Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

529 - 627
(٣٤٢)  والاعمی)   ١  لانہ لایتوقی النجاسة (٣٤٣) وولد الزنائ)   ١   لانہ لیس لہ اب یشفّقُہ فیغلب علیہ الجہل ولان فی تقدیم ہٰؤلاء تنفیر الجماعة فیکرہ  

(بخاری شریف ، باب امامة المفتون والمبتدع ص ٩٦ نمبر ٦٩٥) اس اثر سے معلوم ہوا کہ فاسق کے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے اگر چہ مکروہ ہے(٢) ۔ وقال الزھری لا نری ان یصلی خلف المخنث الا من ضرورة لا بد منھا ۔ (بخاری شریف ، باب امامة المفتون  والمبتدع ص ٩٦ نمبر ٦٩٥) اس اثر سے بھی معلوم ہوا کہ ضرورت پڑنے پر فاسق کے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے(٣) عن ابی ھریرة قال : قال رسول اللہ  ۖ : الصلوة المکتوبة واجبة خلف کل مسلم براً کان أو فاجراً و ان عمل الکبائر ۔ ( ابو داود شریف ، باب امامة البر و الفاجر ، ص ٩٥ ، نمبر ٥٩٤) (٤)۔عن ابی ھریرة ان رسول اللہ ۖ قال صلوا خلف کل بر و فاجر و صلوا علی کل بر و فاجر  (دار قطنی ، باب  صفة من تجوز الصلوة معہ و الصلوة علیہ ، ج ثانی ، ص ٤٤، نمبر ١٧٥٠  سنن للبیھقی ، باب الصلوة علی من قتل فی نفسہ غیر مستحل لقتلھا ج رابع ،کتاب الجنائز ،ص٢٩، نمبر٦٨٣٢) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فاسق کے پیچھے نماز ہو جائے گی ۔ 
ترجمہ:  (٣٤٢)اور نابینا کی نماز مکروہ ہے ۔
ترجمہ:   ١   اسلئے کہ وہ نجاست سے نہیں بچ سکتا ۔ 
تشریح : نابینا یہ نہیں دیکھ سکتا کہ نجاست کہاں لگی ہے اور کتنی لگی ہے ، اسلئے وہ نجاست سے نہیں بچ سکتا اس لئے اسکی امامت مکروہ ہے ، لیکن اگر وہ نجاست سے بچ سکتا ہو اور احتیاط کر تا ہو تو نماز مکروہ نہیں۔ 
وجہ :   نابینا کی امامت کے بارے میں یہ حدیث ہے۔عن انس ان النبی ۖ استخلف ابن ام مکتوم یؤم الناس وھو اعمی  (ابوداؤد شریف ،باب امامة الاعمی ص٩٥ نمبر ٥٩٥ ) اس سے معلوم ہوا کہ نابینا پاکی ناپاکی کا احتیاط رکھتا ہو اور قوم میں باعزت ہو تو ان کو امام بنایا جا سکتا ہے۔مکروہ نہیں ہے۔
ترجمہ:  (٣٤٣)  اور ولد الزنا کی امامت مکروہ ہے ۔  
ترجمہ:   ١    اسلئے اسکا کوئی باپ نہیں ہے کہ اس پر مہر بانی کرے اسلئے وہ عموما جاہل ہو تے ہیں ۔اور اسلئے کہ اسکے آگے کر نے میں جماعت کو نفرت ہو گی اسلئے مکروہ ہے ۔ 
تشریح :  وہ بچہ جو حرامی ہے اسکا باپ نہیں ہو تا اسلئے اسکے پڑھنے لکھنے کی طرف توجہ نہیں ہوتی اور علم نہ ہو  اور قرأت بھی اچھی نہ ہو تو اسکے پیچھے نماز مکروہ ہو گی ، دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے لوگ نفرت کر تے ہیں اسلئے اسکو آگے بڑھانے میں جماعت کم ہو جائے گی اسلئے بھی مکروہ ہے ۔ لیکن اگر پڑھا لکھا ہو اور قوم میں با عزت ہو تو اسکی امامت مکروہ نہیں ہو گی ۔
وجہ :  اس اثر میں اسکا ثبوت ہے ۔ عن عائشة  أنھا قالت : ما علیہ من وزر أبویہ شیء ، قال اللہ تعالی (لا تزر 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter