٢ لان الجمع بین الجہروالمخافتة فی رکعة واحدة شنیع وتغیر النفل وہو الفاتحة اولی٣ ثم المخافتة ان یُسْمِع نفسَہ والجہر ان یُسمع غَیرہ وہٰذا عند الفقیہ ابی جعفر الہندوانی لان مجرد حرکة اللسان لایسمی قراء ة بدون الصوت
ہے کہ حضرت عمر نے دوسری دو رکعتوں میںفاتحہ دو مرتبہ پڑھی اور سورت بھی دو مرتبہ پڑھی ، اسکا مطلب یہ ہے کہ زور سے قرأت کی تب ہی تو راوی نے سنی ہو گی !اس سے ظاہر ہوا کہ فاتحہ اور سورت دونوں کو جہری پڑھے گا ۔
ترجمہ: ٢ اسلئے کہ ایک ہی رکعت میں جہری اور پوشیدگی کو جمع کر نا اچھا نہیں ہے ، اور فاتحہ جو نفل ہے اسکو بدل کر جہر کر نا بہتر ہے ۔
تشریح: یہ دلیل عقلی ہے ۔کہ دوسری دو رکعتوں میں سری فاتحہ پڑھنا ہمارے یہاں مستحب ہے ۔ اور سورت کو جہری پڑھنا واجب تھا ، اسلئے اسکی قضا بھی جہری ہی کرنی چاہئے ، اسلئے جب سورت جہری پڑھیں گے تو فاتحہ جو مستحب ہے اسکو سری سے بدل کر جہری کر نا اولی ہو گا ، کیونکہ مستحب کو تبدیل کر نا واجب کو تبدیل کر نے کی بنسبت آسان ہے ۔ اسلئے فاتحہ ہی کو سری سے جہری کی طرف تبدیل کر دیں ، اور دونوں کو جہری پڑھیں ۔ اور اگر ایک ہی رکعت میں فاتحہ کو سری پڑھیں اور سورت کو جہری پڑھیں تو یہ شنیع اوربرا لگتا ہے اسلئے دونوں کو جہری ہی پڑھیں ۔
(جہر اور سر کی تعریف )
ترجمہ: ٣ پھرسری قرأت یہ ہے کہ خود سنے ، اور جہری یہ ہے کہ دوسرے کو سنائے ۔ اور یہ فقیہ ابو جعفر ھندوانی کے نزدیک ہے ۔ اسلئے کہ صرف زبان کی حرکت بغیر آواز کے اسکو قرأت کا نام نہیں دیا جا سکتا ۔
تشریح : حضرت ابو جعفر ھندوانی کے نزدیک سری قرأت اسکو کہیں گے کہ اتنا آہستہ ہو کہ خود سنے ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ اس سے کم میں تو صرف زبان کی حرکت ہو گی اور آواز نہیں نکلے گی ، عرف میں صرف زبان کی حرکت کو قرأت نہیں کہتے ، اسلئے خود سننے کو سری قرأت کہیں گے ۔
اور جہری قرأت اتنی زور سے ہو کہ دوسرے بھی سن لیں ۔کیونکہ دوسرے کے سننے کو جہر کہتے ہیں ۔
وجہ : اس حدیث کے اشارے سے انکا استدلال ہے ۔ سألنا خبابا ، أکان النبی ۖ یقرأ فی الظھر و العصر ؟ قال : نعم قلنا : بأی شیء کنتم تعرفون ذالک ؟ قال : باضطراب لحیتہ ۔ ( بخاری شریف ، باب القرأة فی الظھر و العصر ، ص ١٠٥ ، نمبر ٧٦٠) اس حدیث میں ہے کہ سری قرأت کر تے ہوئے داڑھی ہلتی تھی ، جس کے اشارے سے معلوم ہوا کہ قرأت