٣ وہٰذا لانہ مکمل لہ فیکون تبعا لہ (٣١٧) ومن فاتتہ العشاء فصلا ہا بعدطلوع الشمس ان امَّ فیہا جہر کما ) ١ فعل رسول اللّٰہ ۖ حین قضی الفجر غداة لیلة التعریس بجماعة
تے ہوئے کوئی تنہا آدمی نفل پڑھے تو اسکو زور سے اور آہستہ پڑھنے کا اختیار ہے(٢) حدیث میں زور سے پڑھنے کا اور اختیار کا ثبوت ہے ۔عن ابن عباس قال : کانت قراء ة النبی ۖ علی قدر ما یسمعہ من فی الحجرة و ھو فی البیت ۔ ( ابو داود شریف ، باب رفع الصوت بالقرأة فی صلوة اللیل ، ص ١٩٨، نمبر ١٣٢٧)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رات کی نفل میںقرأت زور سے بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ (٣) اور اس حدیث میںہے کہ پڑھنے والے کو اختیار ہے ۔ قال : سألت ُ عائشة کیف کانت قرأة النبی ۖ باللیل ؟ ]أ کان یسر بالقرأة أم یجھر ؟ [ فقالت : کل ذالک قد کان یفعل ، ربما اسر بالقرأة و ربما جھر فقلت : الحمد للہ الذی جعل فی الامر سعة ۔ ( ترمذی شریف ، باب ما جاء فی القرأة باللیل ، ص ١٠٠ ، نمبر ٤٤٩) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سری اور جہری دونوں قرأت کر سکتا ہے ۔
ترجمہ: ٣ اور یہ اسلئے ہے کہ نفل فرض کو مکمل کر نے والا ہے اسلئے نفل فرض کے تابع ہو گا ۔
تشریح : نوافل فرض کو مکمل کر نے کے لئے ہیں اسلئے وہ فرض کے تابع ہو نگے ۔اس حدیث میں اسکا ثبوت ہے فلقی ابو ھریرة ..۔...قال : انظرو ا ھل لعبدی من تطوع ، فان کان لہ تطوع قال : اتموا لعبدی فریضتہ من تطوعہ ، ثم توخذ الاعمال علی ذالکم ۔ ( سنن بھقی، باب ما روی فی اتمام الفریضة من التطوع فی الاخرة ، ج ثانی ، ص ٥٤٠، نمبر ٤٠٠٠) اس حدیث میں ہے کہ نوافل فرض کے مکمل کر نے کے لئے ہیں ۔ اور دن کے فرض میں قرأت سری ہے اسلئے اسکے نفل میں بھی قرأت سری ہو گی ، اور رات کے فرض میں قرأت جہری ہے اسلئے اسکے نفل میںبھی قرأت جہری کر سکتا ہے ۔ اور سری کا بھی اختیار ہے ۔
ترجمہ: (٣١٧) کسی کی عشاء فوت ہو جائے اور وہ اسکو سورج طلوع ہو نے کے بعد پڑھے، اگر اس میں امامت کر رہا ہو تو قرأت جہری کرے ۔
ترجمہ: ١ جیسا کہ رسول اللہ ۖ نے کیا جس وقت لیلة التعریس میں فجر جماعت کے ساتھ قضا کی ۔
تشریح : کسی کی عشاء فوت ہو گئی اور اسکو رات کے بجائے دن میں ادا کر رہا ہے ، تو اگر جماعت کے ساتھ ادا کر رہا ہے تو اس میں قرأت جہری کرے گا اور اگر اکیلا پڑھ رہا ہے تو قرأت سری کرے گا ۔
وجہ : (١) لیلة التعریس میں فجر قضا ہو گئی اور اسکو دن میں سورج نکلنے کے بعد ادا کیا تو قرأت جہری کی ہے جس سے معلوم ہوا کہ قرأت جہری کرے گا ۔لمبی حدیث کا ٹکڑا یہ ہے اور یہی صاحب ھدایہ کا مستدل حدیث ہے ۔عن ابی قتادہ قال: خطبنا