٣ ولان فی التقدم زیادة الکشف (٣٤٨) ومن صلی مع واحد اقامہ عن یمینہ ) ١ لحدیث ابن عباس فانہ ں صلّٰی بہ واقامہ عن یمینہ (٣٤٩) ولایتأخر عن الامام) ١ وعن محمد انہ یضع اصابعہ عند عقب الامام والاوّل ہو الظاہر
تشریح : حضرت عائشہ نے جو ریطہ الحنفیہ وغیرہ کی امامت کی ہے اسکے بارے میں تاویل کر رہے ہیں کہ یہ امامت شروع اسلام میں کی ہو گی ، اس پر محمول کیا جائے گا ۔۔ لیکن یہ تاویل اتنی مضبوط اسلئے نہیں ہے کہ ریطہ الحنفیہ تابعیہ ہیں ، جسکا مطلب یہ ہوا کہ حضور ۖ کے دنیا سے رخصت ہو نے کے بعد حضرت عائشہ نے امامت کی ہیں اسلئے یہ ابتداء اسلام پر کیسے محمول کیا جا سکتاہے! ۔
ترجمہ: ٣ اور اسلئے بھی کہ عورت کے آگے بڑھنے میں کشف عورت زیادہ ہے ۔
تشریح : یہ دلیل عقلی اس بات کی ہے کہ عورت آگے کھڑی نہ ہو درمیان صف میں کھڑی ہو کیونکہ آگے کھڑی ہو گی عورت کا جسم لوگوں کے سامنے زیادہ ابھر کر آئے گاجو اچھا نہیں ہے اسلئے اسکو درمیان میں کھڑی ہو نی چاہئے ۔
لغت: العراة : عاری کی جمع ہے ننگے۔
ترجمہ: (٣٤٨) اور جو ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھے اس کو اپنی دائیں جانب کھڑا کرے۔
ترجمہ: ١ حضرت ابن عباس کی حدیث کی وجہ سے ، کہ حضور علیہ السلام نے انکو نماز پڑھائی اور انکو دائیں جانب کھڑا کیا ۔
وجہ :(١) دائیں جانب افضل ہے اس لئے ایک آدمی مقتدی ہو تو امام اس کو اپنی دائیں جانب میں کھڑا کرے (٢) صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے ۔ عن ابن عباس قال صلیت مع النبی ۖ ذات لیلة فقمت عن یسارہ فاخذ رسول اللہ ۖ برأسی من ورائی فجعلنی عن یمینہ فصلی۔ (بخاری شریف ،باب اذا قام الرجل عن یسارالامام وحولہ الامام خلفہ الی یمینہ تمت صلوتہ ص ١٠٠ نمبر ٧٢٦ مسلم شریف ، باب صلوة النبی ۖ و دعائہ باللیل ۔ ص ٢٦٠ ، نمبر ٧٦٣ ١٧٨٨)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک مقتدی ہوتو اس کو دائیں جانب کھڑا کرنا چاہئے۔لیکن امام سے تھوڑا پیچھے کھڑا ہوگا۔
ترجمہ : (٣٤٩) اور امام سے پیچھے نہ رہے ۔
تشریح : امام کے ساتھ ایک ہی مقتدی ہو تو وہ دائیں جانب کھڑا ہو اور برابر میں کھڑا ہو ، تھوڑا پیچھے ہٹ کر کھڑا ہو نا ضروری نہیں ہے ۔
وجہ: اوپر کی حدیث میں حضرت ابن عباس کو دائیں جانب کھڑا کیا اور تھوڑا پیچھے نہیںکیا جس سے معلوم ہوا کہ پیچھے کھڑا کر نا ضروری نہیں ہے
ترجمہ: ١ اور امام محمد سے روایت ہے کہ مقتدی اپنی انگلیوں کو امام کی ایڑی کے پاس رکھے ۔ لیکن پہلا مسلک زیادہ ظاہر