١ ویروی من اربعین الی ستین ومن ستین الٰی مائة وبکل ذٰلک ورد الاثر ٢ ووجہ التوفیق انہ یقرأ بالراغبین مائة وبالکسالی اربعین وبالاوساط ما بین خمسین الیٰ ستین، وقیل ینظرالی طول اللیالی وقصرہا والیٰ کثرة الاَشْغَال وقلتہا
اور سورہ ق میں ٤٥ آیتیں ہیں جس سے معلوم ہوا کہ سورہ فاتحہ کے علاوہ چالیس سے لیکر پچاس آیتیں پڑھنی چاہئے ، یہ سنت ہے ۔
ترجمہ: ١ اور روایت ہے کہ چالیس سے لیکر ساٹھ تک ، اور یہ بھی روایت ہے کہ ساٹھ سے لیکر سو تک ، اور ہر ایک روایت کے بارے میں حدیث ہے۔
تشریح: ایک روایت میں یہ ہے کہ چالیس سے لیکر پچاس تک پڑھے ، دوسری روایت یہ ہے کہ چالیس سے لیکر ساٹھ تک پڑھے ، اور تیسری روایت یہ ہے کہ ساٹھ سے لیکر سو تک آیت فجر کی دونوں رکعتوں میں پڑھے ۔
وجہ : چالیس آیت سے پچاس تک پڑھنے کی دلیل تو اوپر کی حدیث گزر گئی ۔ (٢) اور ساٹھ سے لیکر سو آیت تک کی حدیث یہ ہے ۔عن ابی برزة أن رسول اللہ ۖ کان یقرأ فی صلوة الغداة من الستین الی المأة ۔ (مسلم شریف ، باب القرأة فی الصبح ،١٨٥، نمبر ٤٦١ ١٠٣١) اس حدیث میں ہے کہ آپ ۖ صبح کی نماز میں ساٹھ سے لیکر سو آیتیں تک پڑھا کر تے تھے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ چالیس سے ساٹھ تک بھی پڑھنا سنت ہے ۔ (٤) اس اثر میں ہے کہ فجر میں طوال مفصل پڑھے ۔عن ابی ھریرة قال ما صلیت وراء احد أشبہ صلوة برسول اللہ ۖ من فلان .۔...یقرأ فی المغرب بقصار المفصل ، و یقرأفی العشاء بوسط المفصل ، و یقرأ فی الصبح بطوال المفصل ۔ ( نسائی شریف ، باب تخفیف القیام و القرأة ، ص ١٣٧، نمبر ٩٨٣ ترمذی شریف ،باب ماجاء فی القرأة فی صلوة الصبح ، ٦٧، نمبر ٣٠٦) اس اثر میں ہے کہ فجر میں طوال مفصل پڑھے۔
ترجمہ: ٢ سب روایتوں کے درمیان ترتیب کا طریقہ یہ ہے کہ رغبت کر نے والے کے ساتھ سو آیتیں پڑھیں ، اور سست لوگوں کے ساتھ چالیس آیتیں ، اور درمیان والوں کے ساتھ پچاس سے ساٹھ آیتیں پڑھیں ، اور فرمایا کہ یہ ترتیب بھی ہو سکتی ہے کہ لمبی رات اور چھوٹی رات کو دیکھ کر پڑھے تھے ، پھر زیادہ مشغولیت اور کم مشغولیتوں کو بھی دیکھ کرپڑھے۔
تشریح : فجر میں کتنی آیتیں پڑھے اس بارے میںچار روایتیں آگئیں اسلئے ان سبھوں میں تین توفیق اور ترتیب یہ دی گئی ہیں ۔ کہ رغبت والے لوگ ہوں تو سو آیتیں پڑھے ، اور اگر سست لوگ ہوں تو چالیس آیت پڑھے اور درمیان قسم کے لوگ ہوں تو پچاس یا ساٹھ آیت پڑھے ، اسی طرح اگر سردی کی لمبی رات ہو تو لمبی قرأت کرے اور گرمی کی چھوٹی رات ہو تو کم آیتیں پڑھے ، اسی طرح اگر مشغولیت کا زمانہ ہو تو کم قرأت کرے اور فرصت کا زمانہ ہو تو لمبی قرأت کرے ۔ یہی سب رعایت کر کے حضور ۖ نے مختلف