Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

509 - 627
٢   ولان للسفر اثرافی اسقاط شطرالصلوة فلان یؤثِّرفی تخفیف القراء ة اولی ٣وہذا اذاکان علٰی عجلة من السیر وان کان فی اَمَنة وقراریقرأ فی الفجر نحو سُورة البروج وانشقت لانہ یمکنہ مراعاة السنة مع التخفیف (٣٢٣) ویقرأ فی الحضر فی الفجر فی الرکعتین باربعین  اٰیة اوخمسین اٰیة سوی فاتحة الکتاب )

وجہ :    (١) سفر میں مشقت ہو تی ہے ، یہی وجہ ہے کہ چار رکعت والی نماز دو رکعت ہو جاتی ہے اسلئے لمبی قرأت جوحضر میں پڑھتے ہیں وہ بھی مختصر ہو جائے گی ۔ البتہ اگر سفر میں آرام ہو اور چین ہو تو حضر والی لمبی قرأت کر سکتا ہے ۔(٢) سمعت البراء أن النبی  ۖ کان فی سفر ، فقرأ   فی العشاء  فی احدی الرکعتین (والتین و الزیتون )( بخاری شریف ، باب الجھر فی العشاء ، ص ١٠٥ ، نمبر ٧٦٧) اس حدیث میں ہے کہ عشاء میں اوساط مفصل کے بجائے سفر کی وجہ سے چھوٹی سورت ٫ والتین و الزیتون ،پڑھی (٣) صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے ۔ عن عقبة بن عامر قال : کنت أقود برسول اللہ  ۖ ناقتہ فی السفر فقال لی : یا عقبة ! ألا أعلمک خیر سورتین قرئتا ، فعلمنی (قل أعوذ برب الفلق )و (قل اعوذ برب الناس )قال : فلم یرنی سررت بھما جدا ، قال : فلما نزل لصلوة الصبح صلی بھما صلوة الصبح للناس ، فلما فرغ رسول اللہ  ۖ من الصلوة التفت الی فقال : یا عقبة کیف رأیتَ۔( ابوداود شریف ، باب فی المعوذتین ، ص ٢١٨، نمبر ١٤٦٢ نسائی شریف ، کتاب الاستعاذہ ، ص ٧٤٠ ، نمبر ٥٤٣٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سفر میں فجر میں بھی چھوٹی سورت پڑھی جا سکتی ہے ۔  
ترجمہ:   ٢   اسلئے کہ سفر کو نماز کے حصے کے ساقط کر نے میں اثر ہے اسلئے قرأت کی تخفیف کر نے میں بدرجہ اولی اثر انداز ہو گا ۔
تشریح :    یہ دلیل عقلی ہے کہ سفر کی مشقت کی وجہ سے چار رکعت والی نماز دو رکعت ہو جاتی ہے تو قرأت کی سنت بدرجہ اولی ساقط ہو جائے گی۔ 
ترجمہ:  ٣   یہ چھوٹی سورتیں پڑھنا جب ہے کہ سفر کی جلدی ہو ، اور اگر امن اور چین میں ہو تو فجر میں سورہ بروج ، اور اذا السماء انشقت ، جیسی سورت پڑھے ، اسلئے کہ تخفیف کے ساتھ سنت کی رعایت کر نا اسکو ممکن ہے ۔
ترجمہ:   (٣٢٣)  اور حضر میں فجر کی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے علاوہ چالیس آیت سے پچاس آیت تک پڑھے ۔
وجہ :   آدمی اپنی جگہ پر مقیم ہو تو فجر کی نماز کی دو رکعتوں میں چالیس سے لیکر پچاس آیت تک پڑھنا سنت ہے اسکی وجہ یہ حدیث ہے۔عن جابر بن سمرة : أن النبی  ۖ کان یقرأ فی الفجر (ق    و القرآن المجید )و کان صلوتہ بعد تخفیفا ۔ (مسلم شریف ، باب القرأة فی الصبح ،١٨٥، نمبر ٤٥٨ ١٠٢٧) اس حدیث میں ہے صبح کی نماز میں سورہ  ق    پڑھتے تھے ، 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter