(٣٤٧) وان فعلن قامت الامام وسطہن) ١ لان عائشة فعلت کذلک ٢ وحُمل فعلہاالجماعةعلی ابتدائالاسلام
یہ ہے کہ صف سے آگے کھڑا ہو تو سنت چھوڑنے کا ارتکاب کر نا ہو گا اسلئے بہتر یہ ہے کہ وہ امامت نہ کرائے ، جیسے ننگے لوگوں کے لئے ہے کہ وہ جماعت نہ کرائیں ، اور کر نا بھی ہو تو انکا امام صف کے درمیان کھڑا ہو گا ۔ ننگے لوگوں کا امام درمیان میں کھڑا ہوگا اس کی دلیل یہ اثر ہے عن قتادة قال: اذا خرج ناس من البحر عراة فامھم احدھم صلوا قعودا وکان امامھم معھم فی الصف ویومئون ایماء (مصنف عبد الرزاق ،باب ضلوة العریان ج ثانی ص ٥٨٣، نمبر ٤٥٦٤)اس اثر میں ہے کہ ننگے لوگ امامت کرائے تو انکا امام صف کے درمیان میںکھڑا ہو گا ۔
ترجمہ: (٣٤٧) اور اگر امامت کر ہی لی تو امام عورتوں کے درمیان کھڑی ہو گی ۔
ترجمہ : ١ اسلئے کہ حضرت عائشہ نے ایسا ہی کیا تھا ۔
تشریح : عورت کی امامت ہے تو مکروہ ، لیکن کر ہی لی تو جائز ہو جائے گی ، البتہ امام صف کے درمیان کھڑی ہو گی ۔
وجہ: ( ١) صاحب ھدایہ کا اثر یہ ہے ۔ عن ریطة الحنفیة قالت أمتنا عائشة فقامت بینھن فی الصلوة المکتوبة فی حدیث آخر۔ عن حجیرة بنت حصین قالت : أمتنا ام سلمة فی صلوة العصر فقامت بیننا (دار قطنی ، باب صلوة النساء جماعة و موقف امامھن، ج اول ، ص ٣٨٨ نمبر ١٤٩٣١٤٩٢ مستدرک للحاکم ،باب فی فضل الصلوات الخمس ، ج اول ، ص ٣٢٠ ، نمبر ٧٣١) اس اثر سے معلوم ہوا کہ عورت کی امامت جائز ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ درمیان میں کھڑی ہو گی ۔ (٢) اور عورت کی امامت جائز ہے اسکی دلیل یہ حدیث ہے۔ عن ام ورقة بنت عبد اللہ بن حارث ٫ بھذ الحدیث و الاول اتم، قال : و کان رسول اللہ ۖ یزورھا فی بیتھا و جعل لھا موء ذنا ً یوء ذن لھا ، و أمر ھا أن تئوم أھل دارھا ۔ قال عبد الرحمن : فأنا رأیت ُ موء ذنھا شیخا کبیرا ً ۔ ( ابو داود شریف ، باب امامة النساء ، ص ٩٤ ، نمبر ٥٩٢) اس حدیث میں ہے کہ حضور ۖ نے حضرت ام ورقہ کو اپنے گھر والوں کی امامت کی اجازت دی تھی ۔
اور عورت مرد کی امامت بالکل نہ کرے اسکے لئے یہ حدیث ہے ۔عن جابر بن عبد اللہ قال : سمعتُ رسول اللہ ۖ علی منبرہ یقول : فذکر الحدیث و فیہ ألا و لا تئومن امرأة رجلا ۔ ( سنن بیھقی ، باب لا یأتم رجل بامرأة ، ج ثالث ، ص ١٢٨، نمبر ٥١٣١) اس حدیث میں ہے کہ عورت مرد کی امامت بالکل نہ کرے ۔
ترجمہ : ٢ اور حضرت عائشہ نے جو عورتوں کی امامت کی ہے اسکو ابتداء اسلام پر محمول کیا جائے گا ۔