Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

520 - 627
٣  وہورکن مشترک بینہما لکن حظ المقتدی الانصات والاستماع قال علیہ السلام واذا قرأ فانصتوا ٤ ویستحسن علیٰ سبیل الاحتیاط فیما یروی عن محمدویکرہ 

گزری۔عن زید بن ثابت قال : من قرأ مع الامام فلا صلوة لہ ۔(  مصنف عبد الرزاق ، باب القرأة خلف الامام ، ج ثانی ، ص ١٣٧ ، نمبر ٢٨٠٢مصنف ابن ابی شیبة ، ١٤٧ من کرہ القرأة خلف الامام ، ج اول ، ص ٣٣٠ ، نمبر ٣٧٨٣)  اس اثر میں ہے کہ جو امام کے پیچھے قرأت کرے اسکی نماز ہی نہیں ہو گی ۔
ترجمہ:  ٣   قرأت کر نا امام اور مقتدی کے درمیان مشترک رکن ہے لیکن مقتدی کا حصہ چپ رہنا ہے اور سننا ہے ۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جب امام قرأت کرے تو تم چپ رہو ۔ 
تشریح:  یہ امام شافعی  کو جواب ہے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ قرأت مشترک رکن ہے اسلئے امام اور مقتدی دونوں کو اس رکن میںشریک ہو نا چاہئے اور دونوں کو کم سے کم فاتحہ پڑھنا چاہئے ۔ اسکا جواب دے رہے ہیں کہ قرأت مشترک فرض ضرور ہے لیکن اس فرض میں امام کا کام قرأت کر نا ہے اور مقتدی کا کام اسکو سننا ہے اسی سے دونوں اس مشترک فرض میں شریک ہو جائیں گے اسلئے مقتدی کو فاتحہ پڑھنے کی ضرورت نہیںہے ۔ حضور ۖ کی یہ حدیث گزر چکی ۔ عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ انما جعل الامام لیوتم بہ فاذا کبر فکبرو واذا قرأ فانصتوا۔ (ابن ماجہ شریف، باب اذا قرء الامام فانصتوا ص ١٢٠، نمبر٨٤٦ نسائی شریف تاویل قولہ عز وجل واذا قریٔ القرآن فاستمعوا لہ ص ١٠٧ نمبر ٩٢٢  دار قطنی ،باب ذکر قولہ ۖ من کان لہ امام فقراء ة الامام قراء ة ص ٣٢٣ نمبر ١٢٢٩ مسلم شریف ،باب التشھد فی الصلوة ، ص ١٧٥، نمبر ٤٠٤  ٩٠٥)اس حدیث میں ہے کہ امام جب قرأت کرے تو مقتدی چپ رہے ۔(٢) آیت سے بھی یہ بات ثابت ہوئی کہ جب  قرآن پڑھا جائے تو تم کان لگا کر سنو اور چپ رہو۔  واذا قریٔ القرآن فاستمعوا لہ وانصتو لعلکم ترحمون۔ (آیت ٢٠٤ سورة الاعراف ٧) آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ قرآن پڑھا جائے تو اس کو کان لگا کر سنو اور چپ رہو۔
ترجمہ:  ٤   اور احتیاط کے طور پر قرأت کر نا اچھا سمجھا گیا ہے جیسا کہ امام محمد  سے روایت ہے ۔
تشریح :  امام شافعی  کی دلائل کی وجہ سے امام محمد  کی ایک روایت یہ ہے کہ احتیاط کے طور پر امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھ لے ۔
نوٹ : بعض حضرات کی رائے ہے کہ سری نماز ہو تو امام کے پیچھے قرأت کر لے اور جہری ہو تو نہ کرے ۔ انکی دلیل یہ اثر ہے ۔عن الحکم قال اقرأ خلف الامام فیما لم یجھر فی الاولیین فاتحة الکتاب و سورة ، و فی الاخریین فاتحة الکتاب ۔( مصنف ابن ابی شیبة ، ١٤٧ من رخص فی القرأة خلف الامام ، ج اول ، ص٣٢٩ ، نمبر٣٧٦٦ مصنف عبد الرزاق ، باب القرأة خلف الامام ، ج ثانی ، ص ١٣٠ ، نمبر٢٧٧٤) اس اثر میں ہے کہ امام سری نماز پڑھے تو مقتدی امام کے پیچھے قرأت کرے ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter