٥ ولامعتبر بالزیادة والنقصان بمادون ثلث اٰیات لعدم امکان الاحترازعنہ من غیرحرج (٣٢٨)ولیس فی شیٔ من الصلوات قراء ة سورة بعینہا لایجوز غیرہا) ١لاطلاق ماتلونا (٣٢٩)ویکرہ ان یوقت بشی
ہے ، اور اعوذ باللہ بھی ہے اور بسم اللہ بھی ہے انکی وجہ سے وہ لمبی معلوم ہو تی تھی ، ورنہ قرأت کے اعتبار دونوں برابر ہو تی تھیں ۔
ترجمہ : ٥ اور تین آیتوں سے کم میں کمی زیادتی کا اعتبار نہیںہے ، اسلئے کہ بغیر حرج کے اس سے بچنا ممکن نہیںہے ۔
تشریح : اوپر یہ فرمایا کہ ظہر کی دونوں رکعتیں برابر ہوں ۔ اب یہ فرمایا رہے ہیں کہ کتنی کمی زیادتی معاف ہے ! فرماتے ہیں کہ پہلی رکعت سے دوسری رکعت میںایک ، یا دو آیت زیادہ ہو جائے تو یہ زیادہ نہیںسمجھا جائے گا برابر ہی سمجھا جائے گا ، ہاں تین آیت زیادہ ہو جائے تب زیادہ سمجھا جائے گا ۔ کیونکہ ایک دو آیت کو بھی زیادہ کہیں تو اس سے بچنا مشکل ہے اور حرج لازم آئے گا ۔ اسلئے تین آیت کو زیادتی کا معیار بنایا ۔ (١) حدیث میں ہے کہ حضورنے فجر کی پہلی رکعت میں قل اعوذ برب الفلق ، پڑھی اور دوسری رکعت میں قل اعوذ برب الناس ، پھر بھی دونوں کو برابر سمجھا گیا ، حالانکہ٫ قل اعوذ برب الفلق ، میں ٥ ہی آیتیں ہیں اور ٫ قل اعوذ برب الناس ، میں ٦ آیتیں ہیں یعنی ایک آیت زیادہ ہے ، لیکن چونکہ تین آیتوں سے کم ہے اسلئے دونوں کو برابر سمجھا گیا ۔ حدیث یہ ہے ۔عن عقبة بن عامر قال : کنت أقود برسول اللہ ۖ ناقتہ فی السفر فقال لی : یا عقبة ! ألا أعلمک خیر سورتین قرئتا ، فعلمنی (قل أعوذ برب الفلق )و (قل اعوذ برب الناس )قال : فلم یرنی سررت بھما جدا ، قال : فلما نزل لصلوة الصبح صلی بھما صلوة الصبح للناس ، فلما فرغ رسول اللہ ۖ من الصلوة التفت الی فقال : یا عقبة کیف رأیتَ۔( ابوداود شریف ، باب فی المعوذتین ، ص ٢١٨، نمبر ١٤٦٢ نسائی شریف ، کتاب الاستعاذہ ، ص ٧٤٠ ، نمبر ٥٤٣٨) اس حدیث میں ہے کہ ایک میں ٥ اور دوسری میں ٦ آیتیں پڑھیں پھر بھی دونوں رکعتوں کو برابر سمجھا گیا ۔
ترجمہ : (٣٢٨) نماز میں کوئی ایسی متعین سورت پڑھنا ضروری نہیںہے کہ اسکے علاوہ جائز نہ ہو ۔
ترجمہ : ١ اس آیت کی وجہ سے جسکو میں نے پہلے تلاوت کی
تشریح : ایسا سمجھے کہ کسی نماز کے لئے کوئی متعین سورت ہی ہے اسکے بغیر نماز ہو گی ہی نہیں ، ایسا نہیں ہے ۔ کسی بھی سورت ، یا کسی بھی آیت سے کوئی بھی نماز درست ہے ، کسی نماز کے لئے کوئی متعین سورت نہیںہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ قرآن میں( فاقرئو ا ما تیسر من القرآن ) کہ قرآن میں سے جو بھی آسان ہو وہ پڑھو تو خود قرآن نے فرمایا کہ کوئی آیت کسی نماز کے لئے متعین نہیں ہے جو بھی آسان ہو اسکو پڑھ کر نماز ادا کر لو ۔
ترجمہ: (٣٢٩) اور مکروہ ہے کہ قرآن کی کوئی آیت کسی خاص نماز کے لئے متعین کرے ۔