Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

527 - 627
٢  ولان فی تقدیمہ تکثیر الجماعة (٣٣٩) ویکرہ تقدیم العبد لانہ)  ١ لایتفرغ للتعلم 

امامت کرے۔  
تشریح :  ابن ابی ملیکہ کی حدیث یہ ہے ۔ عن مالک بن الحویرث قال قدمنا علی النبی ۖ ... قال ...فاذا حضرت الصلوة فلیؤذن لکم احدکم ولیؤمکم اکبرکم  (بخاری شریف، باب اذا استود فی القراء ة فلیؤمھم اکبرھم ص ٩٤ نمبر ٦٨٥ مسلم شریف ، باب من احق بالامامة ، ص ٢٣٧، نمبر ٦٧٤ ١٥٣٥) اس  حدیث سے معلوم ہوا کہ سبھی ہجرت اور قرأت میں برابر ہوں تو عمر کے اعتبار سے جو زیادہ ہو اس کو امامت کا حق ہے۔ (٢) عن ابی مسعود الانصاری یقول  قال لنا  رسول اللہ ۖ: یؤم القوم اقرؤھم لکتاب اللہ و أقدمھم قرأة فان کانت قرأتھم سوائً فلیوء مھم أقدمھم ھجرة  فان  کانوا فی  الھجرة سوائً فلیوء مھم أکبرھم سنا ً  (مسلم شریف ، باب من احق بالامامة ص ٢٣٦  نمبر ٦٧٣ ١٥٣٤ ابو داؤد شریف ، باب من احق بالامامة ص ٩٤ نمبر٥٨٢) اس  حدیث میں ہے کہ سب چیز میں برابر ہوں تو جو عمر میںبڑے ہوں وہ امامت کا حقدار ہیں۔ 
ترجمہ:  ٢   اور اسلئے کہ انکو آگے بڑھانے میں جماعت کی کثرت ہو گی ۔ 
تشریح : ۔ یہ دلیل عقلی ہے ، کہ بڑے آدمی کا احترام ہو تا ہے اسلئے اسکو آگے بڑھانے میں جماعت کی بھی کثرت ہو گی ۔ 
لغت:  سنة : یہاں سنت سے مراد حدیث اور فقہ  اور مسائل ہے ۔نابت  نائبة : کوئی واقعہ پیش آجائے ، کوئی غلطی ہو جائے ۔ مفتقر : محتاج ہے ، فقر سے مشتق ہے ۔ یتلقونہ : لقی سے مشتق ہے ، حاصل کر نا ، لینا ۔ اورع : پرہیز گار ۔ اسن : سن سے مشتق ہے ، عمر دراز ہو نا ۔
ترجمہ  :(٣٣٩) مکروہ ہے غلام کو امامت کے لئے آگے کرنا ۔  
ترجمہ:   ١   اسلئے کہ وہ علم کے لئے فارغ نہیں ہو تے ۔ 
تشریح :  ]١ [ غلام ]٢[دیہاتی  ]٣[ نابینا ]٤[ اور ولد الزنا ان لوگوں میں عمو ما علم نہیں ہو تا یہ لوگ علم کے لئے فارغ نہیں ہو سکتے ، اور حدیث گزری کہ علم والے اور قرأت  والے کو امامت دو اسلئے ان لوگو کی امامت مکروہ ہے ۔  دوسری بات یہ ہے کہ  ان لوگوں کو لوگ حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں  جس کی وجہ سے لوگ جماعت میں کم شریک ہو نگے  اسلئے انکی امامت مکروہ ہے ۔لیکن اگر ان میں علم ہو اور لوگ انکی عزت کرتے ہوں تو اب مکروہ نہیں ہو گی ۔  نابینا میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ ناپاکی سے بچ نہیں سکتا ہے۔ اگر وہ ناپاکی سے بچ سکتا ہو تو مکروہ نہیں ہوگا۔ 
وجہ : حدیث میں ہے کہ اچھے لوگوں کو امامت دو اور یہ لوگ عموما اچھے  نہیں ہو تے اسلئے انکی امامت مکروہ ہے ۔ حدیث یہ ہے ۔ عن مرثد بن ابی مرثد الغنوی و کان بدریا قال : قال رسول اللہ  ۖ : ان سرکم أن تقبل صلوتکم فلیوء مکم خیارکم فانھم وفدکم فیما بینکم و بین ربکم عزوجل ۔ ( مستدرک للحاکم ،ذکر مناقب مرثد بن ابی مرثد الغنوی ، 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter