Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

533 - 627
٣  ولان فی التقدم زیادة الکشف (٣٤٨)  ومن صلی مع واحد اقامہ عن یمینہ )   ١  لحدیث ابن عباس فانہ ں صلّٰی بہ واقامہ عن یمینہ (٣٤٩) ولایتأخر عن الامام)  ١  وعن محمد انہ یضع اصابعہ عند عقب الامام والاوّل ہو الظاہر 

تشریح :   حضرت عائشہ  نے جو  ریطہ الحنفیہ وغیرہ کی امامت کی ہے اسکے بارے میں تاویل کر رہے ہیں کہ یہ امامت شروع اسلام میں کی ہو گی ، اس پر محمول کیا جائے گا ۔۔ لیکن یہ تاویل اتنی مضبوط اسلئے نہیں ہے کہ ریطہ الحنفیہ تابعیہ ہیں ، جسکا مطلب یہ ہوا کہ حضور ۖ کے دنیا سے رخصت ہو نے کے بعد حضرت عائشہ  نے امامت کی ہیں اسلئے یہ ابتداء اسلام پر کیسے محمول کیا جا سکتاہے! ۔  
ترجمہ:  ٣   اور اسلئے بھی کہ عورت کے آگے بڑھنے میں کشف عورت زیادہ ہے ۔
تشریح :  یہ دلیل عقلی اس بات کی ہے کہ عورت آگے کھڑی نہ ہو  درمیان صف میں کھڑی ہو کیونکہ آگے کھڑی ہو گی عورت کا جسم لوگوں کے سامنے زیادہ ابھر کر آئے گاجو اچھا نہیں ہے اسلئے اسکو درمیان میں کھڑی ہو نی چاہئے ۔  
لغت:  العراة  :  عاری کی جمع ہے ننگے۔
ترجمہ:  (٣٤٨)  اور جو ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھے اس کو اپنی دائیں جانب کھڑا کرے۔  
ترجمہ:   ١   حضرت ابن عباس  کی حدیث کی وجہ سے ، کہ حضور علیہ السلام نے انکو نماز پڑھائی اور انکو دائیں جانب کھڑا کیا ۔  
وجہ  :(١) دائیں جانب افضل ہے اس لئے ایک آدمی مقتدی ہو تو امام اس کو اپنی دائیں جانب میں کھڑا کرے (٢) صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے ۔ عن ابن عباس قال صلیت مع النبی ۖ ذات لیلة فقمت عن یسارہ فاخذ رسول اللہ ۖ برأسی من ورائی فجعلنی عن یمینہ فصلی۔ (بخاری شریف ،باب اذا قام الرجل عن یسارالامام وحولہ الامام خلفہ الی یمینہ تمت صلوتہ ص ١٠٠ نمبر ٧٢٦ مسلم شریف ، باب صلوة النبی  ۖ و دعائہ باللیل ۔ ص ٢٦٠ ، نمبر ٧٦٣ ١٧٨٨)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک مقتدی ہوتو اس کو دائیں جانب کھڑا کرنا چاہئے۔لیکن امام سے تھوڑا پیچھے کھڑا ہوگا۔
ترجمہ : (٣٤٩)  اور امام سے پیچھے نہ رہے ۔ 
تشریح :  امام کے ساتھ ایک ہی مقتدی ہو تو وہ دائیں جانب کھڑا ہو اور برابر میں کھڑا ہو ، تھوڑا پیچھے ہٹ کر کھڑا ہو نا ضروری نہیں ہے ۔
وجہ:  اوپر کی حدیث میں حضرت ابن عباس کو دائیں جانب کھڑا کیا اور تھوڑا پیچھے نہیںکیا جس سے معلوم ہوا کہ پیچھے کھڑا کر نا ضروری نہیں ہے 
ترجمہ:   ١   اور امام محمد  سے روایت ہے کہ مقتدی اپنی انگلیوں کو امام کی ایڑی کے پاس رکھے ۔ لیکن پہلا مسلک زیادہ ظاہر 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter