٢ وقال محمد احبُّ الیّ ان یطیل الرکعة الاولیٰ علی الثانیة فی الصلوٰة کلہا لما روی ان النبی علیہ السلام کان یطیل الرکعة الاولیٰ علی غیرہا فی الصلوات کلہا ٣ ولہما ان الرکعتین استویا فی استحقاق القراء ة فیستویان فی المقدار بخلاف الفجر لانہ وقت نوم وغفلة ٤ والحدیث محمول علی الاطالةمن حیث الثناء والتعوذوالتسمیة
دونوں رکعتیں قرأت کے اعتبار سے ایک طرح ہوئیں ۔
ترجمہ: ٢ حضرت امام محمد نے فرمایا کہ مجھے یہ پسند ہے کہ تمام نمازوں میں پہلی رکعت کو دوسر ی رکعت پر لمبی کرے ۔ اسلئے کہ نبی علیہ السلام تمام نمازوں میں پہلی رکعت کو اسکے علاوہ پر لمبی کر تے تھے ۔
وجہ: امام محمد فرماتے ہیں کہ تمام ہی نمازوں میں پہلی رکعت کو دوسری پر لمبی کرے ۔ انکی دلیل یہ حدیث ہے جسکی طرف صاحب ھدایہ نے اشارہ کیا ہے ۔عن عبد اللہ بن ابی قتادة ، عن ابیہ قال : کان رسول اللہ ۖ یقرأ فی الرکعتین الاولیین من صلاة الظھر بفاتحةالکتاب و سورتین ، یطول فی الاولی و یقصر فی الثانیة و یسمع الآیة احیانا ، و کان یقرأ فی العصر بفاتحة الکتاب و سورتین ، و کان یطول فی الاولی ، و کان یطول فی الرکعة الاولی من صلوة الصبح ، و یقصر فی الثانیة ۔( بخاری شریف ، باب القرأة فی الظھر ، ص ١٠٥ ، نمبر ٧٥٩مسلم شریف ، باب القرأة فی الظھر ، ص ١٨٥، نمبر ٤٥١ ١٠١٢) اس حدیث میں ہے کہ پہلی رکعت کو لمبی کرتے اور دوسری رکعت کو اس سے مختصر کرتے تھے۔
ترجمہ: ٣ امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کی دلیل یہ ہے کہ دونوں رکعتیں قرأت کے استحقاق کے حق میںبرابر ہیں تو مقدار میں بھی برابر ہو نی چاہئے بخلاف فجر کے اسلئے کہ وہ سونے اور غفلت کا وقت ہے ۔
تشریح : یہ دلیل عقلی ہے ، طرفین فرماتے ہیں کہ ظہر کی دونوں رکعتوں کو حق ہے کہ ان میںقرأت کی جائے ، جب دونوں کا حق برابر ہے تو آیت کی مقدار بھی برابر ہو نی چاہئے ۔ باقی رہا کہ فجر کی پہلی رکعت میںلمبی قرأت کر نے کو مستحب کہا تو اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ وقت نیند اور غفلت کا ہے اسلئے پہلی رکعت لمبی کرے گا تو لوگوں کو جماعت مل جائے گی ۔ اور ظہر کا وقت ایسا نہیں ہے اسلئے اسکی دونوں رکعتیں برابر ہو نی چاہئے ۔ ۔ اسکے لئے حدیث اوپر گزر چکی ہے ۔
ترجمہ: ٤ اور حدیث محمول ہے ثناء ، اور اعوذ باللہ،اور بسم اللہ کی وجہ سے لمبی ہو نے پر ۔
تشریح: یہ امام محمد کی حدیث کا جواب ہے ۔ انہوں نے اوپر بخاری شریف کی حدیث پیش کی تھی کہ حضور ۖ ظہر کی پہلی رکعت کو لمبی کر تے تھے ۔ اسکا جواب دے رہے ہیں کہ دونوں رکعتیں قرأت کے اعتبار سے برابرہو تیں تھی ، البتہ پہلی رکعت میں ثناء بھی