Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

516 - 627
٥  ولامعتبر بالزیادة والنقصان بمادون ثلث اٰیات لعدم امکان الاحترازعنہ من غیرحرج (٣٢٨)ولیس  فی شیٔ من الصلوات قراء ة سورة بعینہا لایجوز غیرہا) ١لاطلاق ماتلونا (٣٢٩)ویکرہ ان یوقت بشی 

ہے ، اور اعوذ باللہ بھی ہے اور بسم اللہ بھی ہے انکی وجہ سے وہ لمبی معلوم ہو تی تھی ، ورنہ قرأت کے اعتبار دونوں برابر ہو تی تھیں ۔
ترجمہ : ٥   اور تین آیتوں سے کم میں کمی زیادتی کا اعتبار نہیںہے ، اسلئے کہ بغیر حرج کے اس سے بچنا ممکن نہیںہے ۔
تشریح :  اوپر یہ فرمایا کہ ظہر کی دونوں رکعتیں برابر ہوں ۔ اب یہ فرمایا رہے ہیں کہ کتنی کمی زیادتی معاف ہے !  فرماتے ہیں کہ پہلی  رکعت سے دوسری رکعت میںایک ، یا دو آیت زیادہ ہو جائے تو یہ زیادہ نہیںسمجھا جائے گا برابر ہی سمجھا جائے گا ، ہاں تین آیت زیادہ ہو جائے تب  زیادہ سمجھا جائے گا ۔ کیونکہ ایک دو آیت کو بھی زیادہ کہیں تو اس سے بچنا مشکل ہے اور حرج لازم آئے گا ۔ اسلئے تین آیت کو زیادتی کا معیار  بنایا ۔ (١)  حدیث میں ہے کہ حضورنے فجر کی  پہلی رکعت میں قل اعوذ برب الفلق ، پڑھی اور دوسری رکعت میں قل اعوذ برب الناس ، پھر بھی دونوں کو برابر سمجھا گیا ، حالانکہ٫ قل اعوذ برب الفلق ،  میں ٥ ہی آیتیں ہیں اور ٫ قل اعوذ برب الناس ،  میں ٦ آیتیں ہیں یعنی ایک آیت زیادہ ہے ، لیکن چونکہ تین آیتوں سے کم ہے اسلئے دونوں کو برابر سمجھا گیا ۔ حدیث یہ ہے ۔عن عقبة بن عامر قال : کنت أقود برسول اللہ  ۖ ناقتہ فی السفر فقال لی : یا عقبة ! ألا أعلمک خیر سورتین قرئتا ، فعلمنی (قل أعوذ برب الفلق )و (قل اعوذ برب الناس )قال : فلم یرنی سررت بھما جدا ، قال : فلما نزل لصلوة الصبح صلی بھما صلوة الصبح للناس ، فلما فرغ رسول اللہ  ۖ من الصلوة التفت الی فقال : یا عقبة کیف رأیتَ۔( ابوداود شریف ، باب فی  المعوذتین ، ص ٢١٨، نمبر ١٤٦٢ نسائی شریف ، کتاب الاستعاذہ ، ص ٧٤٠ ، نمبر ٥٤٣٨) اس حدیث میں ہے کہ ایک میں ٥ اور دوسری میں ٦ آیتیں پڑھیں  پھر بھی  دونوں رکعتوں کو برابر سمجھا گیا ۔
ترجمہ : (٣٢٨)  نماز میں کوئی ایسی متعین سورت پڑھنا ضروری نہیںہے کہ اسکے علاوہ جائز نہ ہو ۔ 
 ترجمہ :   ١   اس آیت کی وجہ سے جسکو میں نے پہلے تلاوت کی 
تشریح :  ایسا سمجھے کہ کسی نماز کے لئے کوئی متعین سورت ہی ہے اسکے بغیر نماز ہو گی ہی نہیں ، ایسا نہیں ہے ۔ کسی بھی سورت ، یا کسی بھی آیت سے کوئی بھی نماز درست ہے ، کسی نماز کے لئے کوئی متعین سورت نہیںہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ قرآن میں( فاقرئو ا ما تیسر من القرآن ) کہ قرآن میں سے جو بھی آسان ہو وہ پڑھو تو خود قرآن نے فرمایا کہ کوئی آیت کسی نماز کے لئے متعین نہیں ہے جو بھی آسان ہو اسکو پڑھ کر نماز ادا کر لو ۔ 
ترجمہ:  (٣٢٩) اور مکروہ ہے کہ قرآن کی کوئی آیت کسی خاص نماز کے لئے متعین کرے ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter