١ وعن ابی یوسف اقرؤ ہم لان القراء ة لابدمنہا والحاجة الی العلم اذا نابت نائبة
قرأت بہت اچھی ہو ان کو امام بنایا جائے۔اور اگر قرأت بھی سبھی کی ہی اچھی ہو تو جو زیادہ پرہیز گار ہو ان کو امام بنایا جائے۔اور سب پرہیز گار بھی برابر درجے کے ہوں تو جو عمر میں بڑے ہوں ان کو امامت کا حق ہے۔
نوٹ: یہ اسوقت ہے کہ پہلے سے امام متعین نہ ہو۔ اور اگر پہلے سے امام متعین ہو تو ان کو امامت کا زیادہ حق ہے۔
وجہ :(١)مسئلہ زیادہ جاننے والے کو سب سے مقدم اس لئے کریں گے کہ اس کی ضرورت زیادہ پڑتی ہے کہ کہاں سجدۂ سہو ہوگا اور کہاں نہیں ہوگا۔اسی طرح کون سا رکن فرض ہے کون سا واجب اور کون سا سنت،اور اس کی رعایت کتنی کرنی چاہئے(٢) یوں بھی زیادہ جاننے والے کا رعب زیادہ پڑتا ہے۔اور اس کی وجہ سے جماعت کا معاملہ قابو میں رہتا ہے (٣) دور صحابہ میں اونچے قاری ابی بن کعب تھے لیکن آپ نے آخر وقت میں اپنے مصلے پر حضرت ابو بکر کو تاکید کرکے کھڑا کیا جو اعلم بالسنة تھے۔جس سے معلوم ہوا کہ اعلم بالسنة کو امامت کا حق زیادہ ہے۔عن ابی موسی قال مرض النبی ۖ فاشتد مرضة فقال مروا ابا بکر فلیصل بالناس ۔ (بخاری شریف ، باب اہل العلم والفضل احق بالامامة ص ٩٣ نمبر ٦٧٨ مسلم شریف ،باب استخلاف الامام اذا عرض لہ عذر ص ١٧٨ نمبر ٤١٨ ٩٣٦)(٤)عن ابن مسعود قال قال رسول اللہ ۖ لیلنی منکم اولوا الاحلام والنھی ثم الذین یلونھم ثلاثا (مسلم شریف ، باب تسویة الصفوف واقامتھا و فضل الاول فالاول ص ١٨١ نمبر ٤٣٢ ٩٧٤ابوداود شریف ، باب من یستحب ان یلی الامام فی الصف و کراھیت التأخر، ص١٠٥، نمبر ٦٧٤ ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عقل اور سمجھ رکھنے والے کو امام کے قریب رہنا چاہئے تاکہ ضرورت پر اما مت کے کام آئے ۔یہ نہیں کہا کہ قاری کو حضورۖ کے قریب ہونا چاہئے (٥) حدیث میں ہے عن عقبة بن عمرو قال قال رسول اللہ ۖ یوم الناس اقدمھم ہجرة وان کانوا فی الھجرة سواء فافقھھم فی الدین وان کانوا فی الدین سواء فاقرؤھم للقرآن ( دار قطنی ، باب من احق بالامامة ص ٢٨٤ نمبر ١٠٧٢ مستدرک للحاکم ، کتاب الصلوة ، ج اول ، ص ٣٧٠، نمبر ٨٨٦) اس میں بھی افقہ کو زیادہ حق امامت دیا گیا ہے۔ ۔ تاہم کسی غیر افضل نے امامت کر لی تو نماز ہو جائے گی ۔
فائدہ ترجمہ: ١ اور امام ابو یوسف سے روایت ہے کہ جو زیادہ قاری ہو وہ افضل ہے، کیونکہ قرأت نماز میں ضروری ہے ، اور علم فقہ کی ضرورت پڑے گی جب کوئی واقعہ پیش آئے گا ۔
تشریح : حضرت امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ سب برابر ہوںتو جو سب سے زیادہ قاری ہو وہ امامت کا زیادہ حقدار ہے ۔
وجہ : (١) وہ فرماتے ہیںکہ ہر نماز میں قرأت کی ضرورت پڑے گی ہی اسلئے اسکی ضرورت زیادہ ہے ، اور فقہ کی ضرورت اس وقت پڑے گی جب کوئی واقعہ پیش آئے گا تو اس وقت دیکھنے کی ضرورت پڑے گی کہ اس وقت سنت کے اعتبار سے کیا کر نا ہو گا ، اور اس قسم کا واقعہ کبھی کبھار پیش آتا ہے اسلئے فقہ کے جاننے کی ضرورت قرأت کے اعتبار سے کم ہے اسلئے امامت میں اسکی اہمیت قرأت