Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

507 - 627
 (321) وادني مايجزي? من  القراء ة   في الصلو?ة ا?ية عند ابي حنيفة وقالا  ثلث ا?يات قصار اوا?ية طويلة)  1   لانہ لايسمي قاريابدونہ فاشبہ قراء ة مادون الا?ية  2 ولہ قولہ تعالي? فاقرء وا ماتسير من القرا?ن من غير فصل

واقع ہو گی ۔اور امام جعفر کے یہاںجب خود بھی نہیں سن سکا تو سری بولنا نہیں پایا گیا اور استثناء درست نہیں ہوا ، اسلئے استتثناء ]مگر ایک مہینے کے بعد [ والا جملہ بیکار گیا اور صرف ]تمکو طلاق ہے [ رہ گیا ، اسلئے اس سے فورا طلاق واقع ہو جائے گی ۔ 
لغت :   مخافتة : آہستہ بولنا ،سری قرأت ۔صوت : آواز ۔ ادنی : کم سے کم ۔صماخ : کان ۔ نطق : بولنا ۔ استثناء : کوئی جملہ بول کر اسکو کاٹنا ۔ یا کسی عدد کو بول کر اسے کچھ کم کر دینا ، اور نکال دینے کو استثنا کہتے ہیں ۔ 
ترجمہ:   (٣٢١)  نماز میں کم سے کم قرأت جو کافی ہے وہ ایک آیت ہے امام ابو حنیفہ  کے نزدیک ۔ اور صاحبین  نے فرمایا کہ چھوٹی تین آیتیں ، یا لمبی  ایک آیت ۔
ترجمہ:   ١    اسلئے کہ اس سے کم میں اسکو قاری نہیںسمجھا جاتا تو ایسا ہو گیا کہ ایک آیت سے کم پڑھی ہو ۔ 
تشریح :   نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنا اور سورت ملانا تو واجب ہے ۔ لیکن کم سے کم کتنی آیت پڑھے گا تو فرض کی آدائیگی ہو جائے گی ، اس بارے میں اختلاف ہے ۔ امام ابو حنیفہ   فرماتے ہیں کہ چھوٹی ایک آیت  سے بھی فرض کی ادائیگی ہو جائے گی ، اور صاحبین فرماتے ہیں کہ چھوٹی تین آیتیں ہوں ، یا ایک آیت اتنی لمبی ہو کہ چھوٹی تین آیتوں کے برابر ہو تب فرض کی ادائیگی ہو گی ۔ 
وجہ :   (١) وہ فرماتے ہیں کہ چھوٹی سی ایک آیت پڑھنے سے یہ نہیں پتہ چلتا ہے کہ اس نے آیت پڑھی ، مثلا ٫صرف٫ الرحمن ، یا صرف٫علم القرآن ، یا صرف٫طعام الاثیم ،آیت پڑھی توصرف اتنے سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ اس نے آیت پڑھی اسلئے یا تو لمبی آیت ہو ، یا پھر چھوٹی تین آیتیں ہوں (٢) اثر میں اسکا اشارہ ہے ۔ قال عمر  : لا تجزی ء صلوة لا یقرأ فیھا بفاتحة الکتاب و آیتین فصاعدا ۔( مصنف  ابن ابی شیبة ، ١٣٤ من قال : لا صلوة الا بفاتحة الکتاب ، و من قال : و شیء معھا ، ج اول ، ص ٣١٧، نمبر ٣٦٢٤) یہ معلوم ہے کہ سورت ملانا واجب ہے ، اور اس اثر میں دو ہی آیتوں کو سورت ملانے کے قائم مقام کر دیا جس سے معلوم ہوا کہ دو آیت کافی ہے اور احتیاطا تین آیتیں کر دی ۔ 
ترجمہ:   ٢   اور امام ابو حنیفہ  کی دلیل  اللہ تعالی کا قول (فاقرئوا ما تیسر من القرآن )آیت ٢٠ سورة المزمل ٧٣)  ہے بغیر کسی تفصیل کے ۔
تشریح :   آیت فأقروا ما تیسر من القرآن میں یہ کہا گیا ہے کہ جتنا آسان ہو اتنا پڑھ لینے سے فرض کی ادائیگی ہو جائے گی ، اسلئے ایک آیت پڑھنے سے بھی فرض کی ادائیگی ہو جائے گی ۔ اور ایک آیت سے کم ہو اگرچہ وہ بھی قرآن ہے لیکن اتنا پڑھنے سے 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter