الاخریین الفاتحة والسورة وجہر) ١ وہذا عندابی حنفیة ومحمد ٢ وقال ابویوسف لایقضی واحدة منہمالان الواجب اذافات عن وقتہ لایقضی الابدلیل
ترجمہ: ١ یہ امام ابو حنیفہ اور امام محمد کے نزدیک ہے ۔
تشریح: کسی نے عشا ء کی پہلی دو رکعتوں میںسورت تو ملا یا لیکن سورہ فاتحہ نہیں پڑھی تو دوسری دو رکعتوں میں اس سورہ فاتحہ کی قضا نہیں کرے گا۔ البتہ استحبابی طور پر حنفیہ کے نزدیک سورہ فاتحہ پڑھنے کا حکم ہے وہ پڑھ سکتا ہے ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ مشروع طریقہ یہ ہے کہ پہلے سور ہ فاتحہ ہو پھر سورہ ملائی جائے ، اور دوسری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ قضا کر نے سے صورت یہ ہو جائے گی کہ پہلے سورت ہو گی اور بعد میںسورہ فاتحہ ہو گی ، اس صورت میں سورت ملانے کی ترتیب الٹ جائے گی ۔ اسلئے بعد میں فاتحہ کی قضا نہ کرے۔ (٢) اسکے لئے اثر یہ ہے ۔ عن الحسن فی رجل قرأ : ( قل ھو اللہ أحد ) و نسی٫ فاتحة الکتاب، قال : یجزئہ ۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، ١٧٢،ما قالو فیہ اذا نسی أن یقرأ بالحمد ، ج اول ، ص ٣٤٨ ، نمبر ٤٠٠٥) اس اثر میں ہے کہ فاتحہ بھول جائے تو نماز ہو جائے گی ۔
اور اگر فاتحہ تو پہلی دو رکعتوں میں پڑھی ، لیکن سورت نہیں ملائی تو دوسری دو رکعتوں میں سورت ملا سکتا ہے ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ پہلی دو رکعتوں میںفاتحہ ہو گئی اور اسکے بعد سورت کا ملانا ہوا ، تو مشروع ترتیب باقی رہی ، اسلئے یہ جائز ہو گا ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دوسری دو رکعتوں میں استحبابی طور پر سورہ فاتحہ پڑھے اور اسکے بعد قضا کے طور پر سورت ملائے ، تو فاتحہ کے بعد سورت کا ملانا ہوا جو مشروع ہے۔ ا ور صحیح ہو گا ۔
وجہ : (١) اثر میں ہے ۔ عن عبد اللہ بن حنظلة بن الراھب قال : صلی بنا عمر بن الخطاب فنسی أن یقرأ فی الرکعة الاولی فلما قام فی الرکعة الثانیة قرأ بفاتحة الکتاب مرتین و سورتین ، فلما قضی الصلاة سجد سجدتین ۔(ابن ابی شیبة ، نمبر ٤١٢٢) (٢) عن علی قال : اذا نسی الرجل أن یقرأ فی الرکعتین الاولیین من الظھر ، و العصر ، و العشاء فلیقرأ فی الرکعتین الاخریین و قد اجزأ عنہ ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب من نسی القرأت ، ج ثانی ، ص ١٢٣، نمبر ٢٧٥١ نمبر ٢٧٥٦مصنف ابن ابی شیبة ، ١٩١ من کان یقول : اذا نسی القرأة فی الاولیین قرأفی الاخریین، ج اول ، ص ٣٥٩، نمبر ٤١٢٣) ان دونوں اثروں میں ہے کہ پہلی میں بھول جائے تو دوسری رکعتوں میںقضا کرے ۔
ترجمہ: ٢ امام ابو یوسف نے فرمایا کہ سورت اور سورہ فاتحہ کچھ بھی نہیں ملائے گا ۔ اسلئے کہ واجب اپنے وقت سے فوت ہو جائے تو قضاکی دلیل کے بغیر قضا نہیں کیا جاتا ۔
تشریح : حضرت امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں چاہے سورہ فاتحہ چھوڑ دے ، یا سورت ملانا چھوڑ