(٣٤٤) وان تقدموا ) ١ جازلقولہ ںصلوا خلف کل بروفاجر(٣٤٥)ولا یطول الامام بہم الصلوٰة) ١ لقولہ ں من امَّ قومًا فلیصلِّ بہم صلوٰة اضعفہم فان فیہم المریض والکبیروذا الحاجة
وازرة وزر أخری ) ]آیت ١٨ سورة فاطر ٣٥[تعنی ولد الزنا ۔ و عن الشعبی و النخعی و الزھری فی ولد الزنا أنہ یئوم سنن بیھقی ، باب اجعلوا ائمتکم خیارکم و ما جاء فی امامة ولد الزناء ، ج ثالث ، ص ١٢٩، نمبر ٥١٣٦) اس اثر میں ہے کہ ولد الزنا امامت کرا سکتا ہے۔
ترجمہ : ( ٣٤٤) اور یہ لوگ آگے بڑھ گئے تو نماز جائز ہے ۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ، ہر نیک اور بد کے پیچھے نماز پڑھو ۔
تشریح : ان لوگوں کے پیچھے نماز اس وقت مکروہ تنزیہی ہے جبکہ انکی کوئی حیثیت نہ ہو اور لوگ نفرت کر تے ہوں اورپڑھے لکھے نہ ہوں اسکے باوجود وہ نماز کے لئے کھڑے ہو گئے تو نماز ہو جاے گی ، دلیل یہ حدیث ہے ، جو صاحب ھدایہ کی بھی حدیث ہے۔ عن ابی ھریرة ان رسول اللہ ۖ قال صلوا خلف کل بر و فاجر و صلوا علی کل بر و فاجر (دار قطنی ، باب صفة من تجوز الصلوة معہ و الصلوة علیہ ، ج ثانی ، ص ٤٤، نمبر ١٧٥٠ سنن للبیھقی ، باب الصلوة علی من قتل فی نفسہ غیر مستحل لقتلھا ج رابع ،کتاب الجنائز ،ص٢٩، نمبر٦٨٣٢)اس حدیث میں ہے کہ ہر نیک اور بد کے پیچھے نماز پڑھ لو اسلئے انکے پیچھے نماز ہو جائے گی ۔
ترجمہ : (٣٤٥) امام کے لئے مناسب ہے کہ مقتدیوں کے ساتھ نماز بہت لمبی نہ کرے۔
ترجمہ: ١ حضور علیہ السلام کے قول کیوجہ سے ،کہ جو کسی قوم کی امامت کرے تو انکے کمزور کی نماز پڑھائے ، اسلئے کہ ان میں بیمار ہو تے ہیں ، بوڑھے ہو تے ہیں ، اور ضرورت مند بھی ہو تے ہیں ۔
وجہ :(١) نماز بہت زیادہ لمبی کرنے میں کمزور اور بوڑھے لوگ پریشان ہونگے جو جائز نہیں ہے۔ اس لئے مستحبات سے زیادہ قرأت لمبی نہیں کرنی چاہئے۔ ہاں ! اگر تنہا نماز پڑھ رہا ہو تو جتنی لمبی کرنا چاہے کر سکتا ہے(٢) ھدایہ کی حدیث ہے اخبرنی ابو مسعود ان رجل قال واللہ یا رسول اللہ انی لاتأخر عن صلوة الغداة من اجل فلان مما یطیل بنا فما رأیت رسول اللہ ۖ فی موعظہ اشد غضبا منہ یومئذ ثم قال ان منکم منفرین فایکم ما صلی بالناس فلیتجوز فان فیھم الضعیف والکبیر و ذاالحاجة (بخاری شریف، باب تخفیف الامام فی القیام واتمام الرکوع والسجود ص ٩٧ نمبر ٧٠٢ مسلم شریف ، باب أمر الائمة بتخفیف الصلوة فی تمام ، ص ١٨٨ ،نمبر٤٦٦ ١٠٤٤)اس کے آگے حدیث میں یہ جملہ بھی ہے واذا صلی احدکم لنفسہ فلیطول ماشاء (بخاری شریف،نمبر ٧٠٣ مسلم شریف، نمبر١٠٤٧٤٦٧ ) اس سے معلوم ہوا کہ امام ہوتو نماز زیادہ لمبی نہ