٢ ولان للسفر اثرافی اسقاط شطرالصلوة فلان یؤثِّرفی تخفیف القراء ة اولی ٣وہذا اذاکان علٰی عجلة من السیر وان کان فی اَمَنة وقراریقرأ فی الفجر نحو سُورة البروج وانشقت لانہ یمکنہ مراعاة السنة مع التخفیف (٣٢٣) ویقرأ فی الحضر فی الفجر فی الرکعتین باربعین اٰیة اوخمسین اٰیة سوی فاتحة الکتاب )
وجہ : (١) سفر میں مشقت ہو تی ہے ، یہی وجہ ہے کہ چار رکعت والی نماز دو رکعت ہو جاتی ہے اسلئے لمبی قرأت جوحضر میں پڑھتے ہیں وہ بھی مختصر ہو جائے گی ۔ البتہ اگر سفر میں آرام ہو اور چین ہو تو حضر والی لمبی قرأت کر سکتا ہے ۔(٢) سمعت البراء أن النبی ۖ کان فی سفر ، فقرأ فی العشاء فی احدی الرکعتین (والتین و الزیتون )( بخاری شریف ، باب الجھر فی العشاء ، ص ١٠٥ ، نمبر ٧٦٧) اس حدیث میں ہے کہ عشاء میں اوساط مفصل کے بجائے سفر کی وجہ سے چھوٹی سورت ٫ والتین و الزیتون ،پڑھی (٣) صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے ۔ عن عقبة بن عامر قال : کنت أقود برسول اللہ ۖ ناقتہ فی السفر فقال لی : یا عقبة ! ألا أعلمک خیر سورتین قرئتا ، فعلمنی (قل أعوذ برب الفلق )و (قل اعوذ برب الناس )قال : فلم یرنی سررت بھما جدا ، قال : فلما نزل لصلوة الصبح صلی بھما صلوة الصبح للناس ، فلما فرغ رسول اللہ ۖ من الصلوة التفت الی فقال : یا عقبة کیف رأیتَ۔( ابوداود شریف ، باب فی المعوذتین ، ص ٢١٨، نمبر ١٤٦٢ نسائی شریف ، کتاب الاستعاذہ ، ص ٧٤٠ ، نمبر ٥٤٣٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سفر میں فجر میں بھی چھوٹی سورت پڑھی جا سکتی ہے ۔
ترجمہ: ٢ اسلئے کہ سفر کو نماز کے حصے کے ساقط کر نے میں اثر ہے اسلئے قرأت کی تخفیف کر نے میں بدرجہ اولی اثر انداز ہو گا ۔
تشریح : یہ دلیل عقلی ہے کہ سفر کی مشقت کی وجہ سے چار رکعت والی نماز دو رکعت ہو جاتی ہے تو قرأت کی سنت بدرجہ اولی ساقط ہو جائے گی۔
ترجمہ: ٣ یہ چھوٹی سورتیں پڑھنا جب ہے کہ سفر کی جلدی ہو ، اور اگر امن اور چین میں ہو تو فجر میں سورہ بروج ، اور اذا السماء انشقت ، جیسی سورت پڑھے ، اسلئے کہ تخفیف کے ساتھ سنت کی رعایت کر نا اسکو ممکن ہے ۔
ترجمہ: (٣٢٣) اور حضر میں فجر کی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے علاوہ چالیس آیت سے پچاس آیت تک پڑھے ۔
وجہ : آدمی اپنی جگہ پر مقیم ہو تو فجر کی نماز کی دو رکعتوں میں چالیس سے لیکر پچاس آیت تک پڑھنا سنت ہے اسکی وجہ یہ حدیث ہے۔عن جابر بن سمرة : أن النبی ۖ کان یقرأ فی الفجر (ق و القرآن المجید )و کان صلوتہ بعد تخفیفا ۔ (مسلم شریف ، باب القرأة فی الصبح ،١٨٥، نمبر ٤٥٨ ١٠٢٧) اس حدیث میں ہے صبح کی نماز میں سورہ ق پڑھتے تھے ،