Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

499 - 627
خلاف لمالک والحجة علیہ ماروینا (٣١٦) ویجہر فی الجمعة والعیدین )  ١   لورودالنقل المستفیض بالجہر  ٢  وفی التطوع بالنہار یخافت وفی اللیل یتخیرا عتبارا بالفرض فی حق المنفرد

تشریح :   حضرت امام مالک  فرماتے ہیں کہ نویں ذی الحجہ کو مقام عرفہ میں ظہر اور عصر میں قرأت زور سے کرے گا ۔ لیکن ہمنے جو اثر بیان کیا کہ دن کی نماز گونگی ہے وہ ان پر حجت ہے کہ عرفہ میں  ظہر اور عصر کی نماز سری پڑھی جائیگی ۔ 
ترجمہ:   (٣١٦)  اور زور سے قرأت پڑھی جائے گی جمعہ اور عیدین میں ۔
ترجمہ:   ١   زور سے پڑھنے کے بارے میں مشہور حدیث وارد ہو نے کی وجہ سے ۔
تشریح :   جمعہ اور عیدین میںبھی زور سے قرأت کی جائے گی ، اسلئے کہ اسکے بارے میں بہت سی احادیث وارد ہیں۔
وجہ :    (١)عن النعمان بن بشیر قال : کان رسول اللہ  ۖ یقرأ فی العیدین و فی الجمعة (سبح اسم ربک الاعلی)و (ھل أتاک حدیث الغاشیة ) ( مسلم شریف ، باب ما یقرأ فی الجمعة ، ص ٣٥١، نمبر ٨٧٨  ٢٠٢٨ ابو داود شریف ، باب ما یقرأ فی الجمعة،ص ١٦٩، نمبر ١١٢٢)اس حدیث میں ہے کہ حضور ۖ عیدین میںاور جمعہ میں سبح اسم ، اور ھل اتاک حدیث الغاشیہ پڑھتے تھے  جس سے معلوم ہوا کہ اس میں قرأت زور سے کرتے تھے  تب ہی تو صحابہ نے حضور ۖ کی قرأت سنی ۔  (٢)قلت لعطا ء : ما یجھر بہ الصوت من القرأة من صلاة اللیل و النھار من المکتوبة ؟ قال : الصبح و الاولیین  العشاء ، و الاولیین المغرب ، و الجمعة اذا کانت فی جماعة ، فاما اذا کان المرأ وحدہ فلا ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب ما یجھر من القرأة فیہ من الصلوة ، ج ثانی ، ص ١٠٠ ، نمبر ٢٦٥٥ ) اس اثر میں  ہے کہ جمعہ میں بھی قرأت زور سے کی جائے گی ،اور اسی پر عیدین کو قیاس کیا جائے گا ۔
ترجمہ:   ٢   اور دن کے نفل میں آہستہ پڑھی جائے گی ، اور رات کی نفل میں اختیار ہے منفرد کے حق  میں فرض پر قیاس کر تے ہوئے ۔ 
تشریح :   دن میں نفل پڑھے تو قرأت آہستہ کر ے گا ، کیونکہ پہلے گزر چکا ہے کہ دن کی نماز گونگی ہے ، اثر یہ گزرا ۔عن الحسن قال : صلوة النھار عجماء و صلاة اللیل تسمع اذنیک ۔(مصنف ابن ابی شیبة ، ١٣٩ فی قرأة النھار کیف ھی فی الصلوة ،ج اول ، ص ٣٢٠، نمبر ٣٦٦٤ مصنف عبد الرزاق باب قرأة النہار ، ج ثانی ، ص ٤٩٣ ، نمبر ٤١٩٩))  اس اثر میں ہے کہ دن میں جو بھی نماز ہو اس میں آہستہ قرأت کی جائے گی ۔اور رات میں نفل پڑھے تو اسکو اختیار ہے چاہے زور سے پڑھے ، چاہے آہستہ پڑھے۔
وجہ:  (١) اسکی ایک وجہ تو یہ ہے کہ کوئی تنہا آدمی رات میں فرض پڑھے تو اسکو زور سے اور آہستہ پڑھنے کا اختیار ہے ، اسی پر قیاس کر 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter