہ نماز فاسد ہو جائے گی اگر امی آدمی کو تشہد میں امام بنا دیا ۔ 
تشریح :  اس مسئلے کا مدار اس اصول پر ہے کہ قاری آدمی کا امام پوری نماز میںقرأت پر قدرت رکھتا ہو تب امامت درست ہو گی ، اگر نماز کے ایک جز میں بھی امی قاری کا امام بن گیا تو قاری کا امام بننے کی وجہ سے سب کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔
اب مسئلے کی تشریح یہ ہے کہ قاری امام نے قرأت کر کے ساری نماز پڑھا دی البتہ تشھد سے پہلے حدث ہو گیا جسکی وجہ سے تشہد میں امام نے امی آدمی کو امام بنادیا تو سب کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ تشہد کے وقت قرأت کی ضرورت نہیں ہے پھر بھی امام کو قرأت پر قدرت ہو نی چاہئے ، اور یہاں امی امام کو قرأت پر قدرت نہیںہے اور وہ قاری آدمی کا امام بن گیا جو نہیں بننا چاہئے اسلئے اسکی نماز فاسد ہو جائے گی ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter