Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

518 - 627
 ١خلافا للشافعی فی الفاتحة لہ ان القراء ة رکن من الارکان فیشترکان فیہ  

نسائی شریف تاویل قولہ عز وجل واذا قریٔ القرآن فاستمعوا لہ ص ١٠٧ نمبر ٩٢٢  دار قطنی ،باب ذکر قولہ ۖ من کان لہ امام فقراء ة الامام قراء ة ص ٣٢٣ نمبر ١٢٢٩ مسلم شریف ،باب التشھد فی الصلوة ، ص ١٧٥، نمبر ٤٠٤  ٩٠٥)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرأت کے وقت مقتدی کو چپ رہنا چاہئے(٣)بلکہ قرأت کرنے والوں کو آپۖ نے منع فرمایا  عن عمران بن حصین ان رسول اللہ ۖ صلی الظھر فجعل رجل یقرء خلفہ سبح اسم ربک الاعلی فلما انصرف قال ایکم قرء او ایکم القاری؟ قال رجل انا فقال قد ظننت ان بعضکم خالجنیھا۔ (مسلم شریف،باب نھی الماموم عن جھرہ بالقراء ة خلف الامام ص ١٧٢ نمبر ٣٩٨ ) ابو داؤد شریف کی حدیث میں ہے  مالی انازع القرآن  قال فانتھی الناس عن القراء ة مع رسول اللہ ۖ فیما جھر فیہ ۔ (ابو داؤد شریف، باب من رأی القراء ة اذا لم یجہر، ص ١٢٧، نمبر ٨٢٦ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی ترک القراء ة خلف الامام اذا جھرالامام بالقرائة ص ٧١ نمبر ٣١٢  دار قطنی ، باب ذکر قولہ من کان لہ امام فقراء ة الامام لہ قراء ة ص ٣٢١ نمبر ١٢٢٢ ) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ قرأت خلف الامام مناسب نہیں ہے۔ آپۖ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے(٤)مقتدیوں کو قرأت کرنے کی ضرورت اس لئے بھی نہیں ہے کہ امام مقتدیوں کی جانب سے قرأت کر رہا ہے۔ امام کی قرأت مقتدی کی قرأت ہے۔ حدیث میں اس کا با ضابطہ ذکر ہے۔یہ صاحب ھدایہ کی بھی حدیث ہے ۔عن جابر قال قال رسول اللہ ۖ من کان لہ امام فقراء ة الامام لہ قراء ة۔(ابن ماجہ شریف ، باب اذا قرء الامام فانصتوا ص ١٢٠، نمبر٨٥٠  دار قطنی ، باب ذکر قولہ من  کان لہ امام ص ٣٢١ نمبر ١٢٢٠ ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام نے فاتحہ پڑھ لی تو گویا کہ مقتدی نے بھی پڑھ لی وہ بغیر فاتحہ کے نہ رہے (٥)عن ابی درداء سمعہ یقول سئل رسول اللہ ۖ ا فی کل صلوة قراء ة ؟قال نعم قال رجل من الانصار وجبت ھذہ؟ فالتفت الی وکنت اقرب القوم منہ فقال ما اری الامام اذا ام القوم الا قد کفا ھم ۔ (نسائی شریف ، باب اکتفاء الماموم بقراء ة الامام ص ١٠٧ نمبر ٩٢٤  دار قطنی ص ٣٢٦ نمبر ١٢٤٨) اس سے بھی معلوم ہوا کہ مقتدیوں کو امام کی قرأت کافی ہے(٦) عن زید بن ثابت قال : من قرأ مع الامام فلا صلوة لہ ۔(  مصنف عبد الرزاق ، باب القرأة خلف الامام ، ج ثانی ، ص ١٣٧ ، نمبر ٢٨٠٢مصنف ابن ابی شیبة ، ١٤٧ من کرہ القرأة خلف الامام ، ج اول ، ص ٣٣٠ ، نمبر ٣٧٨٣) اس قسم کی ٢٧ حدیثین اور آثارمصنف ابن ابی شیبہ  نے نقل کی ہے جس سے ثابت ہو تا ہے کہ قرأت خلف الامام نہیںہے ٧) مقتدی رکوع میں امام کے ساتھ ملے تو مقتدی کو وہ رکعت مل گئی۔لیکن فاتحہ پڑھنے کا موقع نہیں ملا تو گو یا کہ امام شافعی کے نزدیک بھی اس صورت میں امام کا پڑھا ہوا فاتحہ مقتدی کے لئے کافی ہو گیا تو آخر ایک صورت میںوہ بھی حنفیوں کے ساتھ ہو گئے۔  
ترجمہ:   ١   خلاف امام شافعی کے سورہ فاتحہ کے بارے میں ۔ انکی دلیل یہ ہے کہ قرأت رکنوں میں سے ایک رکن ہے تو اس 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter