Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

528 - 627
(٣٤٠)  والاعرابی)   ١  لان الغالب فیہم الجہل (٣٤١)  والفاسق)   ١  لانہ لایہتم لامردینہ 

ج ثالث ، ص ٢٤٦، نمبر ٤٩٨١ سنن بیھقی ، باب اجعلو ائمتکم خیارکم ، ج ثالث ، ص ١٢٩، نمبر ٥١٣٣ ) اس حدیث میں ہے کہ اپنے میں سے اچھے لوگ کو امام بنائو تو نماز قبول ہو گی ۔  (٢) حدیث میں ہے۔ عن عبد اللہ بن عمر ان رسول اللہ ۖ کان یقول ثلاثة لا یقبل اللہ منھم صلوة من تقدم قوما وھم لہ کارھون  (ابو داؤد شریف ، باب الرجل یؤم القوم وھم لہ کارھون ص ٩٥ نمبر ٥٩٣) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قوم جن لوگوں کی امامت سے کراہیت کرے ان کی امامت مکروہ ہے۔اور اوپر کے لوگوں کی امامت سے قوم کراہیت کرتی ہے اس لئے ان کی امامت مکروہ ہے۔ تا ہم امامت جائزہو جائے گی۔غلام کی امامت جائز ہونے کی دلیل یہ اثر ہے  (٣)وکانت عائشة یؤمھا عبدھا زکوان من المصحف  ۔۔عن ابن  عمر قال : لما قدم المھاجرون الاولون العصبة موضع بقباء  قبل مقدم رسول اللہ  ۖ کان یوء مھم سالم مولی ابی حذیفة ، و کان اکثرھم قرآنا ً ۔(بخاری شریف ، باب امامة العبد والمولی ص ٩٦ نمبر ٦٩٢)  اس حدیث میں ہے کہ غلام امامت کر سکتا ہے بشرطیکہ علم ہو اور لوگ اسکو پسند کرتے ہوں ۔ 
ترجمہ:  (٣٤٠)   اور دیہاتی کی امامت مکروہ ہے ۔  
ترجمہ:  ١   اسلئے کہ عام طور پر ان میں جہالت ہو تی ہے ۔
وجہ :  اس اثر میںاسکا ثبوت ہے ۔ سمعت عبید ابن عمیر یقول : اجتمعت جماعة فیما حول مکة ....فقال المسوربن مخرمة : امظرنی یا امیر المو ء منین ان الرجل کان أعجمی اللسان و کان فی الحج فخشیت أن یسمع بعض الحجاج قرأتہ فیأخذ بعجمتہ ، فقال : ھنالک ذھبت بھا فقال : نعم فقال ]عمر[ أصبت۔َ  (سنن بیھقی ، باب کراھیت امامة الأعجمی و اللحان ، ج ثالث ، ص ١٢٧، نمبر ٥١٢٧) اس اثر میں دیہاتی کو امامت سے پیچھے ہٹایا کیونکہ اسکی قرأت اچھی نہیںتھی ۔ لیکن اگر اسکی قرأت اچھی ہو اور لوگ اسکو پسند کرتے ہوں تو اسکی امامت درست ہو گی ۔آخر بہت سے صحابہ تو دیہات ہی کے تھے ، لیکن علم حاصل کر نے کے بعد انکی امامت افضل ہو گئی ۔
ترجمہ:  (٣٤١)  اور فاسق کی امامت مکروہ ہے ۔
ترجمہ:   ١   اسلئے کہ دین کے معاملے کا اھتمام نہیں کر تا ہے ۔ 
وجہ :  فاسق کہتے ہی ہیں اسکو جو خلاف شریعت کام کر تا رہتا ہو ، اور جب دین کی کوئی اہمیت نہیں ہے تو نماز کے امور کی کیا اہمیت ہو گی  ، اسلئے اسکے پیچھے نماز مکروہ ہے ، تاہم  نماز جائز ہے ۔(١) اس کی دلیل یہ حدیث ہے عن عبید اللہ بن عدی بن خیار انہ دخل علی عثمان بن عفان وھو محصور فقال انک امام عامة ونزل بک ما تری و یصلی لنا امام فتنة و نتحرج فقال الصلوة  احسن ما یعمل الناس فاذا احسن الناس فاحسن معھم واذا اساء فاجتنب اساتھم 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter