خلاف لمالک والحجة علیہ ماروینا (٣١٦) ویجہر فی الجمعة والعیدین ) ١ لورودالنقل المستفیض بالجہر ٢ وفی التطوع بالنہار یخافت وفی اللیل یتخیرا عتبارا بالفرض فی حق المنفرد
تشریح : حضرت امام مالک فرماتے ہیں کہ نویں ذی الحجہ کو مقام عرفہ میں ظہر اور عصر میں قرأت زور سے کرے گا ۔ لیکن ہمنے جو اثر بیان کیا کہ دن کی نماز گونگی ہے وہ ان پر حجت ہے کہ عرفہ میں ظہر اور عصر کی نماز سری پڑھی جائیگی ۔
ترجمہ: (٣١٦) اور زور سے قرأت پڑھی جائے گی جمعہ اور عیدین میں ۔
ترجمہ: ١ زور سے پڑھنے کے بارے میں مشہور حدیث وارد ہو نے کی وجہ سے ۔
تشریح : جمعہ اور عیدین میںبھی زور سے قرأت کی جائے گی ، اسلئے کہ اسکے بارے میں بہت سی احادیث وارد ہیں۔
وجہ : (١)عن النعمان بن بشیر قال : کان رسول اللہ ۖ یقرأ فی العیدین و فی الجمعة (سبح اسم ربک الاعلی)و (ھل أتاک حدیث الغاشیة ) ( مسلم شریف ، باب ما یقرأ فی الجمعة ، ص ٣٥١، نمبر ٨٧٨ ٢٠٢٨ ابو داود شریف ، باب ما یقرأ فی الجمعة،ص ١٦٩، نمبر ١١٢٢)اس حدیث میں ہے کہ حضور ۖ عیدین میںاور جمعہ میں سبح اسم ، اور ھل اتاک حدیث الغاشیہ پڑھتے تھے جس سے معلوم ہوا کہ اس میں قرأت زور سے کرتے تھے تب ہی تو صحابہ نے حضور ۖ کی قرأت سنی ۔ (٢)قلت لعطا ء : ما یجھر بہ الصوت من القرأة من صلاة اللیل و النھار من المکتوبة ؟ قال : الصبح و الاولیین العشاء ، و الاولیین المغرب ، و الجمعة اذا کانت فی جماعة ، فاما اذا کان المرأ وحدہ فلا ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب ما یجھر من القرأة فیہ من الصلوة ، ج ثانی ، ص ١٠٠ ، نمبر ٢٦٥٥ ) اس اثر میں ہے کہ جمعہ میں بھی قرأت زور سے کی جائے گی ،اور اسی پر عیدین کو قیاس کیا جائے گا ۔
ترجمہ: ٢ اور دن کے نفل میں آہستہ پڑھی جائے گی ، اور رات کی نفل میں اختیار ہے منفرد کے حق میں فرض پر قیاس کر تے ہوئے ۔
تشریح : دن میں نفل پڑھے تو قرأت آہستہ کر ے گا ، کیونکہ پہلے گزر چکا ہے کہ دن کی نماز گونگی ہے ، اثر یہ گزرا ۔عن الحسن قال : صلوة النھار عجماء و صلاة اللیل تسمع اذنیک ۔(مصنف ابن ابی شیبة ، ١٣٩ فی قرأة النھار کیف ھی فی الصلوة ،ج اول ، ص ٣٢٠، نمبر ٣٦٦٤ مصنف عبد الرزاق باب قرأة النہار ، ج ثانی ، ص ٤٩٣ ، نمبر ٤١٩٩)) اس اثر میں ہے کہ دن میں جو بھی نماز ہو اس میں آہستہ قرأت کی جائے گی ۔اور رات میں نفل پڑھے تو اسکو اختیار ہے چاہے زور سے پڑھے ، چاہے آہستہ پڑھے۔
وجہ: (١) اسکی ایک وجہ تو یہ ہے کہ کوئی تنہا آدمی رات میں فرض پڑھے تو اسکو زور سے اور آہستہ پڑھنے کا اختیار ہے ، اسی پر قیاس کر