Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

525 - 627
٢  ونحن نقول القراء ة مفتقر الیہا لرکن واحد والعلم لسائر الارکان (٣٣٦)  فان تساووا فاقر ؤہم)   ١  لقولہ علیہ السلام یؤمُّ القوم اقرأہم لکتاب اللّٰہ فان  کانوا سواء فاعلمہم بالسنة 

کے اعتبار سے کم ہے ۔ یہ حدیث بھی ہے ۔ (٢) ان کی دلیل یہ حدیث ہے  عن ابی مسعود الانصاری قال قال رسول اللہ ۖ یؤم القوم اقرؤھم لکتاب اللہ فان کانوا فی القراء ة سواء فاعلمھم بالسنة فان کانوا فی السنة سواء فاقدمھم ھجرة۔وفی حدیث آخر فان کانوا فی الھجرة سواء فلیؤمھم اکبرھم سنا  (مسلم شریف ، باب من احق بالامامة ص ٢٣٦ نمبر ٦٧٣ ١٥٣٤١٥٣٢ ابو داؤد شریف ، باب من احق بالامامة ص ٩٤ نمبر٥٨٤) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو زیادہ قاری ہو وہ امامت کا زیادہ حقدار ہے۔(٣) حدیث  میں ہے ۔ عن عمر و بن سلمة قال : لی أبو قلابة .....فاذا حضرت الصلوة فلیوء ذن احدکم و لیوء مکم أکثرکم قرآنا ۔ ( بخاری شریف ، باب ]باب مقام النبی  ۖ بمکة زمن الفتح ، ص ٧٢٨ ، نمبر ٤٣٠٢ ابو داود شریف ،باب من احق بالامامة ص ٩٤ نمبر٥٨٥) ا) اس حدیث میں ہے کہ جسکو قرآن زیادہ آتا ہو اسکو امامت کا زیادہ حق ہے ۔
ترجمہ : ٢   ہم کہتے ہیں کہ قرأت کی ضرورت ایک رکن کے لئے ہے ، اور علم فقہ کی ضرورت تمام ارکان کے لئے ہے ۔ 
تشریح :  یہ دلیل عقلی ہے کہ قرأت کی ضرورت صرف ایک رکن کو پورا کر نے کے لئے ہے اور فقہ جاننے کی ضرورت ہر رکن کے لئے ہے ، کہ کس رکن کو کس طرح ادا کر نا ہے اسلئے زیادہ فقہ جاننے والے زیادہ حقدار ہے ۔ 
ترجمہ : (٣٣٦)  پس اگر سبھی فقہ میں برابر ہوں تو ان میں سے زیادہ قرأت جاننے والا ] امامت کا زیادہ حقدار ہے [۔
تشریح :  جتنے لوگ حاضر ہیں سبھی برابر درجے کے فقہ جاننے والے ہیں ۔ تو اب جو قرأت کو زیادہ جانتا ہو وہ امامت کا حقدار ہے۔ 
وجہ : ترجمہ :  ١   حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے ، کہ قوم کی امامت وہ کرے جو کتاب اللہ کو زیادہ پڑھنے والا ہو ، پس اگر سبھی اس میں برابر ہوں تو جو سنت کو زیادہ جاننے والا ہو ۔ 
تشریح :  صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے ۔عن ابی مسعود الانصاری قال قال رسول اللہ ۖ یؤم القوم اقرؤھم لکتاب اللہ فان کانوا فی القراء ة سواء فاعلمھم بالسنة فان کانوا فی السنة سواء فاقدمھم ھجرة۔(مسلم شریف ، باب من احق بالامامة ص ٢٣٦ نمبر ٦٧٣ ١٥٣٢ ابو داؤد شریف ، باب من احق بالامامة ص ٩٤ نمبر٥٨٤) اس حدیث میں ہے کہ کتاب اللہ کو جو زیادہ جاننے والا ہو وہ امامت کا زیادہ حقدار ہے، پھر اسکے بعد فقہ کے جاننے والے کا حق ہے ۔  

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter