٢ ونحن نقول القراء ة مفتقر الیہا لرکن واحد والعلم لسائر الارکان (٣٣٦) فان تساووا فاقر ؤہم) ١ لقولہ علیہ السلام یؤمُّ القوم اقرأہم لکتاب اللّٰہ فان کانوا سواء فاعلمہم بالسنة
کے اعتبار سے کم ہے ۔ یہ حدیث بھی ہے ۔ (٢) ان کی دلیل یہ حدیث ہے عن ابی مسعود الانصاری قال قال رسول اللہ ۖ یؤم القوم اقرؤھم لکتاب اللہ فان کانوا فی القراء ة سواء فاعلمھم بالسنة فان کانوا فی السنة سواء فاقدمھم ھجرة۔وفی حدیث آخر فان کانوا فی الھجرة سواء فلیؤمھم اکبرھم سنا (مسلم شریف ، باب من احق بالامامة ص ٢٣٦ نمبر ٦٧٣ ١٥٣٤١٥٣٢ ابو داؤد شریف ، باب من احق بالامامة ص ٩٤ نمبر٥٨٤) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو زیادہ قاری ہو وہ امامت کا زیادہ حقدار ہے۔(٣) حدیث میں ہے ۔ عن عمر و بن سلمة قال : لی أبو قلابة .....فاذا حضرت الصلوة فلیوء ذن احدکم و لیوء مکم أکثرکم قرآنا ۔ ( بخاری شریف ، باب ]باب مقام النبی ۖ بمکة زمن الفتح ، ص ٧٢٨ ، نمبر ٤٣٠٢ ابو داود شریف ،باب من احق بالامامة ص ٩٤ نمبر٥٨٥) ا) اس حدیث میں ہے کہ جسکو قرآن زیادہ آتا ہو اسکو امامت کا زیادہ حق ہے ۔
ترجمہ : ٢ ہم کہتے ہیں کہ قرأت کی ضرورت ایک رکن کے لئے ہے ، اور علم فقہ کی ضرورت تمام ارکان کے لئے ہے ۔
تشریح : یہ دلیل عقلی ہے کہ قرأت کی ضرورت صرف ایک رکن کو پورا کر نے کے لئے ہے اور فقہ جاننے کی ضرورت ہر رکن کے لئے ہے ، کہ کس رکن کو کس طرح ادا کر نا ہے اسلئے زیادہ فقہ جاننے والے زیادہ حقدار ہے ۔
ترجمہ : (٣٣٦) پس اگر سبھی فقہ میں برابر ہوں تو ان میں سے زیادہ قرأت جاننے والا ] امامت کا زیادہ حقدار ہے [۔
تشریح : جتنے لوگ حاضر ہیں سبھی برابر درجے کے فقہ جاننے والے ہیں ۔ تو اب جو قرأت کو زیادہ جانتا ہو وہ امامت کا حقدار ہے۔
وجہ : ترجمہ : ١ حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے ، کہ قوم کی امامت وہ کرے جو کتاب اللہ کو زیادہ پڑھنے والا ہو ، پس اگر سبھی اس میں برابر ہوں تو جو سنت کو زیادہ جاننے والا ہو ۔
تشریح : صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے ۔عن ابی مسعود الانصاری قال قال رسول اللہ ۖ یؤم القوم اقرؤھم لکتاب اللہ فان کانوا فی القراء ة سواء فاعلمھم بالسنة فان کانوا فی السنة سواء فاقدمھم ھجرة۔(مسلم شریف ، باب من احق بالامامة ص ٢٣٦ نمبر ٦٧٣ ١٥٣٢ ابو داؤد شریف ، باب من احق بالامامة ص ٩٤ نمبر٥٨٤) اس حدیث میں ہے کہ کتاب اللہ کو جو زیادہ جاننے والا ہو وہ امامت کا زیادہ حقدار ہے، پھر اسکے بعد فقہ کے جاننے والے کا حق ہے ۔