Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

530 - 627
(٣٤٤) وان تقدموا )  ١  جازلقولہ ںصلوا خلف کل بروفاجر(٣٤٥)ولا یطول الامام بہم الصلوٰة)  ١  لقولہ ں من امَّ قومًا فلیصلِّ بہم صلوٰة اضعفہم فان فیہم المریض والکبیروذا الحاجة 

وازرة  وزر أخری )  ]آیت ١٨ سورة فاطر ٣٥[تعنی ولد الزنا ۔ و عن الشعبی و النخعی و الزھری فی ولد الزنا أنہ یئوم  سنن بیھقی ، باب اجعلوا ائمتکم خیارکم و ما جاء فی امامة ولد الزناء ، ج ثالث ، ص ١٢٩، نمبر ٥١٣٦) اس اثر میں ہے کہ ولد الزنا امامت کرا سکتا ہے۔
ترجمہ : ( ٣٤٤)  اور یہ لوگ آگے بڑھ گئے تو نماز جائز ہے ۔
ترجمہ:  ١    اسلئے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ، ہر نیک اور بد کے  پیچھے نماز پڑھو ۔ 
تشریح :  ان لوگوں کے پیچھے نماز اس وقت مکروہ تنزیہی ہے جبکہ انکی کوئی حیثیت نہ ہو اور  لوگ نفرت کر تے ہوں اورپڑھے لکھے نہ ہوں  اسکے باوجود وہ نماز کے لئے کھڑے ہو گئے تو نماز ہو جاے گی ، دلیل یہ حدیث ہے ، جو صاحب ھدایہ کی بھی حدیث ہے۔  عن ابی ھریرة ان رسول اللہ ۖ قال صلوا خلف کل بر و فاجر و صلوا علی کل بر و فاجر  (دار قطنی ، باب  صفة من تجوز الصلوة معہ و الصلوة علیہ ، ج ثانی ، ص ٤٤، نمبر ١٧٥٠  سنن للبیھقی ، باب الصلوة علی من قتل فی نفسہ غیر مستحل لقتلھا ج رابع ،کتاب الجنائز ،ص٢٩، نمبر٦٨٣٢)اس حدیث میں ہے کہ ہر نیک اور بد کے پیچھے نماز پڑھ لو اسلئے انکے پیچھے نماز ہو جائے گی ۔ 
ترجمہ : (٣٤٥)  امام کے لئے مناسب ہے کہ مقتدیوں کے ساتھ نماز بہت لمبی نہ کرے۔
ترجمہ:   ١   حضور علیہ السلام کے قول کیوجہ سے ،کہ جو کسی قوم کی امامت کرے تو انکے کمزور کی نماز پڑھائے ، اسلئے کہ ان میں بیمار ہو تے ہیں ، بوڑھے ہو تے ہیں ، اور ضرورت مند بھی ہو تے ہیں ۔
وجہ  :(١) نماز بہت زیادہ لمبی کرنے میں کمزور اور بوڑھے لوگ پریشان ہونگے جو جائز نہیں ہے۔ اس لئے مستحبات سے زیادہ قرأت لمبی نہیں کرنی چاہئے۔ ہاں ! اگر تنہا نماز پڑھ رہا ہو تو جتنی لمبی کرنا چاہے کر سکتا ہے(٢) ھدایہ کی حدیث ہے  اخبرنی ابو مسعود ان رجل قال واللہ یا رسول اللہ انی لاتأخر عن صلوة الغداة من اجل فلان مما یطیل بنا فما رأیت رسول اللہ ۖ فی موعظہ اشد غضبا منہ یومئذ ثم قال ان منکم منفرین فایکم ما صلی بالناس فلیتجوز فان فیھم الضعیف والکبیر و ذاالحاجة  (بخاری شریف، باب تخفیف الامام فی القیام واتمام الرکوع والسجود ص ٩٧ نمبر ٧٠٢ مسلم شریف ، باب أمر الائمة بتخفیف   الصلوة فی تمام ، ص ١٨٨ ،نمبر٤٦٦ ١٠٤٤)اس کے آگے حدیث میں یہ جملہ بھی ہے واذا صلی احدکم لنفسہ فلیطول ماشاء (بخاری شریف،نمبر ٧٠٣ مسلم شریف، نمبر١٠٤٧٤٦٧ ) اس سے معلوم ہوا کہ امام ہوتو نماز زیادہ لمبی نہ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter