٢ ولان فی تقدیمہ تکثیر الجماعة (٣٣٩) ویکرہ تقدیم العبد لانہ) ١ لایتفرغ للتعلم
امامت کرے۔
تشریح : ابن ابی ملیکہ کی حدیث یہ ہے ۔ عن مالک بن الحویرث قال قدمنا علی النبی ۖ ... قال ...فاذا حضرت الصلوة فلیؤذن لکم احدکم ولیؤمکم اکبرکم (بخاری شریف، باب اذا استود فی القراء ة فلیؤمھم اکبرھم ص ٩٤ نمبر ٦٨٥ مسلم شریف ، باب من احق بالامامة ، ص ٢٣٧، نمبر ٦٧٤ ١٥٣٥) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سبھی ہجرت اور قرأت میں برابر ہوں تو عمر کے اعتبار سے جو زیادہ ہو اس کو امامت کا حق ہے۔ (٢) عن ابی مسعود الانصاری یقول قال لنا رسول اللہ ۖ: یؤم القوم اقرؤھم لکتاب اللہ و أقدمھم قرأة فان کانت قرأتھم سوائً فلیوء مھم أقدمھم ھجرة فان کانوا فی الھجرة سوائً فلیوء مھم أکبرھم سنا ً (مسلم شریف ، باب من احق بالامامة ص ٢٣٦ نمبر ٦٧٣ ١٥٣٤ ابو داؤد شریف ، باب من احق بالامامة ص ٩٤ نمبر٥٨٢) اس حدیث میں ہے کہ سب چیز میں برابر ہوں تو جو عمر میںبڑے ہوں وہ امامت کا حقدار ہیں۔
ترجمہ: ٢ اور اسلئے کہ انکو آگے بڑھانے میں جماعت کی کثرت ہو گی ۔
تشریح : ۔ یہ دلیل عقلی ہے ، کہ بڑے آدمی کا احترام ہو تا ہے اسلئے اسکو آگے بڑھانے میں جماعت کی بھی کثرت ہو گی ۔
لغت: سنة : یہاں سنت سے مراد حدیث اور فقہ اور مسائل ہے ۔نابت نائبة : کوئی واقعہ پیش آجائے ، کوئی غلطی ہو جائے ۔ مفتقر : محتاج ہے ، فقر سے مشتق ہے ۔ یتلقونہ : لقی سے مشتق ہے ، حاصل کر نا ، لینا ۔ اورع : پرہیز گار ۔ اسن : سن سے مشتق ہے ، عمر دراز ہو نا ۔
ترجمہ :(٣٣٩) مکروہ ہے غلام کو امامت کے لئے آگے کرنا ۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ وہ علم کے لئے فارغ نہیں ہو تے ۔
تشریح : ]١ [ غلام ]٢[دیہاتی ]٣[ نابینا ]٤[ اور ولد الزنا ان لوگوں میں عمو ما علم نہیں ہو تا یہ لوگ علم کے لئے فارغ نہیں ہو سکتے ، اور حدیث گزری کہ علم والے اور قرأت والے کو امامت دو اسلئے ان لوگو کی امامت مکروہ ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو لوگ حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ جماعت میں کم شریک ہو نگے اسلئے انکی امامت مکروہ ہے ۔لیکن اگر ان میں علم ہو اور لوگ انکی عزت کرتے ہوں تو اب مکروہ نہیں ہو گی ۔ نابینا میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ ناپاکی سے بچ نہیں سکتا ہے۔ اگر وہ ناپاکی سے بچ سکتا ہو تو مکروہ نہیں ہوگا۔
وجہ : حدیث میں ہے کہ اچھے لوگوں کو امامت دو اور یہ لوگ عموما اچھے نہیں ہو تے اسلئے انکی امامت مکروہ ہے ۔ حدیث یہ ہے ۔ عن مرثد بن ابی مرثد الغنوی و کان بدریا قال : قال رسول اللہ ۖ : ان سرکم أن تقبل صلوتکم فلیوء مکم خیارکم فانھم وفدکم فیما بینکم و بین ربکم عزوجل ۔ ( مستدرک للحاکم ،ذکر مناقب مرثد بن ابی مرثد الغنوی ،