Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

519 - 627
٢  ولنا قولہ علیہ السلام من کان لہ امام فقراء ة الامام  لہ قراء ة وعلیہ اجماع الصحابة 

میں دونوں شریک ہوں ۔ 
فائدہ:  امام شافعی، امام مالک  فرماتے ہیں کہ امام کے پیچھے فاتحہ پڑھے گا۔چاہے قرأت جہری کر رہا ہو یا سری۔اور ایک روایت ہے کہ سری قرأت کر رہا ہو تو قرأت فاتحہ کرے گا اور جہری کر رہا ہو تو نہیں کرے گا۔موسوعہ میں عبارت یہ ہے ۔قال الشافعی  : و سن رسول اللہ  ۖ أن یقرأ القاری فی الصلوة بأم القرآن ، و دل علی أنھا فرض علی المصلی اذا کان یحسن یقرئوھا ۔ ( موسوعہ امام شافعی  ، باب القرأة بعد التعوذ ، ج ثانی ، ص ١٥٣ ، نمبر ١٣٤٩) اس عبارت میں ہے کہ مصلی پر فاتحہ پڑھنا فرض ہے ۔چاہے امام ہو یا مقتدی۔  
وجہ : (١) ان کی دلیل یہ حدیث ہے ۔ عن عبادة بن صامت ان رسول اللہ ۖ قال لا صلوة لمن لم یقرء بفاتحة الکتاب ۔ (بخاری شریف ، باب وجوب القراء ة للامام والماموم فی الصلوات کلھا فی الحضر والسفر وما یجھر فیھا وما یتخافت ص ١٠٤ نمبر ٧٥٦  مسلم شریف ، باب وجوب قراء ة الفاتحة فی کل رکعة ص١٦٩ نمبر ٣٩٤  ابو داؤد شریف نمبر ٨٢٣)اس حدیث سے ثابت کرتے ہیں کہ مقتدی کے لئے بھی فاتحہ پڑھنا ضروری ہے۔(٢) صاحب ھدایہ نے یہ دلیل بیان کی ہے کہ حدیث کی وجہ سے قرأت ہر ایک پر فرض ہے ، اسلئے امام اور مقتدی دونوں اس فرض میں شریک ہو نگے ، اور دونوں کو سورہ فاتحہ پڑھنا ہو گا ۔ (٣) یہ اثر بھی ہے۔ قال سألت ُ عمر بن الخطاب عن القرأة خلف الامام فقال لی : اقرأ ، قال : قلت ُ : و ان کنت ُ خلفک ؟ قال : و ان کنت َ خلفی ، قال : و ان قرأت َ ۔( مصنف ابن ابی شیبة ، ١٤٧ من رخص فی القرأة خلف الامام ، ج اول ، ص ٣٢٧ ، نمبر ٣٧٤٨ مصنف عبد الرزاق ، باب القرأة خلف الامام ، ج ثانی ، ص ١٣١ ، نمبر ٢٧٧٦) اس اثر سے بھی ثابت ہو تا ہے کہ امام کے پیچھے بھی قرأت فاتحہ کی جائے گی ۔ مصنف ابن ابی شیبة نے اس سلسلے میں ٢٩ اثار نقل فرمائے ہیں ۔
ترجمہ: ٢   اور ہماری دلیل حضور علیہ السلام کا قول ہے : جس کا امام ہو تو امام کی قرأت اس مقتدی کی قرأت ہے۔اور اس پر صحابہ کا اجماع ہے ۔
تشریح :  یہ حدیث اوپر گزر گئی ۔ حدیث یہ ہے  عن جابر قال قال رسول اللہ ۖ من کان لہ امام فقراء ة الامام لہ قرأة۔(ابن ماجہ شریف ، باب اذا قرء الامام فانصتوا ص ١٢٠، نمبر٨٥٠  دار قطنی ، باب ذکر قولہ من کان لہ امام ص ٣٢١ نمبر ١٢٢٠ ) اس حدیث میں ہے کہ جسکا امام ہو تو امام کی قرأت مقتدی کے لئے کافی ہے ۔ اور اس پر صحابہ کا اجماع تو نہیں کہہ سکتے کیونکہ بہت سارے صحابہ امام کے پیچھے قرأت کر نے کے قائل ہیں ، البتہ بہت سے صحابہ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ امام کے پیچھے قرأت کر نا اچھا نہیں۔مصنف ابن ابی شیبة نے ٢٧ اثر نقل کئے ہیں کہ وہ صحابہ امام کے پیچھے قرأت کر نے کے قائل نہیں تھے ۔ ایک اثر یہ بھی 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter