Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

503 - 627
٣ ولہما وہوالفرق بین الوجہین ان قراء ة الفاتحة شرعت علیٰ وجہ یترتب علیہا السورة فلوقضاہا فی الاخریین تترتب الفاتحة علی السورةوہٰذا خلاف  الموضوع ٤  بخلاف ما اذا ترک السورة لانہ امکن قضاؤھا علی الوجہ المشروع ٥  ثم ذکرہہنا مایدل علی الوجوب وفی الاصل بلفظة الاستحباب لانہا ان کانت مؤخرة فغیر موصولة بالفاتحة فلم یمکن مراعاة موضوعہا من کل وجہ

دے انکو دوسری دو رکعتوںمیں قضا نہیں کرے گا ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ اپنی جگہ سے فوت ہو گیا اسلئے جب تک حدیث سے قضا کرنے  کا ثبوت نہ ہو قضا واجب نہیں ہو گی ، اسلئے انکو دوسری دو رکعتوں میںقضا نہیں کریں گے ۔
ترجمہ:  ٣   اور امام ابو حنیفہ  اور امام محمد  کی دلیل یہ ہے ۔ اور دونوں باتوں میں فرق کی وجہ بھی یہی ہے کہ فاتحہ کی قرأت اس طرح مشروع ہوئی ہے کہ اسکے بعد سورت کا ملانا ہو ، پس اگر فاتحہ کو دوسری دو رکعتوں میں قضا کرے تو فاتحہ سورت کے بعد ہو جائے گا۔  اور یہ موضوع کے خلاف ہے ۔
تشریح :   طرفین کی دلیل اوپر گزر گئی کہ مشروع یہ ہے کہ سورہ فاتحہ پہلے ہو اور سورت کا ملانا اسکے بعد ہو ، پس اگر فاتحہ کو دوسری دو رکعتوں میں قضا کریں تو فاتحہ سورت کے بعد ہو جائے گا ، اور یہ خلاف مشروع ہے اسلئے فاتحہ چھوٹ جائے تو دوسری دو رکعتوں میں قضا نہیں کرے گا ۔
ترجم:  ٤   بخلاف جبکہ سورت چھوڑ دے ، اسلئے کہ سورت کا قضا کر نا ممکن ہے مشروع طریقے پر ۔ 
تشریح :   عشاء کی پہلی دورکعتوں میںفاتحہ تو پڑھی لیکن سورت ملانا بھول گیا ۔ تو دوسری دو رکعتوں میں قضا کرے گا ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ پہلے فاتحہ پڑھ چکا ہے اسلئے اب سورت ملائے گا تو سورت کا ملانا فاتحہ کے بعد ہو گا ، اور یہی مشروع ہے کہ سورت کا ملانا فاتحہ کے بعد ہو ۔ 
ترجمہ:  ٥   پھر یہاں ]جامع صغیر میں [دلالت کر تا ہے وجوب پر ، اور اصل ]مبسوط[ میں استحباب کے لفظ کے ساتھ ہے ، اسلئے کہ سورت اگر چہ موخر ہے لیکن پہلے فاتحہ کے ساتھ متصل نہیں ہے ، اسلئے ہر اعتبار سے ترتیب کی رعایت ممکن نہیں ہو ئی  ۔
تشریح :    فصل فی القرأت میں اکثر عبارت جامع صغیر کی ہے ، اسلئے فرما رہے ہیں کہ یہاں یعنی جامع صغیر کی عبارت سے پتہ چلتا ہے کہ پہلی  دو رکعتوں میں سورت ملانا چھوٹ جائے تو دوسری دو رکعتوں میں سورت کا ملانا واجب ہے ۔ جامع صغیر کی عبارت یہ ہے ۔ رجل قرأ فی العشاء فی الاولیین سورة و لم یقرأ بفاتحة الکتاب لم یعد  فی الآخرین  ، و ان قرأ فی الاولیین بفاتحةالکتاب و لم یزد علیھا ، قرأ فی الآخرین بفاتحة الکتاب و سورة و جھر ۔ ( جامع صغیر ، باب فی القرأة فی الصلوة ، ٩٦)  اس عبارت میں ٫قرأ فی الآخرین ، سے اشارہ ملتا ہے کہ سورت کی قضا ضروری ہے ۔
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter