٣ وہورکن مشترک بینہما لکن حظ المقتدی الانصات والاستماع قال علیہ السلام واذا قرأ فانصتوا ٤ ویستحسن علیٰ سبیل الاحتیاط فیما یروی عن محمدویکرہ
گزری۔عن زید بن ثابت قال : من قرأ مع الامام فلا صلوة لہ ۔( مصنف عبد الرزاق ، باب القرأة خلف الامام ، ج ثانی ، ص ١٣٧ ، نمبر ٢٨٠٢مصنف ابن ابی شیبة ، ١٤٧ من کرہ القرأة خلف الامام ، ج اول ، ص ٣٣٠ ، نمبر ٣٧٨٣) اس اثر میں ہے کہ جو امام کے پیچھے قرأت کرے اسکی نماز ہی نہیں ہو گی ۔
ترجمہ: ٣ قرأت کر نا امام اور مقتدی کے درمیان مشترک رکن ہے لیکن مقتدی کا حصہ چپ رہنا ہے اور سننا ہے ۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جب امام قرأت کرے تو تم چپ رہو ۔
تشریح: یہ امام شافعی کو جواب ہے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ قرأت مشترک رکن ہے اسلئے امام اور مقتدی دونوں کو اس رکن میںشریک ہو نا چاہئے اور دونوں کو کم سے کم فاتحہ پڑھنا چاہئے ۔ اسکا جواب دے رہے ہیں کہ قرأت مشترک فرض ضرور ہے لیکن اس فرض میں امام کا کام قرأت کر نا ہے اور مقتدی کا کام اسکو سننا ہے اسی سے دونوں اس مشترک فرض میں شریک ہو جائیں گے اسلئے مقتدی کو فاتحہ پڑھنے کی ضرورت نہیںہے ۔ حضور ۖ کی یہ حدیث گزر چکی ۔ عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ انما جعل الامام لیوتم بہ فاذا کبر فکبرو واذا قرأ فانصتوا۔ (ابن ماجہ شریف، باب اذا قرء الامام فانصتوا ص ١٢٠، نمبر٨٤٦ نسائی شریف تاویل قولہ عز وجل واذا قریٔ القرآن فاستمعوا لہ ص ١٠٧ نمبر ٩٢٢ دار قطنی ،باب ذکر قولہ ۖ من کان لہ امام فقراء ة الامام قراء ة ص ٣٢٣ نمبر ١٢٢٩ مسلم شریف ،باب التشھد فی الصلوة ، ص ١٧٥، نمبر ٤٠٤ ٩٠٥)اس حدیث میں ہے کہ امام جب قرأت کرے تو مقتدی چپ رہے ۔(٢) آیت سے بھی یہ بات ثابت ہوئی کہ جب قرآن پڑھا جائے تو تم کان لگا کر سنو اور چپ رہو۔ واذا قریٔ القرآن فاستمعوا لہ وانصتو لعلکم ترحمون۔ (آیت ٢٠٤ سورة الاعراف ٧) آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ قرآن پڑھا جائے تو اس کو کان لگا کر سنو اور چپ رہو۔
ترجمہ: ٤ اور احتیاط کے طور پر قرأت کر نا اچھا سمجھا گیا ہے جیسا کہ امام محمد سے روایت ہے ۔
تشریح : امام شافعی کی دلائل کی وجہ سے امام محمد کی ایک روایت یہ ہے کہ احتیاط کے طور پر امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھ لے ۔
نوٹ : بعض حضرات کی رائے ہے کہ سری نماز ہو تو امام کے پیچھے قرأت کر لے اور جہری ہو تو نہ کرے ۔ انکی دلیل یہ اثر ہے ۔عن الحکم قال اقرأ خلف الامام فیما لم یجھر فی الاولیین فاتحة الکتاب و سورة ، و فی الاخریین فاتحة الکتاب ۔( مصنف ابن ابی شیبة ، ١٤٧ من رخص فی القرأة خلف الامام ، ج اول ، ص٣٢٩ ، نمبر٣٧٦٦ مصنف عبد الرزاق ، باب القرأة خلف الامام ، ج ثانی ، ص ١٣٠ ، نمبر٢٧٧٤) اس اثر میں ہے کہ امام سری نماز پڑھے تو مقتدی امام کے پیچھے قرأت کرے ۔