١٣ واسأل اﷲ تعالی ان یوفقنی لاتمامھا،ویختم لی بالسعادة بعداختتامھا ١٤ حتی ان من سمت ھمتہ الی مزیدالوقوف یرغب فی الاطول والاکبرومن اعجلہ الوقت عنہ یقتصرعلیالاصغروالاقصر۔وللناس فیمایعشقون مذاھب۔والفن خیرکلہ۔ ١٥ ثم سألنی بعض اخوانی ان املی علیھم المجموع الثانی، فافتتحتہ مستعینا باللہ تعالی فی تحریر ما اقاولہ متضرعا
تشریح : فرماتے ہیں کہ یہ کتاب اتنی لمبی نہیں کرونگا تاہم اس میں احادیث اور قرآن کے مضبوط دلائل ہونگے ،اور دلیل عقلی بھی ہوگی ،اور ایسے اصول ہونگے جن پر بہت سے جزئیاتی مسائل متفرع ہو سکین گے ۔البتہ لمبی باتیں اور زائد باتیں نہیں ہونگی ۔
لغت :۔ عیون : عین کی جمع ہے ۔آنکھ ،یہاں عمدہ اور مضبوط روایت مراد ہے ۔الروایة : روایت سے مراد حدیث اور قرآن ہیں۔متون : متن کی مع ہے ،پیٹھ ،یہاں ، مضبوط ،مراد ہے ۔الدرایة : دری،یدری سے مشتق ہے ۔جاننا ۔یہاں مراد ہے عقلی دلائل ۔متون الدرایةکاترجمہ ہے مضبوط عقلی د لائل ۔معرضا : اعراض کرتے ہوئے ۔اسھاب : سھب سے مشتق ہے۔لمبی گفتگو،لمبی بات ۔ینسحب : سحب سے مشتق ہے ۔گھسیٹھنا،متفرع کرنا ۔یعنی ان اصولوں پر جزئیات متفرع ہوسکتے ہوں۔فصول : فصل کی جمع ہے ۔یہ باب سے چھوٹا ہوتا ہے اور اس میں ایک قسم کے مضامین ہو تے ہیں ۔
ترجمہ: ١٣ اللہ تعالیٰ سے اسکو پورا کرنے کی توفیق مانگتا ہوں ۔اور اسکے ختم ہونے کے بعد میرا بھی خاتمہ بالخیر ہو ۔
لغت :۔السعادة : نیک بختی ۔یہاں مراد ہے کہ خاتمہ بالخیر ہو ۔
ترجمہ: ١٤ یہاں تک کہ جسکی ہمت زیادہ واقفیت کی طرف بلند ہو انکو لمبی اور بڑی شرح کی طرف رغبت کرنی چاہئے ۔اور جنکو وقت کی تنگی ہو وہ چھوٹے اور مختصر کی طرف توجہ دیں ۔اور لوگوں کی پسند مختلف ہیں ۔او ر دونوں فن ہی خیر ہیں ۔
تشریح : جنکو گہری واقفیت کی ہمت ہو وہ میری لمبی شرح ،کفایة المنتھی دیکھیں۔اور جنکے پاس وقت کم ہو وہ میری مختصر شرح ،ھدایہ ، دیکھیں ۔دونوں طریقے ہی خیر کی چیز ہیں البتہ ہر ایک کی پسند الگ الگ ہیں ۔جنکو جو شرح پسند ہو اسکو دیکھ لیں ۔
لغت :۔۔سمت : سمو سے مشتق ہے ۔بلند ہونا ۔اعجلہ الوقت : جسکو وقت جلدی کرے ۔یعنی جسکے پاس وقت کم ہو ۔یقتصر : قصر سے مشتق ہے ۔اکتفاء کرے ۔و للناس فیما یعشقون مذاھب : لوگ جن چیزوں سے عشق رکھتے ہیں انکے مختلف مذھب ہیں۔یہ شعر کا ایک ٹکڑا ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ ہر ا یک کی پسند الگ الگ ہے ۔
ترجمہ: ١٥ پھر کیا تھا میرے بعض دوست بھی مجھسے مجموع ثانی یعنی ھدایہ لکھوانیکی درخواست کرنے لگے ۔پس انکی درخواست کے مطابق اللہ کی مدد سے اسکا لکھنا شروع کر رہا ہوں ۔
تشریح : جب میں نے ھدایہ لکھنے کا ارادہ کیا تو میرے کچھ دوست بھی اسکو لکھوانے کی درخواست کرنے لگے ۔چنانچہ اللہ کی