Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

526 - 627
٢  واقرأہم کان اعلمہم لانہم کانوا یتلقونہ باحکامہ فقدم فی الحدیث ولا کذلک فی زماننا فقد منا الاعلم  (٣٣٧)  فان تساووا فاورعہم)   ١ لقولہ علیہ السلام من صلی خلف عالم تقی فکانما صلی خلف نبی(٣٣٨) فان تساووافاسنھم)   ١ لقولہ علیہ السلام  لابنی ابی ملیکة  ولیؤمکما اکبر کما سنا 

ترجمہ  :٢   صحابہ کے زمانے میں جو زیادہ قاری ہوتے تھے وہ فقہ کے بھی زیادہ جاننے والے ہو تے تھے ، اسلئے وہ حضرات قرآن اسکے احکام کے ساتھ حاصل کر تے تھے، اسلئے حدیث میں انکو مقدم کیا ، اور ہمارے زمانے میں ایسا نہیں ہے ، اسلئے ہم نے زیادہ جاننے والے کو مقدم کیا ۔ 
تشریح : یہ حضرت امام ابو یوسف  کو جواب ہے ، انہوں نے حدیث سے استدلال کیا تھا کہ اس میں زیادہ قاری کو امامت کا حق دیا ہے ۔ تو اسکا جواب دیتے ہیں کہ صحابہ کے زمانے میں بڑے ہو کر اسلام لاتے تھے اسلئے قرآن سیکھنے کے ساتھ ساتھ اسکے احکام بھی سیکھتے جاتے تھے ۔
اسلئے جو بڑا قاری ہو تا وہ سنت کو بھی زیادہ جاننے والا ہوتا ، اسلئے فرمایا کہ بڑے قاری کو آگے کرو تو سنت کا بڑا جاننے والا ہی آگے ہو جائے گا ، لیکن ہمارے زمانے میں بچے پہلے قرآن سیکھتے ہیں اور بڑا قاری بنتے ہیں بعد میںاسکا عالم بنتے ہیں اسلئے کوئی ضروری نہیں ہے کہ بڑا قاری  ہو تو وہ سنت کو بھی زیادہ جاننے والے ہو جائے۔ اسلئے ہم نے یہ کہا کہ سنت کے زیادہ جاننے والے کو امامت کا حق دیا جائے۔۔ اسکے لئے حدیث اوپر گزر گئی ۔ 
 ترجمہ:  (٣٣٧)  پس اگر قرأت میں بھی سب برابر ہوں تو ان میں سے جو زیادہ پرہیز گار ہو ]وہ امامت کا زیادہ حقدار ہے ۔ [
ترجمہ  :١   حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے ، کہ جس نے متقی عالم کے پیچھے نماز پڑھی تو گویا کہ اس نے نبی کے پیچھے نماز پڑھی۔
 تشریح :   اس قسم کی حدیث نہیں ملی البتہ اسکے قریب قریب یہ حدیث ہے ۔عن مرثد بن ابی مرثد الغنوی و کان بدریا قال : قال رسول اللہ  ۖ : ان سرکم أن تقبل صلوتکم فلیوء مکم خیارکم فانھم وفدکم فیما بینکم و بین ربکم عزوجل ۔ ( مستدرک للحاکم ،ذکر مناقب مرثد بن ابی مرثد الغنوی ، ج ثالث ، ص ٢٤٦، نمبر ٤٩٨١ سنن بیھقی ، باب اجعلو ائمتکم خیارکم ، ج ثالث ، ص ١٢٩، نمبر ٥١٣٣ ) اس حدیث میں ہے کہ اپنے میں سے اچھے لوگ کو امام بنائو تو نماز قبول ہو گی ۔  
ترجمہ : (٣٣٨)  اور اگر سب پرہیز گاری میں بھی برابر ہوں تو زیادہ عمر والے حقدار ہیں ۔ 
ترجمہ:   ١    ابی ملیکہ کے دو بیٹوں کو حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے  ، کہ تم میں سے جو عمر میں بڑے ہوں وہ تمہاری 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter