Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

504 - 627
(٣٢٠)ویجہر بہما)  ١   ہو الصحیح 
 
وجہ:   حضرت علی  کے قول میں ہے کہ دوسری دو رکعتوں میں ضرور پڑھے ، اسلئے قضا کر نا واجب ہے ۔ اثر یہ ہے ۔ عن علی  قال : اذا نسی الرجل أن یقرأ فی الرکعتین الاولیین من الظھر ، و العصر ، و العشاء فلیقرأ فی الرکعتین الاخریین و قد اجزأ عنہ ۔ (  مصنف عبد الرزاق ، باب من نسی القرأت ، ج ثانی ، ص ١٢٣، نمبر ٢٧٥١ نمر ٢٧٥٦مصنف ابن ابی شیبة ، ١٩١ من کان یقول : اذا نسی  القرأة فی الاولیین قرأفی الاخریین، ج اول ، ص ٣٥٩، نمبر ٤١٢٣)  اس اثر میں ہے ٫ فلیقرأ فی الرکعتین الاخریین ، جس سے معلوم ہوا کہ دوسری دو رکعتوں میں ضرور پڑھے ۔
لیکن اصل یعنی مبسوط کی عبارت میں ٫احب ان یقضیھما ،  ہے یعنی مستحب ہے کہ دوسری دو رکعتوں میں اسکو قضا کرے ۔(١)اور اسکی وجہ یہ فرماتے ہیں کہ یہاں سورت اگر چہ فاتحہ کے بعد ہے ، لیکن پہلی دورکعت کے فاتحہ کے بعد نہیں ہے ، بلکہ دوسری دو رکعتوں میں جو فاتحہ پڑھنا مستحب ہے اسکے بعد سورت کا ملانا ہوا ، حالانکہ مشروع یہ ہے کہ پہلی دورکعتوں میں فاتحہ کے فورا بعد سورت ملائے ، اسلئے چونکہ پورے طور پر ترتیب پر عمل نہیںکر سکتے اسلئے سورت کی قضا کر نا واجب نہیں مستحب ہوگی ۔  (٢) حضرت عمر کے اس قول میں ہے کہ انہوں نے دہرائی ، جس سے استحباب ثابت ہو تا ہے اسلئے مبسوط کی عبارت میں لوٹانا مستحب ہے ۔ اثر یہ ہے ۔  عن عبد اللہ بن حنظلة بن الراھب قال : صلی بنا عمر بن الخطاب فنسی أن یقرأ فی الرکعة الاولی فلما قام فی الرکعة الثانیة قرأ بفاتحة الکتاب مرتین و سورتین ، فلما قضی الصلاة سجد سجدتین ۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، ١٩١ من کان یقول : اذا نسی  القرأة فی الاولیین قرأفی الاخریین، ج اول ، ص ٣٥٩، نمبر٤١٢٢   مصنف عبد الرزاق ، باب من نسی القرأت ، ج ثانی ، ص ١٢٣، نمبر ٢٧٥١نمبر ٢٧٥٦)اس اثر میں ہے کہ حضرت عمر نے دہرائی جس سے مستحب ثابت ہو تا ہے ۔
ترجمہ:   (٣٢٠)  اور فاتحہ اور سورت دونوں کو جہری پڑھے ۔ 
ترجمہ:   ١   صحیح روایت یہی ہے ۔
تشریح :   عشاء کی دوسری دو رکعتوں میں پہلی دو رکعتوں کی چھوٹی ہو ئی سورت کی قضا کرے گا ، تو سورہ فاتحہ بھی زور سے پڑھے گا اور سورت بھی زور سے پڑھے گا ۔ صحیح روایت یہی ہے ۔  دوسری روایت یہ بھی ہے کہ دونوں کو سری پڑھے گا ۔ اور تیسری روایت یہ ہے کہ فاتحہ کو سری پڑھے گا اور سورت کو جہری پڑھے گا  ۔ لیکن صحیح روایت پہلی ہے ۔ 
وجہ :   (١)عن عبد اللہ بن حنظلة بن الراھب قال : صلی بنا عمر بن الخطاب فنسی أن یقرأ فی الرکعة الاولی فلماقام فی الرکعة الثانیة قرأ بفاتحة الکتاب مرتین و سورتین ، فلما قضی الصلاة سجد سجدتین۔  ( مصنف ابن ابی شیبة ، ١٩١ من کان یقول : اذا نسی  القرأة فی الاولیین قرأفی الاخریین، ج اول ، ص ٣٥٩، نمبر٤١٢٢)  اس اثر میں 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter