١ وقال زفر لا تفسد لتأدی فرض القراء ة ٢ ولنا ان کل رکعة صلوٰة فلا تخلی عن القراء ة اما تحقیقااوتقدیرا ولا تقدیر فی حق الامی لانعدام الاہلیة ٣ وکذلک علی ہٰذا الوقدمہ فی التشہد،، واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
اسی طرح جس امام کو حدث پیش آیا اسکا بھی امام ہے ، اور وہ قاری ہے ، تو گویا کہ یہ امی قاری کا امام بن گیا ، اور پہلے گزر گیا کہ امی قاری کا امام بن جائے تو امام کی نماز فاسد ہو جائے گی اور جب امام کی نماز فاسد ہو گی تو تمام مقتدی کی بھی نماز فاسد ہو جائے گی ، اسلئے یہاں پرانا امام ، نیا امام اور تمام مقتدی سب کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔
ترجمہ: ١ امام زفر نے فرمایا کہ نماز فاسد نہیں ہو گی اسلئے کہ قرأت کا فرض ادا ہو چکا ہے ۔
تشریح : امام زفر فرماتے ہیں کہ پہلی دو رکعتوں میں قرأت فرض ہے تو اسکو سابق امام نے ادا کر دیا ہے ، اب دوسری دو رکعتوں میں قرأت کر نے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ دوسری دو رکعتوں میں حنفیہ کے یہاں قرأت مسنون ہے اسلئے اب قرأت کی ضرورت نہیں ہے اسلئے امی آدمی کو امام بنایا تو چونکہ اب قرأت کی ضرورت نہیں ہے اسلئے بغیر قرأت کے بھی سب کی نماز ہو جائے گی ۔
ترجمہ: ٢ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ہر رکعت الگ الگ نماز ہے اسلئے قرأت سے خالی نہیں ہو نی چاہئے ، یا تو حقیقة ً قرأت ہو ، یا تقدیراً قرأت ہو ، اور امی کے حق میں تقدیرا بھی قرأت نہیں ہے اسلئے کہ اس میںقرأت کر نے کی اہلیت ہی نہیں ہے۔
تشریح : یہ نماز فاسد ہو نے کی دلیل عقلی ہے ۔ کہ ہر رکعت مستقل نماز ہے اسلئے یا تو تحقیقی طور پر قرأت ہو نی چاہئے ، جیسا کہ پہلی دو رکعتوں میں حقیقی طور پر قرأت کر تے ہیں جو فر ض ہے اور دوسری دو رکعتوں میں حقیقی طور پر قرأت کر نا سنت ہے ، لیکن پہلی دو رکعتوں کی قرأت دوسری دو رکعتوں کے لئے بھی ہے اسلئے گویا کہ تقدیرا ً وہاں بھی قرأت ہے ۔ اور امی میں قرأت کی اہلیت ہی نہیں ہے اسلئے تقدیرا ً بھی قرأت نہیں ہو ئی اسلئے نماز فاسد ہو جائے گی ۔
ترجمہ : ٣ اور ایسے ہی اس قاعدے پر یہ نماز فاسد ہو جائے گی اگر امی آدمی کو تشہد میں امام بنا دیا ۔
تشریح : اس مسئلے کا مدار اس اصول پر ہے کہ قاری آدمی کا امام پوری نماز میںقرأت پر قدرت رکھتا ہو تب امامت درست ہو گی ، اگر نماز کے ایک جز میں بھی امی قاری کا امام بن گیا تو قاری کا امام بننے کی وجہ سے سب کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔
اب مسئلے کی تشریح یہ ہے کہ قاری امام نے قرأت کر کے ساری نماز پڑھا دی البتہ تشھد سے پہلے حدث ہو گیا جسکی وجہ سے تشہد میں امام نے امی آدمی کو امام بنادیا تو سب کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ تشہد کے وقت قرأت کی ضرورت نہیں ہے پھر بھی امام کو قرأت پر قدرت ہو نی چاہئے ، اور یہاں امی امام کو قرأت پر قدرت نہیںہے اور وہ قاری آدمی کا امام بن گیا جو نہیں بننا چاہئے اسلئے اسکی نماز فاسد ہو جائے گی ۔