٣ الا ان مادون الاٰیة خارج والاٰیة لیست فی معناہ (٣٢٢) وفی السفر یقرأ بفاتحة الکتاب وایّ سورة شائ) ١ لماروی ان النبیںقرأفی صلوٰة الفجرفی سفرہ بالمعوذتین
بالاتفاق نماز نہیں ہو گی اسلئے ایک آیت سے فرض کی ادائیگی ہو جائے گی البتہ واجب کی کمی رہنے سے سجدہ سہو لازم ہو گا ۔ (٢) اس اثر میں اسکا ثبوت ہے ۔ عن جابر بن زید أنہ قرأ (مدھامتان )(آیت ٦٤ سورہ الرحمن ٥٥) ثم رکع ۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، ١٣٤ من قال : لا صلوة الا بفاتحة الکتاب ، و من قال : و شیء معھا ، ج اول ، ص ٣١٧، نمبر ٣٦٣١) اس اثر میں ہے کہ صرف چھوٹی سی آیت مدھامتان ، پڑھی اور رکوع میں چلے گئے جسکا مطلب یہ ہے کہ ایک چھوٹی آیت سے بھی فرض پورا ہو جاتا ہے ۔
ترجمہ: ٣ مگر ایک آیت سے کم یہ بالاتفاق خارج ہے ۔ اور پوری آیت آیت سے کم کے حکم میں نہیں ہے ۔
تشریح : یہ جملہ صاحبین کو جواب ہے ۔ انہوں نے استدلال فرمایا تھا آیت سے کم میں فرض کی ادائیگی نہیں ہو گی اسی طرح چھوٹی پوری آیت سے بھی فرض کی ادائیگی نہیں ہو گی ۔ تو اسکا جواب دے رہے ہیں کہ ایت سے کم کا پڑھنا حائضہ اور نفساء کے لئے جائز ہے ، اور پوری آیت انکے لئے پڑھنا جائز نہیں، اس سے معلوم ہوا کہ پوری آیت چاہے چھوٹی ہو اسکا حکم کچھ اور ہے اور پوری آیت سے کم کا حکم کچھ اور ہے ، اسلئے آیت سے کم پڑھنے سے بالاتفاق فرض کی ادائیگی نہیں ہو گی ، اور پوری آیت پڑھنے سے ہو جائے گی ۔
نوٹ: آیتوں کی قرأت کی پانچ قسمیں ہیں (١) فرض ،جس سے جواز متعلق ہے وہ امام صاحب کے نزدیک ایک آیت تامہ ہے۔ اب اگر وہ دو کلموں پر مشتمل ہو جیسے ثم نظر تب تو جائزہے،اور اگر صرف ایک کلمہ ہو جیسے مد ھامتان یا صرف ایک حرف ہو جیسے ص ، ن ، ق تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے۔اصح عدم جواز ہے (٢)واجب، قرأت فاتحہ اور قرأت سورة واجب ہیں (٣) مسنون ، وہ فجر اور ظہر میں طوال مفصل ہے۔یعنی سورۂ حجرات ٤٩سے سورۂ بروج ٨٥تک،عصر اور عشاء میں اوساط مفصل یعنی سورۂ بروج ٨٥سے سورۂ لم یکن سورہ البینہ ٩٨تک،مغرب میں قصار مفصل یعنی سورۂ زلزال ٩٩سے آخر قرآن تک١١٤(٤) مستحب، وہ فجر کی پہلی رکعت میں تیس آیتوں سے چالیس آیتوں تک اور دوسری رکعت میں بیس سے تیس آیتوں تک سورۂ فاتحہ کے علاوہ (٥) مکرو ، وہ یہ ہے کہ صرف سورۂ فاتحہ پڑھے یا فاتحہ کے ساتھ ایک آدھ آیت ملائے یا سورة پڑھے اور فاتحہ نہ پڑھے یا پہلی رکعت میںایک سورة پڑھے اور دوسری رکعت میں اس سے اوپر کی سورة پڑھے۔یہ سب صورتیں مکروہ کی ہیں۔
ترجمہ: (٣٢٢) سفر میں سورہ فاتحہ پڑھے اور جو سورت چاہے پڑھے ۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ روایت کیا ہے کہ نبی علیہ السلام نے سفر میں فجر کی نماز میں قل اعوذ برب الفلق ، اور قل اعوذ برب الناس ، پڑھی ۔