٢ واقرأہم کان اعلمہم لانہم کانوا یتلقونہ باحکامہ فقدم فی الحدیث ولا کذلک فی زماننا فقد منا الاعلم (٣٣٧) فان تساووا فاورعہم) ١ لقولہ علیہ السلام من صلی خلف عالم تقی فکانما صلی خلف نبی(٣٣٨) فان تساووافاسنھم) ١ لقولہ علیہ السلام لابنی ابی ملیکة ولیؤمکما اکبر کما سنا
ترجمہ :٢ صحابہ کے زمانے میں جو زیادہ قاری ہوتے تھے وہ فقہ کے بھی زیادہ جاننے والے ہو تے تھے ، اسلئے وہ حضرات قرآن اسکے احکام کے ساتھ حاصل کر تے تھے، اسلئے حدیث میں انکو مقدم کیا ، اور ہمارے زمانے میں ایسا نہیں ہے ، اسلئے ہم نے زیادہ جاننے والے کو مقدم کیا ۔
تشریح : یہ حضرت امام ابو یوسف کو جواب ہے ، انہوں نے حدیث سے استدلال کیا تھا کہ اس میں زیادہ قاری کو امامت کا حق دیا ہے ۔ تو اسکا جواب دیتے ہیں کہ صحابہ کے زمانے میں بڑے ہو کر اسلام لاتے تھے اسلئے قرآن سیکھنے کے ساتھ ساتھ اسکے احکام بھی سیکھتے جاتے تھے ۔
اسلئے جو بڑا قاری ہو تا وہ سنت کو بھی زیادہ جاننے والا ہوتا ، اسلئے فرمایا کہ بڑے قاری کو آگے کرو تو سنت کا بڑا جاننے والا ہی آگے ہو جائے گا ، لیکن ہمارے زمانے میں بچے پہلے قرآن سیکھتے ہیں اور بڑا قاری بنتے ہیں بعد میںاسکا عالم بنتے ہیں اسلئے کوئی ضروری نہیں ہے کہ بڑا قاری ہو تو وہ سنت کو بھی زیادہ جاننے والے ہو جائے۔ اسلئے ہم نے یہ کہا کہ سنت کے زیادہ جاننے والے کو امامت کا حق دیا جائے۔۔ اسکے لئے حدیث اوپر گزر گئی ۔
ترجمہ: (٣٣٧) پس اگر قرأت میں بھی سب برابر ہوں تو ان میں سے جو زیادہ پرہیز گار ہو ]وہ امامت کا زیادہ حقدار ہے ۔ [
ترجمہ :١ حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے ، کہ جس نے متقی عالم کے پیچھے نماز پڑھی تو گویا کہ اس نے نبی کے پیچھے نماز پڑھی۔
تشریح : اس قسم کی حدیث نہیں ملی البتہ اسکے قریب قریب یہ حدیث ہے ۔عن مرثد بن ابی مرثد الغنوی و کان بدریا قال : قال رسول اللہ ۖ : ان سرکم أن تقبل صلوتکم فلیوء مکم خیارکم فانھم وفدکم فیما بینکم و بین ربکم عزوجل ۔ ( مستدرک للحاکم ،ذکر مناقب مرثد بن ابی مرثد الغنوی ، ج ثالث ، ص ٢٤٦، نمبر ٤٩٨١ سنن بیھقی ، باب اجعلو ائمتکم خیارکم ، ج ثالث ، ص ١٢٩، نمبر ٥١٣٣ ) اس حدیث میں ہے کہ اپنے میں سے اچھے لوگ کو امام بنائو تو نماز قبول ہو گی ۔
ترجمہ : (٣٣٨) اور اگر سب پرہیز گاری میں بھی برابر ہوں تو زیادہ عمر والے حقدار ہیں ۔
ترجمہ: ١ ابی ملیکہ کے دو بیٹوں کو حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے ، کہ تم میں سے جو عمر میں بڑے ہوں وہ تمہاری