Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

512 - 627
(٣٢٥)والعصر والعشاء سواء یقرأ فیہما باوساط المفصل وفی المغرب دون ذٰلک یقرأ فیہا بقصَار المفصل )  ١ والاصل فیہ کتاب عمر الی ابی موسی الاشعری ان اقرأ فی الفجروالظہر بطوال المفصل وفی العصر والعشاء باوساط المفصل وفی المغرب بقصار المفصل

لغت :   استوا : برابر ۔ دون : تھوڑا کم ۔ تحرز : بچنے کے لئے ۔ ملال : رنجیدگی ، اکتا ہٹ ۔ 
ترجمہ:   (٣٢٥)  اور عصر اور عشاء برابر ہیں ، ان دونوں میں اوساط المفصل پڑھیں ، اور مغرب میں اس سے کم اس میں قصار المفصل پڑھیں ۔
 وجہ :  عشاء میں اوساط مفصل ، اور مغرب میں قصار مفصل پڑھنے کی دلیل یہ حدیث ہے (١) ۔عن ابی ھریرة قال ما صلیت وراء احد أشبہ صلوة برسول اللہ  ۖ من فلان ....یقرأ فی المغرب بقصار المفصل ، و یقرأفی العشاء بوسط المفصل ، و یقرأ فی الصبح بطوال المفصل ۔ ( نسائی شریف ، باب تخفیف القیام و القرأة ، ص ١٣٧، نمبر ٩٨٣ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی القرأة فی صلوة العشاء ، و صلوة المغرب  ، ٦٧، نمبر٣٠٩نمبر ٣٠٨) اس حدیث مرسل میں ہے کہ فجر میں طوال مفصل پڑھے۔                                                                                               
 اور عصر میں اوساط مفصل پڑھے اسکی دلیل یہ حدیث ہے ۔ عن ابی سعید الخدری : أن النبی  ۖ کان یقرأ فی صلوة الظھر فی الرکعتین الاولیین فی کل رکعة قدر ثلاثین آیة ، و فی الاخریین قدر خمس عشرة آیة  أو قال نصف ذالک ، و فی العصر فی الرکعتین الاولیین فی کل رکعة قدر قرائة خمس عشرة آیة ، و فی الاخریین قدر نصف ذالک ۔ ( مسلم شریف ، باب القرائة فی الظھر و العصر ،١٨٥، نمبر ٤٥٢ ١٠١٥) اس حدیث میں ہے کہ عصر میں ظھر سے آدھی پندرہ آیت پڑھتے تھے ، تو یہ اوساط مفصل ہوا ۔                                                                  
ترجمہ:   ١   اور اس میں اصل ابو موسی اشعری  کو حضرت عمر  کا خط ہے ، کہ فجر میں اور ظہر میں طوال مفصل پڑھو ، اور عصر اور عشاء میں اوساط مفصل اورمغرب میں قصار مفصل پڑھو ۔
تشریح:   یہ اثر بالکل ان الفاظ کے ساتھ نہیں ہے ، اسکے قریب قریب یہ ہے ۔ قال کتب عمر  الی أبی موسی أن اقرأ فی المغرب  بقصار المفصل ، و فی العشاء بوسط المفصل ، و فی الصبح بطوال المفصل ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب ما یقرأ فی الصلوة ، ج ثانی ، ص ١٠٤ ، نمبر ٢٦٧٢ ترمذی شریف ، باب ما جاء فی القرأةفی صلوة الصبح نمبر ٣٠٦ فی الظھر و العصر ،٣٠٧فی المغرب ، نمبر ٣٠٨) ترمذی شریف یہ اثر تین بابوں میں تھوڑا تھوڑا کر کے ذکر کیا ہے ۔  (٢) اسکی تائید اس حدیث مرسل سے بھی ہو تی ہے ۔عن ابی ھریرة قال ما صلیت وراء احد أشبہ صلوة برسول اللہ  ۖ من فلان ....یقرأ فی 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter