Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

517 - 627
من  القراٰن لشیٔ من الصلوات )   ١   لما فیہ من ہجرالباقی وایہام التفضیل  (٣٣٠) ولا یقرأ المؤتم خلف الامام )  

ترجمہ:   ١   اسلئے کہ اس میں باقی کو چھوڑنا ہے ، اور اسکو فضیلت کا وہم ہے ۔ 
تشریح :  ایسا تو نہیںسمجھتا ہے کہ اس آیت کے بغیر نماز  نہیں ہو گی ۔ 
لیکن کسی آیت کو کسی نماز کے لئے خاص کر لے ، اور اس نماز میں بار بار وہی آیت پڑھے تو یہ بھی مکروہ ہے ۔ اسکی دو وجہ ہیں ۔ ایک تو یہ کہ جب اس آیت کو ہمیشہ پڑھے گا تو باقی آیتوں کو ہمیشہ چھوڑ دے گا ، ایسا کر نا مکروہ ہے ۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو وھم ہو گا کہ یہی آیت افضل ہے اور دوسری آیتیں افضل نہیںہیں ، حالانکہ تمام آیتیں افضل ہیں ۔ تو فضیلت کا وھم ڈالنا یہ بھی مکروہ ہے ، اسلئے کسی خاص آیت یا سورت کو کسی خاص نماز کے لئے متعین نہ کرے ۔  البتہ کسی فضیلت کی وجہ  سے اکثر و بیشتر کسی نماز میں کسی سورت کو پڑھنا استحباب کے خلاف نہیںہے کیونکہ حضورۖ جمعہ کی نماز میں٫ الم تنزیل ٫السجدة ، اور ھل أتی علی الانسان حین من الدھر ،  پڑھا کر تے تھے ۔ حدیث یہ ہے ۔ عن ابی ھریرة  قال : کان النبی  ۖ یقرأ فی الفجر یوم الجمعة  ٫( الم تنزیل )آیت ١.٢سورة السجدة ٣٢، اور (ھل أتی علی الانسان حین من الدھر )آیت ١ سورة الانسان ٧٦)( بخاری شریف ، باب ما یقرأ فی صلوة الفجر یوم الجمعة ، ص ١٢١، نمبر ٨٩١) اس حدیث میں ہے کہ جمعہ کے دن فجر کی نماز میںسورہ سجدہ اور سورہ انسان پڑھا کرتے تھے ۔ 

(  قرأت خلف الامام  )
ترجمہ  :(٣٣٠)  مقتدی امام کے پیچھے نہ پڑھے۔  
تشریح : حنفیہ کے نزدیک مقتدی کو قرأت کرنا صحیح نہیں ہے۔کیونکہ امام کی قرأت مقتدی کے لئے کافی ہے۔ان کا کام ہے امام کی قرأت سننا اور خاموش رہنا۔حضرت امام ابو حنیفہ کی نظر آیت اور نص قطعی کی طرف گئی ہے۔  
وجہ : (١) ّآیت میں ہے واذا قریٔ القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون۔ (آیت ٢٠٤ سورة الاعراف ٧) آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ قرآن پڑھا جائے تو اس کو کان لگا کر سنو اور چپ رہو۔اس لئے امام جب قرأت کرے گا تو مقتدی کا کام اس کو کان لگا کر سننا ہے اور سنائی نہ بھی دے تو چپ رہنا ہے۔اس لئے قرأت خلف الامام صحیح نہیں ہے (٢)حدیث میں بھی ہے کہ امام قرأت کرے تو مقتدی کو چپ رہنا چاہئے ۔ یہ صاحب ھدایہ کی بھی حدیث ہے ۔ عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ انما جعل الامام لیوتم بہ فاذا کبر فکبرو واذا قرأ فانصتوا۔ (ابن ماجہ شریف، باب اذا قرء الامام فانصتوا ص ١٢٠، نمبر٨٤٦ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter