Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

532 - 627
(٣٤٧)  وان فعلن قامت الامام وسطہن)   ١  لان عائشة  فعلت کذلک   ٢  وحُمل فعلہاالجماعةعلی ابتدائالاسلام  

یہ ہے کہ صف سے آگے کھڑا ہو تو سنت چھوڑنے کا ارتکاب کر نا ہو گا اسلئے بہتر یہ ہے کہ وہ امامت نہ کرائے ، جیسے ننگے  لوگوں کے لئے ہے کہ وہ جماعت نہ کرائیں ، اور کر نا بھی ہو تو انکا امام صف کے درمیان کھڑا ہو گا ۔ ننگے لوگوں کا امام درمیان میں کھڑا ہوگا اس کی دلیل یہ اثر ہے  عن قتادة قال:  اذا خرج ناس من البحر عراة فامھم احدھم صلوا قعودا وکان امامھم معھم فی الصف ویومئون  ایماء (مصنف عبد الرزاق ،باب ضلوة العریان ج ثانی ص ٥٨٣، نمبر ٤٥٦٤)اس اثر میں ہے کہ ننگے لوگ امامت کرائے تو انکا امام صف کے درمیان میںکھڑا ہو گا ۔
 ترجمہ:  (٣٤٧)  اور اگر امامت کر ہی لی تو امام عورتوں کے درمیان کھڑی ہو گی ۔
ترجمہ :  ١   اسلئے کہ حضرت عائشہ  نے ایسا ہی کیا تھا ۔ 
تشریح :  عورت کی امامت  ہے تو مکروہ ، لیکن کر ہی لی تو جائز ہو جائے گی ، البتہ امام صف کے درمیان کھڑی ہو گی ۔ 
وجہ:  ( ١) صاحب ھدایہ کا اثر یہ ہے ۔ عن ریطة الحنفیة قالت أمتنا عائشة فقامت بینھن فی الصلوة المکتوبة  فی حدیث آخر۔ عن حجیرة بنت حصین قالت : أمتنا ام سلمة فی صلوة العصر فقامت بیننا  (دار قطنی ، باب صلوة النساء جماعة و موقف امامھن، ج اول ، ص ٣٨٨ نمبر ١٤٩٣١٤٩٢ مستدرک للحاکم ،باب فی فضل الصلوات الخمس ، ج اول ، ص ٣٢٠ ، نمبر ٧٣١) اس اثر سے معلوم ہوا کہ عورت کی امامت جائز ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ درمیان میں کھڑی ہو گی ۔ (٢) اور عورت کی امامت جائز ہے اسکی دلیل یہ حدیث  ہے۔ عن ام ورقة بنت عبد اللہ بن حارث ٫ بھذ الحدیث و الاول اتم، قال : و کان رسول اللہ  ۖ یزورھا فی بیتھا و جعل لھا موء ذنا ً یوء ذن لھا ، و أمر ھا أن تئوم أھل دارھا ۔ قال عبد الرحمن : فأنا رأیت ُ موء ذنھا شیخا کبیرا ً ۔ ( ابو داود شریف ، باب امامة النساء ، ص ٩٤ ، نمبر ٥٩٢) اس حدیث میں ہے کہ حضور ۖ نے حضرت ام ورقہ کو اپنے گھر والوں کی امامت کی اجازت دی تھی ۔ 
اور عورت مرد کی امامت بالکل نہ کرے اسکے لئے یہ حدیث ہے ۔عن جابر بن عبد اللہ قال : سمعتُ رسول اللہ  ۖ علی منبرہ یقول : فذکر الحدیث و فیہ ألا و لا تئومن امرأة رجلا ۔ ( سنن بیھقی ، باب لا یأتم رجل بامرأة ، ج ثالث ، ص ١٢٨، نمبر ٥١٣١) اس حدیث میں ہے کہ عورت مرد کی امامت بالکل نہ کرے ۔   
ترجمہ :  ٢   اور حضرت عائشہ  نے جو عورتوں کی امامت کی ہے اسکو ابتداء اسلام پر محمول کیا جائے گا ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter