(321) وادني مايجزي? من القراء ة في الصلو?ة ا?ية عند ابي حنيفة وقالا ثلث ا?يات قصار اوا?ية طويلة) 1 لانہ لايسمي قاريابدونہ فاشبہ قراء ة مادون الا?ية 2 ولہ قولہ تعالي? فاقرء وا ماتسير من القرا?ن من غير فصل
واقع ہو گی ۔اور امام جعفر کے یہاںجب خود بھی نہیں سن سکا تو سری بولنا نہیں پایا گیا اور استثناء درست نہیں ہوا ، اسلئے استتثناء ]مگر ایک مہینے کے بعد [ والا جملہ بیکار گیا اور صرف ]تمکو طلاق ہے [ رہ گیا ، اسلئے اس سے فورا طلاق واقع ہو جائے گی ۔
لغت : مخافتة : آہستہ بولنا ،سری قرأت ۔صوت : آواز ۔ ادنی : کم سے کم ۔صماخ : کان ۔ نطق : بولنا ۔ استثناء : کوئی جملہ بول کر اسکو کاٹنا ۔ یا کسی عدد کو بول کر اسے کچھ کم کر دینا ، اور نکال دینے کو استثنا کہتے ہیں ۔
ترجمہ: (٣٢١) نماز میں کم سے کم قرأت جو کافی ہے وہ ایک آیت ہے امام ابو حنیفہ کے نزدیک ۔ اور صاحبین نے فرمایا کہ چھوٹی تین آیتیں ، یا لمبی ایک آیت ۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ اس سے کم میں اسکو قاری نہیںسمجھا جاتا تو ایسا ہو گیا کہ ایک آیت سے کم پڑھی ہو ۔
تشریح : نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنا اور سورت ملانا تو واجب ہے ۔ لیکن کم سے کم کتنی آیت پڑھے گا تو فرض کی آدائیگی ہو جائے گی ، اس بارے میں اختلاف ہے ۔ امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ چھوٹی ایک آیت سے بھی فرض کی ادائیگی ہو جائے گی ، اور صاحبین فرماتے ہیں کہ چھوٹی تین آیتیں ہوں ، یا ایک آیت اتنی لمبی ہو کہ چھوٹی تین آیتوں کے برابر ہو تب فرض کی ادائیگی ہو گی ۔
وجہ : (١) وہ فرماتے ہیں کہ چھوٹی سی ایک آیت پڑھنے سے یہ نہیں پتہ چلتا ہے کہ اس نے آیت پڑھی ، مثلا ٫صرف٫ الرحمن ، یا صرف٫علم القرآن ، یا صرف٫طعام الاثیم ،آیت پڑھی توصرف اتنے سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ اس نے آیت پڑھی اسلئے یا تو لمبی آیت ہو ، یا پھر چھوٹی تین آیتیں ہوں (٢) اثر میں اسکا اشارہ ہے ۔ قال عمر : لا تجزی ء صلوة لا یقرأ فیھا بفاتحة الکتاب و آیتین فصاعدا ۔( مصنف ابن ابی شیبة ، ١٣٤ من قال : لا صلوة الا بفاتحة الکتاب ، و من قال : و شیء معھا ، ج اول ، ص ٣١٧، نمبر ٣٦٢٤) یہ معلوم ہے کہ سورت ملانا واجب ہے ، اور اس اثر میں دو ہی آیتوں کو سورت ملانے کے قائم مقام کر دیا جس سے معلوم ہوا کہ دو آیت کافی ہے اور احتیاطا تین آیتیں کر دی ۔
ترجمہ: ٢ اور امام ابو حنیفہ کی دلیل اللہ تعالی کا قول (فاقرئوا ما تیسر من القرآن )آیت ٢٠ سورة المزمل ٧٣) ہے بغیر کسی تفصیل کے ۔
تشریح : آیت فأقروا ما تیسر من القرآن میں یہ کہا گیا ہے کہ جتنا آسان ہو اتنا پڑھ لینے سے فرض کی ادائیگی ہو جائے گی ، اسلئے ایک آیت پڑھنے سے بھی فرض کی ادائیگی ہو جائے گی ۔ اور ایک آیت سے کم ہو اگرچہ وہ بھی قرآن ہے لیکن اتنا پڑھنے سے