٢ ولان مبنی المغرب علی العجلة والتخفیف الیق بہا والعصر والعشاء یستحب فیہما التاخیر وقد یقعان بالتطویل فی وقت غیر مستحب فیوقّت فیہما بالاوساط (٣٢٦) ویطیل الرکعة الاولیٰ من الفجر علی الثانیة ) ١ اعانة للناس علیٰ ادراک الجماعات
المغرب بقصار المفصل ، و یقرأفی العشاء بوسط المفصل ، و یقرأ فی الصبح بطوال المفصل ۔ ( نسائی شریف ، باب تخفیف القیام و القرأة ، ص ١٣٧، نمبر ٩٨٣)اس حدیث مرسل سے معلوم ہو تا ہے کہ صبح میں طوال مفصل ، عشاء میں اوساط مفصل ، اور مغرب میں قصار مفصل پڑھے ۔ظہر اور عصر کی دلیل پہلے گزر چکی ہے ۔
ترجمہ: ٢ اور اس لئے کہ مغرب کا دارو مدار جلدی پر ہے اسلئے اسکے ساتھ تخفیف زیادہ بہتر ہے ، اور عصر اور عشاء میں موء خر کر نا مستحب ہے اسلئے لمبی قرأت کر نے سے غیر مستحب وقت میں پڑ جائیں گے اسلئے ان دونوں میں اوساط مفصل کے ساتھ متعین کیا جائے ۔
تشریح: یہ دلیل عقلی ہے ۔ کہ مغرب کی نماز جلدی ختم کر نی چاہئے تاکہ یہ نماز تاخیر کے ساتھ ادا نہ ہو ، اب اس میں لمبی قرأت کریں تو تاخیر ہو گی اسلئے چھوٹی سورتیں اور قصار مفصل اسکے زیادہ مناسب ہے ۔ اور عصر میں اور عشاء میںمستحب یہ ہے کہ تاخیر سے نماز پڑھے ، اب اگر اس میں لمبی قرأت کرے تو ایسا ممکن ہے کہ مکروہ وقت تک نماز لمبی ہو جائے جو اچھی بات نہیں ہے اسلئے انکے مناسب یہی ہے کہ وسط مفصل قرأت کرے ۔
(طوال مفصل ، اوساط مفصل ، اور قصار مفصل کیا ہیں )
سورہ حجرات ٤٩سے لیکر سورہ بروج ٨٥تک طوال مفصل ہے ، کیونکہ یہ سورتیں لمبی لمبی ہیں ، اور سورہ بروج ٨٥سے لیکر سورہ البینة ]لم یکن الذین کفرو [٩٨ تک اوساط مفصل ہیں اسلئے کہ یہ سورتیں اوسط درجے کے ہیں نہ زیادہ لمبی ہیں اور نہ زیادہ چھوٹی ہیں ، اور لم یکن الذین کفرو ٩٨سے لیکر آخیر قرآن سورہ الناس١١٤ تک قصار مفصل ہیں اسلئے کہ یہ سورتیں چھوٹی چھوٹی ہیں۔
ترجمہ: (٣٢٦) اور فجر کی پہلی رکعت کو دوسری رکعت پر لمبی کرے ۔
ترجمہ: ١ تاکہ لوگوں کو جماعت پانے پر اعانت ہو گی ۔
تشریح : فجر کی پہلی رکعت میں دوسری رکعت کی بنسبت لمبی قرأت کرے ، اسکا فائدہ یہ ہو گا کہ بعد میں آنے والے لو گوں کو جماعت مل جائے گی (١)اس حدیث میں اسکا ثبوت ہے ۔ عن عبد اللہ بن ابی قتادة ، عن ابیہ قال : کان رسول اللہ