٢ ولنا قولہ علیہ السلام من کان لہ امام فقراء ة الامام لہ قراء ة وعلیہ اجماع الصحابة
میں دونوں شریک ہوں ۔
فائدہ: امام شافعی، امام مالک فرماتے ہیں کہ امام کے پیچھے فاتحہ پڑھے گا۔چاہے قرأت جہری کر رہا ہو یا سری۔اور ایک روایت ہے کہ سری قرأت کر رہا ہو تو قرأت فاتحہ کرے گا اور جہری کر رہا ہو تو نہیں کرے گا۔موسوعہ میں عبارت یہ ہے ۔قال الشافعی : و سن رسول اللہ ۖ أن یقرأ القاری فی الصلوة بأم القرآن ، و دل علی أنھا فرض علی المصلی اذا کان یحسن یقرئوھا ۔ ( موسوعہ امام شافعی ، باب القرأة بعد التعوذ ، ج ثانی ، ص ١٥٣ ، نمبر ١٣٤٩) اس عبارت میں ہے کہ مصلی پر فاتحہ پڑھنا فرض ہے ۔چاہے امام ہو یا مقتدی۔
وجہ : (١) ان کی دلیل یہ حدیث ہے ۔ عن عبادة بن صامت ان رسول اللہ ۖ قال لا صلوة لمن لم یقرء بفاتحة الکتاب ۔ (بخاری شریف ، باب وجوب القراء ة للامام والماموم فی الصلوات کلھا فی الحضر والسفر وما یجھر فیھا وما یتخافت ص ١٠٤ نمبر ٧٥٦ مسلم شریف ، باب وجوب قراء ة الفاتحة فی کل رکعة ص١٦٩ نمبر ٣٩٤ ابو داؤد شریف نمبر ٨٢٣)اس حدیث سے ثابت کرتے ہیں کہ مقتدی کے لئے بھی فاتحہ پڑھنا ضروری ہے۔(٢) صاحب ھدایہ نے یہ دلیل بیان کی ہے کہ حدیث کی وجہ سے قرأت ہر ایک پر فرض ہے ، اسلئے امام اور مقتدی دونوں اس فرض میں شریک ہو نگے ، اور دونوں کو سورہ فاتحہ پڑھنا ہو گا ۔ (٣) یہ اثر بھی ہے۔ قال سألت ُ عمر بن الخطاب عن القرأة خلف الامام فقال لی : اقرأ ، قال : قلت ُ : و ان کنت ُ خلفک ؟ قال : و ان کنت َ خلفی ، قال : و ان قرأت َ ۔( مصنف ابن ابی شیبة ، ١٤٧ من رخص فی القرأة خلف الامام ، ج اول ، ص ٣٢٧ ، نمبر ٣٧٤٨ مصنف عبد الرزاق ، باب القرأة خلف الامام ، ج ثانی ، ص ١٣١ ، نمبر ٢٧٧٦) اس اثر سے بھی ثابت ہو تا ہے کہ امام کے پیچھے بھی قرأت فاتحہ کی جائے گی ۔ مصنف ابن ابی شیبة نے اس سلسلے میں ٢٩ اثار نقل فرمائے ہیں ۔
ترجمہ: ٢ اور ہماری دلیل حضور علیہ السلام کا قول ہے : جس کا امام ہو تو امام کی قرأت اس مقتدی کی قرأت ہے۔اور اس پر صحابہ کا اجماع ہے ۔
تشریح : یہ حدیث اوپر گزر گئی ۔ حدیث یہ ہے عن جابر قال قال رسول اللہ ۖ من کان لہ امام فقراء ة الامام لہ قرأة۔(ابن ماجہ شریف ، باب اذا قرء الامام فانصتوا ص ١٢٠، نمبر٨٥٠ دار قطنی ، باب ذکر قولہ من کان لہ امام ص ٣٢١ نمبر ١٢٢٠ ) اس حدیث میں ہے کہ جسکا امام ہو تو امام کی قرأت مقتدی کے لئے کافی ہے ۔ اور اس پر صحابہ کا اجماع تو نہیں کہہ سکتے کیونکہ بہت سارے صحابہ امام کے پیچھے قرأت کر نے کے قائل ہیں ، البتہ بہت سے صحابہ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ امام کے پیچھے قرأت کر نا اچھا نہیں۔مصنف ابن ابی شیبة نے ٢٧ اثر نقل کئے ہیں کہ وہ صحابہ امام کے پیچھے قرأت کر نے کے قائل نہیں تھے ۔ ایک اثر یہ بھی