(٣٤٠) والاعرابی) ١ لان الغالب فیہم الجہل (٣٤١) والفاسق) ١ لانہ لایہتم لامردینہ
ج ثالث ، ص ٢٤٦، نمبر ٤٩٨١ سنن بیھقی ، باب اجعلو ائمتکم خیارکم ، ج ثالث ، ص ١٢٩، نمبر ٥١٣٣ ) اس حدیث میں ہے کہ اپنے میں سے اچھے لوگ کو امام بنائو تو نماز قبول ہو گی ۔ (٢) حدیث میں ہے۔ عن عبد اللہ بن عمر ان رسول اللہ ۖ کان یقول ثلاثة لا یقبل اللہ منھم صلوة من تقدم قوما وھم لہ کارھون (ابو داؤد شریف ، باب الرجل یؤم القوم وھم لہ کارھون ص ٩٥ نمبر ٥٩٣) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قوم جن لوگوں کی امامت سے کراہیت کرے ان کی امامت مکروہ ہے۔اور اوپر کے لوگوں کی امامت سے قوم کراہیت کرتی ہے اس لئے ان کی امامت مکروہ ہے۔ تا ہم امامت جائزہو جائے گی۔غلام کی امامت جائز ہونے کی دلیل یہ اثر ہے (٣)وکانت عائشة یؤمھا عبدھا زکوان من المصحف ۔۔عن ابن عمر قال : لما قدم المھاجرون الاولون العصبة موضع بقباء قبل مقدم رسول اللہ ۖ کان یوء مھم سالم مولی ابی حذیفة ، و کان اکثرھم قرآنا ً ۔(بخاری شریف ، باب امامة العبد والمولی ص ٩٦ نمبر ٦٩٢) اس حدیث میں ہے کہ غلام امامت کر سکتا ہے بشرطیکہ علم ہو اور لوگ اسکو پسند کرتے ہوں ۔
ترجمہ: (٣٤٠) اور دیہاتی کی امامت مکروہ ہے ۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ عام طور پر ان میں جہالت ہو تی ہے ۔
وجہ : اس اثر میںاسکا ثبوت ہے ۔ سمعت عبید ابن عمیر یقول : اجتمعت جماعة فیما حول مکة ....فقال المسوربن مخرمة : امظرنی یا امیر المو ء منین ان الرجل کان أعجمی اللسان و کان فی الحج فخشیت أن یسمع بعض الحجاج قرأتہ فیأخذ بعجمتہ ، فقال : ھنالک ذھبت بھا فقال : نعم فقال ]عمر[ أصبت۔َ (سنن بیھقی ، باب کراھیت امامة الأعجمی و اللحان ، ج ثالث ، ص ١٢٧، نمبر ٥١٢٧) اس اثر میں دیہاتی کو امامت سے پیچھے ہٹایا کیونکہ اسکی قرأت اچھی نہیںتھی ۔ لیکن اگر اسکی قرأت اچھی ہو اور لوگ اسکو پسند کرتے ہوں تو اسکی امامت درست ہو گی ۔آخر بہت سے صحابہ تو دیہات ہی کے تھے ، لیکن علم حاصل کر نے کے بعد انکی امامت افضل ہو گئی ۔
ترجمہ: (٣٤١) اور فاسق کی امامت مکروہ ہے ۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ دین کے معاملے کا اھتمام نہیں کر تا ہے ۔
وجہ : فاسق کہتے ہی ہیں اسکو جو خلاف شریعت کام کر تا رہتا ہو ، اور جب دین کی کوئی اہمیت نہیں ہے تو نماز کے امور کی کیا اہمیت ہو گی ، اسلئے اسکے پیچھے نماز مکروہ ہے ، تاہم نماز جائز ہے ۔(١) اس کی دلیل یہ حدیث ہے عن عبید اللہ بن عدی بن خیار انہ دخل علی عثمان بن عفان وھو محصور فقال انک امام عامة ونزل بک ما تری و یصلی لنا امام فتنة و نتحرج فقال الصلوة احسن ما یعمل الناس فاذا احسن الناس فاحسن معھم واذا اساء فاجتنب اساتھم