Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

501 - 627
(٣١٨) وان کان وحدہ خافت حتما ولا یتخیر)  ١ ہوالصحیح  لان الجہر یختص أمابالجماعة حتما اوبالوقت فی حق المنفرد علی وجہ التخییر ولم یوجد احدہما   (٣١٩)ومن قرأ فی العشاء فی الاوّلیین السورة ولم یقرأ بفاتحة الکتاب لم یعد فی الاخریین  وان قرأ الفاتحة ولم یزد علیہا قرأفی 

رسول اللہ  ۖ ....فصلی رسول اللہ  ۖ رکعتین ، ثم صلی الغداة فصنع کما کان یصنع کل یو م۔ ( مسلم شریف ، باب قضاء الصلوة الفائتة و استحبابتعجیل قضائھا ، ص ٢٣٨، نمبر ٦٨١ ١٥٦٢) اس حدیث میں ٫کما کان یصنع کل یوم ، کے اشارة النص سے استدلال فرمایا ہے کہ ہر دن  فجر میںجہری قرأت کر تے تھے تو اس دن بھی سورج طلوع ہو نے کے بعد بھی جہری قرأت ہی کی ہے ، جس سے ثابت ہوا کہ رات کی نماز دن کو جماعت کے ساتھ قضا کرے تو جماعت کی ہیئت پر جہری قرأت کرے ۔
ترجمہ:   (٣١٨)  اور اگر اکیلا نماز پڑھ رہا ہو تو لازمی طور پر سری قرأت کرے اور اختیار نہیں ہو گا ، صحیح یہی ہے ۔ 
تشریح :  رات کی نماز دن میں پڑھ رہا ہے ، اور اکیلا پڑھ رہا ہے ، جماعت کے ساتھ نہیں ہے تو یہ لازمی طور پر سری قرأت کرے۔  اگر وقت میںیعنی رات میں پڑھتا تو اسکو جہری اور سری دونوں قرأت کرنے کا اختیار ہو تا ۔ 
ھو الصحیح:۔کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ حضرت شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا کہ اس تنہا پڑھنے والے کو بھی اختیار ہو گا کہ چاہے تو آہستہ قرأت کرے اور چاہے تو زور سے قرأت کرے ۔ جس طرح یہ رات میں تنہا نماز پڑھتا تو اسکو دونوںقرأت کا اختیار ہو تا ۔ 
ترجمہ:   ١   اسلئے کہ جہری قرأت یا تو صرف جماعت کے ساتھ خاص ہے یا منفرد کے حق میں اختیار کے ساتھ وقت کے ساتھ خاص ہے اور دونوں میں سے کوئی نہیں پا یا گیا ۔ 
تشریح :   یہ دلیل عقلی ہے ،  پہلے یہ گزر چکا ہے کہ رات کی نماز وقت میں جماعت کے ساتھ پڑھ رہاہو تو جہری قرأت کر نا واجب ہے ، اور تنہا پڑھ رہا ہو تو اسکو اختیار ہے چاہے جہری پڑھے یا سری پڑھے ، اس سے معلوم ہوا کہ جہری قرأت کر نے کی دو وجہ ہیں ، یا تو جماعت ہو ، یا وقت میں نماز پڑھ رہا ہو ، اور یہاں آدمی تنہا نماز پڑھ رہا ہے ، اسلئے جماعت بھی نہیں ہے اور رات کی نماز دن کو پڑھ رہا ہے اسلئے وقت بھی نہیں ہے ، اسلئے دونوں میں سے کوئی وجہ نہیں ہے اسلئے یہ لازمی طور پر سری قرأت کرے گا ۔
ترجمہ:   (٣١٩)  کسی نے عشاء کی پہلی دو رکعتوں میںدوسری سورت تو پڑھی لیکن سورہ فاتحہ نہیں  پڑھی ، تو دوسری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ نہیں لو ٹائے گا ۔ اور اگر سورہ فاتحہ تو پڑھی لیکن دوسری سورت نہیں ملایا ، تو دوسری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھے گا اور اسکے بعد سورت ملائے گا ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter