Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

502 - 627
الاخریین الفاتحة والسورة وجہر)  ١   وہذا عندابی حنفیة ومحمد ٢ وقال ابویوسف لایقضی واحدة منہمالان الواجب اذافات عن وقتہ لایقضی الابدلیل

ترجمہ:   ١   یہ امام ابو حنیفہ  اور امام محمد  کے نزدیک ہے ۔ 
تشریح:  کسی نے عشا ء کی پہلی دو رکعتوں میںسورت تو ملا یا لیکن سورہ فاتحہ نہیں پڑھی تو دوسری دو رکعتوں میں اس سورہ فاتحہ کی قضا نہیں کرے گا۔ البتہ استحبابی طور پر حنفیہ کے نزدیک سورہ فاتحہ پڑھنے کا حکم ہے وہ پڑھ سکتا ہے  ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ مشروع طریقہ یہ ہے کہ پہلے سور ہ فاتحہ ہو پھر سورہ ملائی جائے ، اور دوسری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ قضا کر نے سے صورت یہ ہو جائے گی کہ پہلے  سورت ہو گی اور بعد میںسورہ فاتحہ ہو گی ، اس صورت میں سورت ملانے کی ترتیب الٹ جائے گی ۔ اسلئے بعد میں فاتحہ کی قضا نہ کرے۔  (٢) اسکے لئے اثر یہ ہے ۔ عن الحسن فی  رجل قرأ : (  قل ھو اللہ أحد )  و نسی٫ فاتحة الکتاب، قال : یجزئہ ۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، ١٧٢،ما قالو فیہ اذا نسی أن یقرأ بالحمد ، ج اول ، ص ٣٤٨ ، نمبر ٤٠٠٥) اس اثر میں ہے کہ فاتحہ بھول جائے تو نماز ہو جائے گی ۔   
اور اگر فاتحہ تو پہلی دو رکعتوں میں پڑھی ، لیکن سورت نہیں ملائی تو دوسری دو رکعتوں میں سورت ملا سکتا ہے ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ پہلی دو رکعتوں میںفاتحہ ہو گئی اور اسکے بعد سورت کا ملانا ہوا ، تو مشروع ترتیب باقی رہی  ، اسلئے یہ جائز ہو گا ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دوسری دو رکعتوں میں استحبابی طور پر سورہ فاتحہ پڑھے اور اسکے بعد قضا کے طور پر سورت ملائے ، تو فاتحہ کے بعد سورت کا ملانا ہوا جو مشروع ہے۔ ا ور صحیح ہو گا ۔  
وجہ :   (١) اثر میں ہے ۔ عن عبد اللہ بن حنظلة بن الراھب قال : صلی بنا عمر بن الخطاب فنسی أن یقرأ فی الرکعة الاولی فلما قام فی الرکعة الثانیة قرأ بفاتحة الکتاب مرتین و سورتین ، فلما قضی الصلاة سجد سجدتین ۔(ابن ابی شیبة ، نمبر ٤١٢٢)  (٢) عن علی  قال : اذا نسی الرجل أن یقرأ فی الرکعتین الاولیین من الظھر ، و العصر ، و العشاء فلیقرأ فی الرکعتین الاخریین و قد اجزأ عنہ ۔ (  مصنف عبد الرزاق ، باب من نسی القرأت ، ج ثانی ، ص ١٢٣، نمبر ٢٧٥١ نمبر ٢٧٥٦مصنف ابن ابی شیبة ، ١٩١ من کان یقول : اذا نسی  القرأة فی الاولیین قرأفی الاخریین، ج اول ، ص ٣٥٩، نمبر ٤١٢٣)  ان دونوں اثروں میں ہے کہ پہلی میں بھول جائے تو دوسری رکعتوں میںقضا کرے ۔ 
ترجمہ:   ٢   امام ابو یوسف  نے فرمایا کہ سورت اور سورہ فاتحہ کچھ بھی نہیں ملائے گا ۔ اسلئے کہ واجب اپنے وقت سے فوت ہو جائے تو قضاکی دلیل کے بغیر قضا نہیں کیا جاتا ۔
تشریح :   حضرت امام ابو یوسف  فرماتے ہیں کہ عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں چاہے سورہ فاتحہ چھوڑ دے ، یا سورت ملانا چھوڑ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter