Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

506 - 627
٤  وقال الکرخی ادنی الجہر ان یسمع نفسہ وادنی المخافتة تصحیح الحروف  لان القراء ة فعل اللسان دون الصماخ  ٥   وفی لفظ الکتاب اشارة الیٰ ہٰذا ٦  وعلیٰ ہٰذا الاصل کل مایتعلق  بالنطق کالطلاق والعتاق والاستثناء وغیرذٰلک

کر کے خود کو سناتے تھے ? اسلئے يہ سر کا ادني درجہ ہوا ، پھر جہر کا ادني درجہ يہ ہو گا کہ دوسروں کو سنائے ?  
ترجمہ:  4   اور حضرت کرخي  نے فرمايا کہ جہر کا ادني درجہ يہ ہے کہ خود سنے ، اور سر ي کا ادني درجہ يہ ہے کہ حروف صحيح ہو جائے ? اسلئے کہ قرا?ت زبان کا فعل ہے ، کان کا فعل نہيں ہے ? 
تشريح :   حضرت امام کرخي  فرماتے ہيں کہ جہري قرا?ت کا ادني درجہ يہ ہے کہ خود سن سکے ? اور سري قرا?ت کا ادني درجہ يہ ہے کہ جو قرا?ت کر رہے ہيں اسکے حروف صحيح  نکلے ? اور اسکي وجہ يہ فرماتے ہيں کہ قرا?ت کر نا زبان کا کام ہے اسلئے زبان سے صحيح حروف نکل جائے تو سري قرا?ت ہو گئي ? کان سے سننا کوئي ضروري نہيں ہے ، کيونکہ قرا?ت کر نا کان کاکام نہيں ہے ?
ترجمہ:   5   اور متن کے  لفظ ميں اسي طرف اشارہ ہے ? 
تشريح :    اس کتاب کے متن ميں مسئلہ نمبر 314  پر قدوري کي عبارت يہ گزري? ان شاء جھر و اسمع نفسہ ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ صاحب قدوري کے نزديک بھي جہر کا ادني درجہ يہ ہے کہ خود کو سنائے ، تو سري کا ادني درجہ يہ ہو گا کہ حروف صحيح ہو جائے ، اس تعريف سے  اشارہ ہو تا ہے کہ صاحب قدوري نے جہري اور سري کي تعريف ميں امام کرخي  کي موافقت کي ہے ? 
ترجمہ:   6   اسي قاعدے پر ہر وہ چيز متفرع ہو گي جو بولنے سے تعلق رکھتي ہے ، جيسے ]طلاق [ہے ، ]آزاد کر نا [ہے ، ]استثناء کر نا [ہے ، اور اسکے علاوہ ?
 تشريح :   جہر اور سر کے بارے ميں جو دواماموں کے قاعدے بيان کئے انہيں دو قاعدوں پر ان تمام امور کي بنياد ہو گي جنکا تعلق بولنے سے ہے? مثلا] طلاق [سري بولنے سے واقع ہو تي ہے اب کسي نے اتنا آہستہ سے انت طالق کہا کہ حروف کي تصحيح ہو گئي ليکن خود بھي نہ سن سکا ، تو امام کرخي  کے نزديک آہستہ بولنا پايا گيا ، اسلئے انکے يہاں طلاق  واقع ہو جائے گي ? ليکن امام جعفر  کے يہاںجب خود بھي نہيں سن پايا ہے تو سري بولنا نہيںپايا گيا اسلئے انکے يہاں طلاق واقع نہيں ہو گي ? 
يا مثلا] غلام کو آزاد کيا[ اور اتنا آہستہ بولا کہ خود بھي نہ سن سکا تو امام کرخي کے نزديک سري بولنا پايا گيا اسلئے غلام آزاد ہو جائے گا ? اور امام ابو جعفر  کے نزديک سري بولنا بھي نہيں پايا گيا اسلئے غلام آزاد نہيں ہو گا ? 
]يا استثناء کيا[ ، مثلا کہا کہ تمکو طلاق ہے ، مگر ايک مہينے کے بعد ? اور ]تمکو طلاق ہے [ زور سے بولا ، اور استثنا کا جملہ ]مگر ايک مہينے کے بعد [ اتنا آہستہ بولا کہ خود بھي نہ سن سکا ،تو امام کرخي  کے نزديک استثناء صحيح ہے کيونکہ سري بولنا پايا گيا ، اسلئے ايک مہينے کے بعد طلاق 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter