Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

514 - 627
(٣٢٧)قال  ورکعتا الظہر سوائ)  ١ وہٰذا عند ابی حنفیة وابی یوسف 

ۖ یقرأ فی  الرکعتین الاولیین من صلاة الظھر بفاتحةالکتاب و سورتین ، یطول فی الاولی و یقصر فی الثانیة و یسمع الآیة احیانا ، و کان یقرأ فی العصر بفاتحة الکتاب و سورتین ، و کان یطول فی الاولی ، و کان یطول فی الرکعة الاولی من صلوة الصبح ، و یقصر فی الثانیة ۔( بخاری شریف ، باب القرأة فی الظھر ، ص ١٠٥ ، نمبر ٧٥٩مسلم شریف ، باب القرأة فی الظھر ، ص ١٨٥، نمبر ٤٥١ ١٠١٢) اس حدیث میں ہے کہ پہلی رکعت کو لمبی کرتے اور دوسری رکعت کو اس سے مختصر کرتے تھے ۔  (٢)اس اثر میں اسکا ثبوت ہے ۔ قال صلیت خلف عمر  فقرأ فی الرکعة الاولی بسورة یوسف ، ثم قرأ فی الثانیة ٫ بالنجم ، فسجد ثم قرأ : (اذا زلزلت الارض )آیت ١ سورة نمبر ٩٩) ثم رکع۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، ١٢٩، ما یقرأ فی صلوة الفجر ، ج اول ، ص ٣١١ ، نمبر ٣٥٦٤) اس اثر میں حضرت عمر  نے فجر کی پہلی رکعت میں سورہ یوسف پڑھی جس میں ١١١ آیتیں ہیں اور دوسری رکعت میں سورہ نجم پڑھی جس میں ٦٢ آیت ہیں اور پھر اذا زلزلت ، سورہ زلزلہ پڑھی جس میں ٨ آیتیں ہیں تو کل ملا کر ٧٠ آیتیںہوئیں ، تاہم ١١١ آیتوں سے کم ہیں ، جس سے پتہ چلا کہ دوسری رکعت میںپہلی رکعت سے کم پڑھنی چاہئے ۔    
ترجمہ:   (٣٢٧)  اور ظھر کی دونوں رکعتیں برابر ہیں ۔
ترجمہ:   ١   یہ امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف  کے نزدیک ہے ۔ 
تشریح :   امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف  کی رائے ہے کہ ظہر کی پہلی رکعت  کی قرأت کو دوسری رکعت کی بنسبت لمبی کر نا مستحب نہیں ہے بلکہ دونوں رکعتیںقرأت کے اعتبار سے برابر ہوں ۔
وجہ:   (١) اس حدیث میں ہے کہ پہلی دونوں رکعتوں کو ایک ہی طرح پڑھتے تھے  ۔عن ابی سعید الخدری : أن النبی  ۖ کان یقرأ فی صلوة الظھر فی الرکعتین الاولیین فی کل رکعتین قدر ثلاثین آیة ، و فی الاخریین قدر خمس عشرة آیة ۔ ( مسلم شریف ، باب القرائة فی الظھر و العصر ،١٨٥، نمبر ٤٥٢ ١٠١٥) اس حدیث میں ہے کہ ظہر کی پہلی رکعت میں بھی تیس آیتیں پڑھی اور دوسری رکعت میں بھی تیس آیتیں پڑھی ، تو دونوں رکعتیں ایک طرح کی ہو گئیں ۔(٢) اس حدیث میں بھی اسکا اثبوت  ہے ۔ قال عمر  لسعد  : قد شکوک الناس فی کل شیء حتی فی الصلوة ۔قال : أما انا فأمد فی الاولیین و أحذف فی الاخریین و ما اٰلو ما اقتدیت ُ بہ من صلوة رسول  اللہ  ۖ ۔ قال: ذاک الظن بک ۔ ( ابو داود شریف ، باب تخفیف الاخریین ، ص ١٢٤ ، نمبر ٨٠٣ مسم شریف ، باب القرأة فی الظھر و العصر ، ص ١٨٥، نمبر ٤٥٣ ١٠١٨)  اس حدیث میں ہے کہ پہلی دو رکعتوں کو لمبی کر تا ہوں اور دوسری دو رکعتوں کو مختصر کر تا ہوں، اس سے معلوم ہوا کہ ظہر کی پہلی 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter