(٣٤٢) والاعمی) ١ لانہ لایتوقی النجاسة (٣٤٣) وولد الزنائ) ١ لانہ لیس لہ اب یشفّقُہ فیغلب علیہ الجہل ولان فی تقدیم ہٰؤلاء تنفیر الجماعة فیکرہ
(بخاری شریف ، باب امامة المفتون والمبتدع ص ٩٦ نمبر ٦٩٥) اس اثر سے معلوم ہوا کہ فاسق کے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے اگر چہ مکروہ ہے(٢) ۔ وقال الزھری لا نری ان یصلی خلف المخنث الا من ضرورة لا بد منھا ۔ (بخاری شریف ، باب امامة المفتون والمبتدع ص ٩٦ نمبر ٦٩٥) اس اثر سے بھی معلوم ہوا کہ ضرورت پڑنے پر فاسق کے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے(٣) عن ابی ھریرة قال : قال رسول اللہ ۖ : الصلوة المکتوبة واجبة خلف کل مسلم براً کان أو فاجراً و ان عمل الکبائر ۔ ( ابو داود شریف ، باب امامة البر و الفاجر ، ص ٩٥ ، نمبر ٥٩٤) (٤)۔عن ابی ھریرة ان رسول اللہ ۖ قال صلوا خلف کل بر و فاجر و صلوا علی کل بر و فاجر (دار قطنی ، باب صفة من تجوز الصلوة معہ و الصلوة علیہ ، ج ثانی ، ص ٤٤، نمبر ١٧٥٠ سنن للبیھقی ، باب الصلوة علی من قتل فی نفسہ غیر مستحل لقتلھا ج رابع ،کتاب الجنائز ،ص٢٩، نمبر٦٨٣٢) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فاسق کے پیچھے نماز ہو جائے گی ۔
ترجمہ: (٣٤٢)اور نابینا کی نماز مکروہ ہے ۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ وہ نجاست سے نہیں بچ سکتا ۔
تشریح : نابینا یہ نہیں دیکھ سکتا کہ نجاست کہاں لگی ہے اور کتنی لگی ہے ، اسلئے وہ نجاست سے نہیں بچ سکتا اس لئے اسکی امامت مکروہ ہے ، لیکن اگر وہ نجاست سے بچ سکتا ہو اور احتیاط کر تا ہو تو نماز مکروہ نہیں۔
وجہ : نابینا کی امامت کے بارے میں یہ حدیث ہے۔عن انس ان النبی ۖ استخلف ابن ام مکتوم یؤم الناس وھو اعمی (ابوداؤد شریف ،باب امامة الاعمی ص٩٥ نمبر ٥٩٥ ) اس سے معلوم ہوا کہ نابینا پاکی ناپاکی کا احتیاط رکھتا ہو اور قوم میں باعزت ہو تو ان کو امام بنایا جا سکتا ہے۔مکروہ نہیں ہے۔
ترجمہ: (٣٤٣) اور ولد الزنا کی امامت مکروہ ہے ۔
ترجمہ: ١ اسلئے اسکا کوئی باپ نہیں ہے کہ اس پر مہر بانی کرے اسلئے وہ عموما جاہل ہو تے ہیں ۔اور اسلئے کہ اسکے آگے کر نے میں جماعت کو نفرت ہو گی اسلئے مکروہ ہے ۔
تشریح : وہ بچہ جو حرامی ہے اسکا باپ نہیں ہو تا اسلئے اسکے پڑھنے لکھنے کی طرف توجہ نہیں ہوتی اور علم نہ ہو اور قرأت بھی اچھی نہ ہو تو اسکے پیچھے نماز مکروہ ہو گی ، دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے لوگ نفرت کر تے ہیں اسلئے اسکو آگے بڑھانے میں جماعت کم ہو جائے گی اسلئے بھی مکروہ ہے ۔ لیکن اگر پڑھا لکھا ہو اور قوم میں با عزت ہو تو اسکی امامت مکروہ نہیں ہو گی ۔
وجہ : اس اثر میں اسکا ثبوت ہے ۔ عن عائشة أنھا قالت : ما علیہ من وزر أبویہ شیء ، قال اللہ تعالی (لا تزر