(٣٥٠) وان صلی خلفہ اوفی یسارہ جاز) ١ وہو مسییٔ لانہ خالف السنة (٣٥١) وان امّ اثنین تقدم علیہما) ١ وعن ابی یوسف یتوسطہما ونقل ذٰلک عن عبداللّٰہ بن مسعود
ہے۔
تشریح : امام محمد کی ایک روایت یہ ہے کہ ایک مقتدی ہو تو دائیں جانب اس طرح تھوڑا پیچھے کھڑا ہو کہ مقتدی کی انگلیاں امام کی ایڑی کے پاس ہو جائے ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ امام کا حق آگے ہو نا ہے اسلئے تھوڑا سا آگے ہو جائے ۔ لیکن پہلا مسلک زیادہ ظاہر اسلئے ہے کہ حضور ۖ نے حضرت ابن عباس کو دائیں جانب تو کیا لیکن تھوڑا سا پیچھے نہیں کیا ، جس سے معلوم ہوا کہ پیچھے کر نا مستحب نہیں ہے ۔
ترجمہ : (٣٥٠) اور اگر پیچھے نماز پڑھ لی یا بائیں جانب پڑھ لی تب بھی جائز ہے ۔
ترجمہ : ١ لیکن اچھا نہیں ہے اسلئے کہ سنت کے خلاف کیا ۔
تشریح : ایک مقتدی ہو تو دائیں جانب کھڑا ہو نا چاہئے ، لیکن اگر دائیں جانب کے بجائے پیچھے کھڑا ہو گیا یا بائیں جانب کھڑا ہو گیا تب بھی نماز ہو جائے گی ، البتہ چونکہ سنت کے خلاف کیا اسلئے اچھا نہیں ہے ۔
ترجمہ : (٣٥١) اور اگر دو آدمیوں کی امامت کی تو ان دونوں سے آگے بڑھ کر کھڑا ہو ۔
وجہ : صاحب ھدایہ کی یہ حدیث ہے ۔ عن انس بن مالک قال صلیت اناو یتیم فی بیتنا خلف النبی وامی خلفنا ام سلیم (بخاری شریف ، باب المرأة وحدھا تکون صفا ص١٠١ نمبر ٧٢٧ ابو داؤد شریف ، باب اذا کانوا ثلثة کیف یقومون ص ٩٧ نمبر ٦١٢) اس حدیث میں انس اور یتیم دو آدمی تھے تو حضورۖ کے پیچھے کھڑے ہوئے۔اس سے معلوم ہوا کہ دو مقتدی ہوں تو امام آگے کھڑا ہوگا اور دونوں مقتدی پیچھے کھڑے ہو نگے۔
ترجمہ: ١ اور امام ابو یوسف سے روایت ہے کہ دونوں کے درمیان میں کھڑا ہو ۔ اور یہ بات نقل کی گئی ہے حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے ۔
فائدہ: امام ابو یوسف کے نزدیک امام دونوں مقتدیوں کے بیچ میں کھڑا ہوگا۔ان کا استدلال اس اثر سے ہے ۔ عن علقمة و الاسود : أنھما دخلا علی عبد اللہ فقال : أصلی من خلفکم ؟ قالا : نعم ۔ فقام بینھما ، و جعل احدھما عن یمینہ و الآخر عن شمالہ ثم رکعنا ۔( مسلم شریف ، باب الندب الی وضع الایدی علی الرکب فی الرکوع و نسخ التطبیق ، ص ٢٠٢ ، نمبر ٥٣٤ ١١٩٣ ابو داؤد شریف ، باب اذا کانوا ثلثة کیف یقومون ص ٩٧ نمبر ٦١٣) اس حدیث میں عبد اللہ بن مسعود علقمہ اور اسود کے درمیان کھڑے ہوئے ہیں ۔اس لئے امام ابو یوسف کے نزدیک یہ بہتر ہے۔امام اعظم کے نزدیک یہ بھی جائز ہے لیکن آگے کھڑا