٣ ولہما وہوالفرق بین الوجہین ان قراء ة الفاتحة شرعت علیٰ وجہ یترتب علیہا السورة فلوقضاہا فی الاخریین تترتب الفاتحة علی السورةوہٰذا خلاف الموضوع ٤ بخلاف ما اذا ترک السورة لانہ امکن قضاؤھا علی الوجہ المشروع ٥ ثم ذکرہہنا مایدل علی الوجوب وفی الاصل بلفظة الاستحباب لانہا ان کانت مؤخرة فغیر موصولة بالفاتحة فلم یمکن مراعاة موضوعہا من کل وجہ
دے انکو دوسری دو رکعتوںمیں قضا نہیں کرے گا ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ اپنی جگہ سے فوت ہو گیا اسلئے جب تک حدیث سے قضا کرنے کا ثبوت نہ ہو قضا واجب نہیں ہو گی ، اسلئے انکو دوسری دو رکعتوں میںقضا نہیں کریں گے ۔
ترجمہ: ٣ اور امام ابو حنیفہ اور امام محمد کی دلیل یہ ہے ۔ اور دونوں باتوں میں فرق کی وجہ بھی یہی ہے کہ فاتحہ کی قرأت اس طرح مشروع ہوئی ہے کہ اسکے بعد سورت کا ملانا ہو ، پس اگر فاتحہ کو دوسری دو رکعتوں میں قضا کرے تو فاتحہ سورت کے بعد ہو جائے گا۔ اور یہ موضوع کے خلاف ہے ۔
تشریح : طرفین کی دلیل اوپر گزر گئی کہ مشروع یہ ہے کہ سورہ فاتحہ پہلے ہو اور سورت کا ملانا اسکے بعد ہو ، پس اگر فاتحہ کو دوسری دو رکعتوں میں قضا کریں تو فاتحہ سورت کے بعد ہو جائے گا ، اور یہ خلاف مشروع ہے اسلئے فاتحہ چھوٹ جائے تو دوسری دو رکعتوں میں قضا نہیں کرے گا ۔
ترجم: ٤ بخلاف جبکہ سورت چھوڑ دے ، اسلئے کہ سورت کا قضا کر نا ممکن ہے مشروع طریقے پر ۔
تشریح : عشاء کی پہلی دورکعتوں میںفاتحہ تو پڑھی لیکن سورت ملانا بھول گیا ۔ تو دوسری دو رکعتوں میں قضا کرے گا ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ پہلے فاتحہ پڑھ چکا ہے اسلئے اب سورت ملائے گا تو سورت کا ملانا فاتحہ کے بعد ہو گا ، اور یہی مشروع ہے کہ سورت کا ملانا فاتحہ کے بعد ہو ۔
ترجمہ: ٥ پھر یہاں ]جامع صغیر میں [دلالت کر تا ہے وجوب پر ، اور اصل ]مبسوط[ میں استحباب کے لفظ کے ساتھ ہے ، اسلئے کہ سورت اگر چہ موخر ہے لیکن پہلے فاتحہ کے ساتھ متصل نہیں ہے ، اسلئے ہر اعتبار سے ترتیب کی رعایت ممکن نہیں ہو ئی ۔
تشریح : فصل فی القرأت میں اکثر عبارت جامع صغیر کی ہے ، اسلئے فرما رہے ہیں کہ یہاں یعنی جامع صغیر کی عبارت سے پتہ چلتا ہے کہ پہلی دو رکعتوں میں سورت ملانا چھوٹ جائے تو دوسری دو رکعتوں میں سورت کا ملانا واجب ہے ۔ جامع صغیر کی عبارت یہ ہے ۔ رجل قرأ فی العشاء فی الاولیین سورة و لم یقرأ بفاتحة الکتاب لم یعد فی الآخرین ، و ان قرأ فی الاولیین بفاتحةالکتاب و لم یزد علیھا ، قرأ فی الآخرین بفاتحة الکتاب و سورة و جھر ۔ ( جامع صغیر ، باب فی القرأة فی الصلوة ، ٩٦) اس عبارت میں ٫قرأ فی الآخرین ، سے اشارہ ملتا ہے کہ سورت کی قضا ضروری ہے ۔