(٣٢٠)ویجہر بہما) ١ ہو الصحیح
وجہ: حضرت علی کے قول میں ہے کہ دوسری دو رکعتوں میں ضرور پڑھے ، اسلئے قضا کر نا واجب ہے ۔ اثر یہ ہے ۔ عن علی قال : اذا نسی الرجل أن یقرأ فی الرکعتین الاولیین من الظھر ، و العصر ، و العشاء فلیقرأ فی الرکعتین الاخریین و قد اجزأ عنہ ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب من نسی القرأت ، ج ثانی ، ص ١٢٣، نمبر ٢٧٥١ نمر ٢٧٥٦مصنف ابن ابی شیبة ، ١٩١ من کان یقول : اذا نسی القرأة فی الاولیین قرأفی الاخریین، ج اول ، ص ٣٥٩، نمبر ٤١٢٣) اس اثر میں ہے ٫ فلیقرأ فی الرکعتین الاخریین ، جس سے معلوم ہوا کہ دوسری دو رکعتوں میں ضرور پڑھے ۔
لیکن اصل یعنی مبسوط کی عبارت میں ٫احب ان یقضیھما ، ہے یعنی مستحب ہے کہ دوسری دو رکعتوں میں اسکو قضا کرے ۔(١)اور اسکی وجہ یہ فرماتے ہیں کہ یہاں سورت اگر چہ فاتحہ کے بعد ہے ، لیکن پہلی دورکعت کے فاتحہ کے بعد نہیں ہے ، بلکہ دوسری دو رکعتوں میں جو فاتحہ پڑھنا مستحب ہے اسکے بعد سورت کا ملانا ہوا ، حالانکہ مشروع یہ ہے کہ پہلی دورکعتوں میں فاتحہ کے فورا بعد سورت ملائے ، اسلئے چونکہ پورے طور پر ترتیب پر عمل نہیںکر سکتے اسلئے سورت کی قضا کر نا واجب نہیں مستحب ہوگی ۔ (٢) حضرت عمر کے اس قول میں ہے کہ انہوں نے دہرائی ، جس سے استحباب ثابت ہو تا ہے اسلئے مبسوط کی عبارت میں لوٹانا مستحب ہے ۔ اثر یہ ہے ۔ عن عبد اللہ بن حنظلة بن الراھب قال : صلی بنا عمر بن الخطاب فنسی أن یقرأ فی الرکعة الاولی فلما قام فی الرکعة الثانیة قرأ بفاتحة الکتاب مرتین و سورتین ، فلما قضی الصلاة سجد سجدتین ۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، ١٩١ من کان یقول : اذا نسی القرأة فی الاولیین قرأفی الاخریین، ج اول ، ص ٣٥٩، نمبر٤١٢٢ مصنف عبد الرزاق ، باب من نسی القرأت ، ج ثانی ، ص ١٢٣، نمبر ٢٧٥١نمبر ٢٧٥٦)اس اثر میں ہے کہ حضرت عمر نے دہرائی جس سے مستحب ثابت ہو تا ہے ۔
ترجمہ: (٣٢٠) اور فاتحہ اور سورت دونوں کو جہری پڑھے ۔
ترجمہ: ١ صحیح روایت یہی ہے ۔
تشریح : عشاء کی دوسری دو رکعتوں میں پہلی دو رکعتوں کی چھوٹی ہو ئی سورت کی قضا کرے گا ، تو سورہ فاتحہ بھی زور سے پڑھے گا اور سورت بھی زور سے پڑھے گا ۔ صحیح روایت یہی ہے ۔ دوسری روایت یہ بھی ہے کہ دونوں کو سری پڑھے گا ۔ اور تیسری روایت یہ ہے کہ فاتحہ کو سری پڑھے گا اور سورت کو جہری پڑھے گا ۔ لیکن صحیح روایت پہلی ہے ۔
وجہ : (١)عن عبد اللہ بن حنظلة بن الراھب قال : صلی بنا عمر بن الخطاب فنسی أن یقرأ فی الرکعة الاولی فلماقام فی الرکعة الثانیة قرأ بفاتحة الکتاب مرتین و سورتین ، فلما قضی الصلاة سجد سجدتین۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، ١٩١ من کان یقول : اذا نسی القرأة فی الاولیین قرأفی الاخریین، ج اول ، ص ٣٥٩، نمبر٤١٢٢) اس اثر میں