(٣١٨) وان کان وحدہ خافت حتما ولا یتخیر) ١ ہوالصحیح لان الجہر یختص أمابالجماعة حتما اوبالوقت فی حق المنفرد علی وجہ التخییر ولم یوجد احدہما (٣١٩)ومن قرأ فی العشاء فی الاوّلیین السورة ولم یقرأ بفاتحة الکتاب لم یعد فی الاخریین وان قرأ الفاتحة ولم یزد علیہا قرأفی
رسول اللہ ۖ ....فصلی رسول اللہ ۖ رکعتین ، ثم صلی الغداة فصنع کما کان یصنع کل یو م۔ ( مسلم شریف ، باب قضاء الصلوة الفائتة و استحبابتعجیل قضائھا ، ص ٢٣٨، نمبر ٦٨١ ١٥٦٢) اس حدیث میں ٫کما کان یصنع کل یوم ، کے اشارة النص سے استدلال فرمایا ہے کہ ہر دن فجر میںجہری قرأت کر تے تھے تو اس دن بھی سورج طلوع ہو نے کے بعد بھی جہری قرأت ہی کی ہے ، جس سے ثابت ہوا کہ رات کی نماز دن کو جماعت کے ساتھ قضا کرے تو جماعت کی ہیئت پر جہری قرأت کرے ۔
ترجمہ: (٣١٨) اور اگر اکیلا نماز پڑھ رہا ہو تو لازمی طور پر سری قرأت کرے اور اختیار نہیں ہو گا ، صحیح یہی ہے ۔
تشریح : رات کی نماز دن میں پڑھ رہا ہے ، اور اکیلا پڑھ رہا ہے ، جماعت کے ساتھ نہیں ہے تو یہ لازمی طور پر سری قرأت کرے۔ اگر وقت میںیعنی رات میں پڑھتا تو اسکو جہری اور سری دونوں قرأت کرنے کا اختیار ہو تا ۔
ھو الصحیح:۔کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ حضرت شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا کہ اس تنہا پڑھنے والے کو بھی اختیار ہو گا کہ چاہے تو آہستہ قرأت کرے اور چاہے تو زور سے قرأت کرے ۔ جس طرح یہ رات میں تنہا نماز پڑھتا تو اسکو دونوںقرأت کا اختیار ہو تا ۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ جہری قرأت یا تو صرف جماعت کے ساتھ خاص ہے یا منفرد کے حق میں اختیار کے ساتھ وقت کے ساتھ خاص ہے اور دونوں میں سے کوئی نہیں پا یا گیا ۔
تشریح : یہ دلیل عقلی ہے ، پہلے یہ گزر چکا ہے کہ رات کی نماز وقت میں جماعت کے ساتھ پڑھ رہاہو تو جہری قرأت کر نا واجب ہے ، اور تنہا پڑھ رہا ہو تو اسکو اختیار ہے چاہے جہری پڑھے یا سری پڑھے ، اس سے معلوم ہوا کہ جہری قرأت کر نے کی دو وجہ ہیں ، یا تو جماعت ہو ، یا وقت میں نماز پڑھ رہا ہو ، اور یہاں آدمی تنہا نماز پڑھ رہا ہے ، اسلئے جماعت بھی نہیں ہے اور رات کی نماز دن کو پڑھ رہا ہے اسلئے وقت بھی نہیں ہے ، اسلئے دونوں میں سے کوئی وجہ نہیں ہے اسلئے یہ لازمی طور پر سری قرأت کرے گا ۔
ترجمہ: (٣١٩) کسی نے عشاء کی پہلی دو رکعتوں میںدوسری سورت تو پڑھی لیکن سورہ فاتحہ نہیں پڑھی ، تو دوسری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ نہیں لو ٹائے گا ۔ اور اگر سورہ فاتحہ تو پڑھی لیکن دوسری سورت نہیں ملایا ، تو دوسری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھے گا اور اسکے بعد سورت ملائے گا ۔