١خلافا للشافعی فی الفاتحة لہ ان القراء ة رکن من الارکان فیشترکان فیہ
نسائی شریف تاویل قولہ عز وجل واذا قریٔ القرآن فاستمعوا لہ ص ١٠٧ نمبر ٩٢٢ دار قطنی ،باب ذکر قولہ ۖ من کان لہ امام فقراء ة الامام قراء ة ص ٣٢٣ نمبر ١٢٢٩ مسلم شریف ،باب التشھد فی الصلوة ، ص ١٧٥، نمبر ٤٠٤ ٩٠٥)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرأت کے وقت مقتدی کو چپ رہنا چاہئے(٣)بلکہ قرأت کرنے والوں کو آپۖ نے منع فرمایا عن عمران بن حصین ان رسول اللہ ۖ صلی الظھر فجعل رجل یقرء خلفہ سبح اسم ربک الاعلی فلما انصرف قال ایکم قرء او ایکم القاری؟ قال رجل انا فقال قد ظننت ان بعضکم خالجنیھا۔ (مسلم شریف،باب نھی الماموم عن جھرہ بالقراء ة خلف الامام ص ١٧٢ نمبر ٣٩٨ ) ابو داؤد شریف کی حدیث میں ہے مالی انازع القرآن قال فانتھی الناس عن القراء ة مع رسول اللہ ۖ فیما جھر فیہ ۔ (ابو داؤد شریف، باب من رأی القراء ة اذا لم یجہر، ص ١٢٧، نمبر ٨٢٦ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی ترک القراء ة خلف الامام اذا جھرالامام بالقرائة ص ٧١ نمبر ٣١٢ دار قطنی ، باب ذکر قولہ من کان لہ امام فقراء ة الامام لہ قراء ة ص ٣٢١ نمبر ١٢٢٢ ) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ قرأت خلف الامام مناسب نہیں ہے۔ آپۖ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے(٤)مقتدیوں کو قرأت کرنے کی ضرورت اس لئے بھی نہیں ہے کہ امام مقتدیوں کی جانب سے قرأت کر رہا ہے۔ امام کی قرأت مقتدی کی قرأت ہے۔ حدیث میں اس کا با ضابطہ ذکر ہے۔یہ صاحب ھدایہ کی بھی حدیث ہے ۔عن جابر قال قال رسول اللہ ۖ من کان لہ امام فقراء ة الامام لہ قراء ة۔(ابن ماجہ شریف ، باب اذا قرء الامام فانصتوا ص ١٢٠، نمبر٨٥٠ دار قطنی ، باب ذکر قولہ من کان لہ امام ص ٣٢١ نمبر ١٢٢٠ ) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام نے فاتحہ پڑھ لی تو گویا کہ مقتدی نے بھی پڑھ لی وہ بغیر فاتحہ کے نہ رہے (٥)عن ابی درداء سمعہ یقول سئل رسول اللہ ۖ ا فی کل صلوة قراء ة ؟قال نعم قال رجل من الانصار وجبت ھذہ؟ فالتفت الی وکنت اقرب القوم منہ فقال ما اری الامام اذا ام القوم الا قد کفا ھم ۔ (نسائی شریف ، باب اکتفاء الماموم بقراء ة الامام ص ١٠٧ نمبر ٩٢٤ دار قطنی ص ٣٢٦ نمبر ١٢٤٨) اس سے بھی معلوم ہوا کہ مقتدیوں کو امام کی قرأت کافی ہے(٦) عن زید بن ثابت قال : من قرأ مع الامام فلا صلوة لہ ۔( مصنف عبد الرزاق ، باب القرأة خلف الامام ، ج ثانی ، ص ١٣٧ ، نمبر ٢٨٠٢مصنف ابن ابی شیبة ، ١٤٧ من کرہ القرأة خلف الامام ، ج اول ، ص ٣٣٠ ، نمبر ٣٧٨٣) اس قسم کی ٢٧ حدیثین اور آثارمصنف ابن ابی شیبہ نے نقل کی ہے جس سے ثابت ہو تا ہے کہ قرأت خلف الامام نہیںہے ٧) مقتدی رکوع میں امام کے ساتھ ملے تو مقتدی کو وہ رکعت مل گئی۔لیکن فاتحہ پڑھنے کا موقع نہیں ملا تو گو یا کہ امام شافعی کے نزدیک بھی اس صورت میں امام کا پڑھا ہوا فاتحہ مقتدی کے لئے کافی ہو گیا تو آخر ایک صورت میںوہ بھی حنفیوں کے ساتھ ہو گئے۔
ترجمہ: ١ خلاف امام شافعی کے سورہ فاتحہ کے بارے میں ۔ انکی دلیل یہ ہے کہ قرأت رکنوں میں سے ایک رکن ہے تو اس