Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

505 - 627
٢ لان الجمع بین الجہروالمخافتة فی رکعة واحدة شنیع وتغیر النفل وہو الفاتحة اولی٣ ثم المخافتة ان یُسْمِع نفسَہ والجہر ان یُسمع غَیرہ وہٰذا عند الفقیہ ابی جعفر الہندوانی لان مجرد حرکة اللسان لایسمی قراء ة بدون الصوت

ہے کہ حضرت عمر  نے دوسری دو رکعتوں میںفاتحہ دو مرتبہ پڑھی اور سورت بھی دو مرتبہ پڑھی ، اسکا مطلب یہ ہے کہ زور سے قرأت کی تب ہی تو راوی نے سنی ہو گی !اس سے ظاہر ہوا کہ فاتحہ اور سورت دونوں کو جہری پڑھے گا ۔
ترجمہ:   ٢   اسلئے کہ ایک ہی رکعت میں  جہری اور پوشیدگی کو جمع کر نا اچھا نہیں ہے ، اور فاتحہ جو نفل ہے اسکو بدل کر جہر کر نا بہتر ہے ۔ 
تشریح:   یہ دلیل عقلی ہے ۔کہ دوسری دو رکعتوں میں سری فاتحہ پڑھنا ہمارے یہاں مستحب ہے ۔ اور سورت کو جہری پڑھنا واجب تھا ، اسلئے اسکی قضا بھی جہری ہی کرنی چاہئے ، اسلئے جب سورت جہری پڑھیں گے تو فاتحہ جو مستحب ہے اسکو سری سے بدل کر جہری کر نا اولی ہو گا ، کیونکہ مستحب کو تبدیل کر نا  واجب کو تبدیل کر نے کی بنسبت آسان ہے ۔  اسلئے فاتحہ ہی کو سری سے جہری کی طرف تبدیل کر دیں ، اور دونوں کو جہری پڑھیں ۔ اور اگر ایک ہی رکعت میں فاتحہ کو سری پڑھیں اور سورت کو جہری پڑھیں تو یہ شنیع اوربرا لگتا ہے اسلئے دونوں کو جہری ہی پڑھیں ۔

(جہر اور سر کی تعریف )
ترجمہ:   ٣    پھرسری قرأت یہ ہے کہ خود سنے ، اور جہری یہ ہے کہ دوسرے کو سنائے ۔ اور یہ فقیہ ابو جعفر ھندوانی کے نزدیک ہے ۔ اسلئے کہ صرف زبان کی حرکت بغیر آواز کے اسکو قرأت کا نام نہیں دیا جا سکتا ۔ 
تشریح :   حضرت ابو جعفر ھندوانی  کے نزدیک سری قرأت اسکو کہیں گے کہ اتنا آہستہ ہو کہ خود سنے ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ اس سے کم میں تو صرف زبان کی حرکت ہو گی اور آواز نہیں نکلے گی ، عرف میں صرف زبان کی حرکت کو قرأت نہیں کہتے ، اسلئے خود سننے کو سری قرأت کہیں گے ۔
اور جہری قرأت اتنی زور سے ہو کہ دوسرے بھی سن لیں ۔کیونکہ دوسرے کے سننے کو جہر کہتے ہیں ۔ 
وجہ :   اس حدیث کے اشارے سے انکا استدلال ہے ۔ سألنا خبابا ، أکان النبی  ۖ یقرأ فی الظھر و العصر ؟ قال : نعم قلنا : بأی شیء کنتم تعرفون ذالک ؟ قال : باضطراب لحیتہ ۔ ( بخاری شریف ، باب القرأة فی الظھر و العصر ، ص ١٠٥ ، نمبر ٧٦٠) اس حدیث میں ہے کہ سری قرأت کر تے ہوئے داڑھی ہلتی تھی ، جس کے اشارے سے معلوم ہوا کہ قرأت 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter