(٣٢٥)والعصر والعشاء سواء یقرأ فیہما باوساط المفصل وفی المغرب دون ذٰلک یقرأ فیہا بقصَار المفصل ) ١ والاصل فیہ کتاب عمر الی ابی موسی الاشعری ان اقرأ فی الفجروالظہر بطوال المفصل وفی العصر والعشاء باوساط المفصل وفی المغرب بقصار المفصل
لغت : استوا : برابر ۔ دون : تھوڑا کم ۔ تحرز : بچنے کے لئے ۔ ملال : رنجیدگی ، اکتا ہٹ ۔
ترجمہ: (٣٢٥) اور عصر اور عشاء برابر ہیں ، ان دونوں میں اوساط المفصل پڑھیں ، اور مغرب میں اس سے کم اس میں قصار المفصل پڑھیں ۔
وجہ : عشاء میں اوساط مفصل ، اور مغرب میں قصار مفصل پڑھنے کی دلیل یہ حدیث ہے (١) ۔عن ابی ھریرة قال ما صلیت وراء احد أشبہ صلوة برسول اللہ ۖ من فلان ....یقرأ فی المغرب بقصار المفصل ، و یقرأفی العشاء بوسط المفصل ، و یقرأ فی الصبح بطوال المفصل ۔ ( نسائی شریف ، باب تخفیف القیام و القرأة ، ص ١٣٧، نمبر ٩٨٣ ترمذی شریف ، باب ماجاء فی القرأة فی صلوة العشاء ، و صلوة المغرب ، ٦٧، نمبر٣٠٩نمبر ٣٠٨) اس حدیث مرسل میں ہے کہ فجر میں طوال مفصل پڑھے۔
اور عصر میں اوساط مفصل پڑھے اسکی دلیل یہ حدیث ہے ۔ عن ابی سعید الخدری : أن النبی ۖ کان یقرأ فی صلوة الظھر فی الرکعتین الاولیین فی کل رکعة قدر ثلاثین آیة ، و فی الاخریین قدر خمس عشرة آیة أو قال نصف ذالک ، و فی العصر فی الرکعتین الاولیین فی کل رکعة قدر قرائة خمس عشرة آیة ، و فی الاخریین قدر نصف ذالک ۔ ( مسلم شریف ، باب القرائة فی الظھر و العصر ،١٨٥، نمبر ٤٥٢ ١٠١٥) اس حدیث میں ہے کہ عصر میں ظھر سے آدھی پندرہ آیت پڑھتے تھے ، تو یہ اوساط مفصل ہوا ۔
ترجمہ: ١ اور اس میں اصل ابو موسی اشعری کو حضرت عمر کا خط ہے ، کہ فجر میں اور ظہر میں طوال مفصل پڑھو ، اور عصر اور عشاء میں اوساط مفصل اورمغرب میں قصار مفصل پڑھو ۔
تشریح: یہ اثر بالکل ان الفاظ کے ساتھ نہیں ہے ، اسکے قریب قریب یہ ہے ۔ قال کتب عمر الی أبی موسی أن اقرأ فی المغرب بقصار المفصل ، و فی العشاء بوسط المفصل ، و فی الصبح بطوال المفصل ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب ما یقرأ فی الصلوة ، ج ثانی ، ص ١٠٤ ، نمبر ٢٦٧٢ ترمذی شریف ، باب ما جاء فی القرأةفی صلوة الصبح نمبر ٣٠٦ فی الظھر و العصر ،٣٠٧فی المغرب ، نمبر ٣٠٨) ترمذی شریف یہ اثر تین بابوں میں تھوڑا تھوڑا کر کے ذکر کیا ہے ۔ (٢) اسکی تائید اس حدیث مرسل سے بھی ہو تی ہے ۔عن ابی ھریرة قال ما صلیت وراء احد أشبہ صلوة برسول اللہ ۖ من فلان ....یقرأ فی