٤ وقال الکرخی ادنی الجہر ان یسمع نفسہ وادنی المخافتة تصحیح الحروف لان القراء ة فعل اللسان دون الصماخ ٥ وفی لفظ الکتاب اشارة الیٰ ہٰذا ٦ وعلیٰ ہٰذا الاصل کل مایتعلق بالنطق کالطلاق والعتاق والاستثناء وغیرذٰلک
کر کے خود کو سناتے تھے ? اسلئے يہ سر کا ادني درجہ ہوا ، پھر جہر کا ادني درجہ يہ ہو گا کہ دوسروں کو سنائے ?
ترجمہ: 4 اور حضرت کرخي نے فرمايا کہ جہر کا ادني درجہ يہ ہے کہ خود سنے ، اور سر ي کا ادني درجہ يہ ہے کہ حروف صحيح ہو جائے ? اسلئے کہ قرا?ت زبان کا فعل ہے ، کان کا فعل نہيں ہے ?
تشريح : حضرت امام کرخي فرماتے ہيں کہ جہري قرا?ت کا ادني درجہ يہ ہے کہ خود سن سکے ? اور سري قرا?ت کا ادني درجہ يہ ہے کہ جو قرا?ت کر رہے ہيں اسکے حروف صحيح نکلے ? اور اسکي وجہ يہ فرماتے ہيں کہ قرا?ت کر نا زبان کا کام ہے اسلئے زبان سے صحيح حروف نکل جائے تو سري قرا?ت ہو گئي ? کان سے سننا کوئي ضروري نہيں ہے ، کيونکہ قرا?ت کر نا کان کاکام نہيں ہے ?
ترجمہ: 5 اور متن کے لفظ ميں اسي طرف اشارہ ہے ?
تشريح : اس کتاب کے متن ميں مسئلہ نمبر 314 پر قدوري کي عبارت يہ گزري? ان شاء جھر و اسمع نفسہ ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ صاحب قدوري کے نزديک بھي جہر کا ادني درجہ يہ ہے کہ خود کو سنائے ، تو سري کا ادني درجہ يہ ہو گا کہ حروف صحيح ہو جائے ، اس تعريف سے اشارہ ہو تا ہے کہ صاحب قدوري نے جہري اور سري کي تعريف ميں امام کرخي کي موافقت کي ہے ?
ترجمہ: 6 اسي قاعدے پر ہر وہ چيز متفرع ہو گي جو بولنے سے تعلق رکھتي ہے ، جيسے ]طلاق [ہے ، ]آزاد کر نا [ہے ، ]استثناء کر نا [ہے ، اور اسکے علاوہ ?
تشريح : جہر اور سر کے بارے ميں جو دواماموں کے قاعدے بيان کئے انہيں دو قاعدوں پر ان تمام امور کي بنياد ہو گي جنکا تعلق بولنے سے ہے? مثلا] طلاق [سري بولنے سے واقع ہو تي ہے اب کسي نے اتنا آہستہ سے انت طالق کہا کہ حروف کي تصحيح ہو گئي ليکن خود بھي نہ سن سکا ، تو امام کرخي کے نزديک آہستہ بولنا پايا گيا ، اسلئے انکے يہاں طلاق واقع ہو جائے گي ? ليکن امام جعفر کے يہاںجب خود بھي نہيں سن پايا ہے تو سري بولنا نہيںپايا گيا اسلئے انکے يہاں طلاق واقع نہيں ہو گي ?
يا مثلا] غلام کو آزاد کيا[ اور اتنا آہستہ بولا کہ خود بھي نہ سن سکا تو امام کرخي کے نزديک سري بولنا پايا گيا اسلئے غلام آزاد ہو جائے گا ? اور امام ابو جعفر کے نزديک سري بولنا بھي نہيں پايا گيا اسلئے غلام آزاد نہيں ہو گا ?
]يا استثناء کيا[ ، مثلا کہا کہ تمکو طلاق ہے ، مگر ايک مہينے کے بعد ? اور ]تمکو طلاق ہے [ زور سے بولا ، اور استثنا کا جملہ ]مگر ايک مہينے کے بعد [ اتنا آہستہ بولا کہ خود بھي نہ سن سکا ،تو امام کرخي کے نزديک استثناء صحيح ہے کيونکہ سري بولنا پايا گيا ، اسلئے ايک مہينے کے بعد طلاق