من القراٰن لشیٔ من الصلوات ) ١ لما فیہ من ہجرالباقی وایہام التفضیل (٣٣٠) ولا یقرأ المؤتم خلف الامام )
ترجمہ: ١ اسلئے کہ اس میں باقی کو چھوڑنا ہے ، اور اسکو فضیلت کا وہم ہے ۔
تشریح : ایسا تو نہیںسمجھتا ہے کہ اس آیت کے بغیر نماز نہیں ہو گی ۔
لیکن کسی آیت کو کسی نماز کے لئے خاص کر لے ، اور اس نماز میں بار بار وہی آیت پڑھے تو یہ بھی مکروہ ہے ۔ اسکی دو وجہ ہیں ۔ ایک تو یہ کہ جب اس آیت کو ہمیشہ پڑھے گا تو باقی آیتوں کو ہمیشہ چھوڑ دے گا ، ایسا کر نا مکروہ ہے ۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو وھم ہو گا کہ یہی آیت افضل ہے اور دوسری آیتیں افضل نہیںہیں ، حالانکہ تمام آیتیں افضل ہیں ۔ تو فضیلت کا وھم ڈالنا یہ بھی مکروہ ہے ، اسلئے کسی خاص آیت یا سورت کو کسی خاص نماز کے لئے متعین نہ کرے ۔ البتہ کسی فضیلت کی وجہ سے اکثر و بیشتر کسی نماز میں کسی سورت کو پڑھنا استحباب کے خلاف نہیںہے کیونکہ حضورۖ جمعہ کی نماز میں٫ الم تنزیل ٫السجدة ، اور ھل أتی علی الانسان حین من الدھر ، پڑھا کر تے تھے ۔ حدیث یہ ہے ۔ عن ابی ھریرة قال : کان النبی ۖ یقرأ فی الفجر یوم الجمعة ٫( الم تنزیل )آیت ١.٢سورة السجدة ٣٢، اور (ھل أتی علی الانسان حین من الدھر )آیت ١ سورة الانسان ٧٦)( بخاری شریف ، باب ما یقرأ فی صلوة الفجر یوم الجمعة ، ص ١٢١، نمبر ٨٩١) اس حدیث میں ہے کہ جمعہ کے دن فجر کی نماز میںسورہ سجدہ اور سورہ انسان پڑھا کرتے تھے ۔
( قرأت خلف الامام )
ترجمہ :(٣٣٠) مقتدی امام کے پیچھے نہ پڑھے۔
تشریح : حنفیہ کے نزدیک مقتدی کو قرأت کرنا صحیح نہیں ہے۔کیونکہ امام کی قرأت مقتدی کے لئے کافی ہے۔ان کا کام ہے امام کی قرأت سننا اور خاموش رہنا۔حضرت امام ابو حنیفہ کی نظر آیت اور نص قطعی کی طرف گئی ہے۔
وجہ : (١) ّآیت میں ہے واذا قریٔ القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون۔ (آیت ٢٠٤ سورة الاعراف ٧) آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ قرآن پڑھا جائے تو اس کو کان لگا کر سنو اور چپ رہو۔اس لئے امام جب قرأت کرے گا تو مقتدی کا کام اس کو کان لگا کر سننا ہے اور سنائی نہ بھی دے تو چپ رہنا ہے۔اس لئے قرأت خلف الامام صحیح نہیں ہے (٢)حدیث میں بھی ہے کہ امام قرأت کرے تو مقتدی کو چپ رہنا چاہئے ۔ یہ صاحب ھدایہ کی بھی حدیث ہے ۔ عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ انما جعل الامام لیوتم بہ فاذا کبر فکبرو واذا قرأ فانصتوا۔ (ابن ماجہ شریف، باب اذا قرء الامام فانصتوا ص ١٢٠، نمبر٨٤٦